بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
توبہ واستغفار (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اللہ کی قسم! میں روزانہ ستر بار سے زیادہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں“۔ (صحیح بخاری)
-
”اغرالمزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ اے لوگو توبہ کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو بلاشبہ میں اس کی طرف روزانہ سو (۱۰۰) مرتبہ توبہ کرتا ہوں“۔ (صحیح مسلم)
-
صحیح مسلم اور سنن نسائی کی روایت میں سو بار استغفار کا ذکر ہے۔ بظاہر دونوں میں تضاد ہے، لیکن فی الحقیقت تضاد نہیں ہے اس لئے کہ سو (۱۰۰) کے عدد میں ستر داخل ہے اور رسول اللہ ﷺ گناہوں سے معصوم تھے، آپ ﷺ کا استغفار عبودیت کا اظہار تھا۔
-
اللہ تعالیٰ بندہ کی توبہ قبول فرماتا ہے :-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ جب کوئی شخص گناہ کا اقرار کرتا ہے بعد ازاں توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
سورج مغرب سے نکلنے کے بعد توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا :-
-
”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ دن بھر گناہ کرنے والے تائب ہو جائیں اور دن کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تا کہ رات بھر گناہ کرنے والے تائب ہو جائیں، یہاں تک کہ سورج مغرب کی جانب سے طلوع پذیر ہو گا، یعنی جب قیامت آئے گی تو اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہو جائے گا“۔ (صحیح مسلم)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس ایمان دار شخص نے مغرب کی جانب سے سورج طلوع ہونے سے پہلے توبہ کی تو اللہ اسکی توبہ قبول فرمائے گا“۔ (صحیح مسلم)
نزع کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی :-
-
”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ قبول فرماتا ہے جب تک سانس حلق میں نہ آجائے“۔ (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ)
بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے محبت و شفقت رکھتا ہے اور جب کبھی کوئی توبہ کرتا ہے تو وہ اُسے بخش دیتا ہے۔ لیکن ہم لوگ دنیا کی رنگینیوں میں اتنے ڈوبے ہوئے، دولت کمانے میں اتنے مصروف کے ہم انتہائی اہم کام کو مسلسل کل پہ رکھتے ہیں، وہ کل تو نہیں آتی البتہ موت کا فرشتہ آجاتا ہے۔ پھر انسان کے پاس سوائے پچھتانے کے کچھ نہیں ہوتا۔ ہم تو رات کو توبہ کئے بغیر ایسے بے فکر سو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس اسکی کیا گارنٹی ہے کہ کل کا سورج مشرق ہی سے نکلے گا؟ روزانہ اپنے قیمتی وقت سے تھوڑا وقت استغفار کیلئے بھی دیں، یہ ہمارا سب سے قیمتی اثاثہ ہے۔ زندگی کا جو لمحہ گزر گیا اب وہ کبھی نہیں آئیگا اور وقت مسلسل گزر رہا ہے، نمازوں کی پابندی کریں، دوسروں کو بھی ترغیب دیں۔ یہ قرآن و احادیث کی سلائیڈ کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچائیں، یہ ہر مسلمان کا کام ہے۔ اللہ تمام اُمت مسلمہ کو ہدایت عطا فرمائے۔ آمین۔