جہاد کی فضیلت

اشاعت: 15-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

جہاد کی فضیلت (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، رسول اللہ نے فرمایا :- جنت میں سو (۱۰۰) درجے ہیں۔ جو اللہ نے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کیلئے تیار کئے ہیں۔ دو (۲) درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے“۔ (صحیح بخاری)

  • ”حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ لوگوں میں خطبہ فرمانے کیلئے کھڑے ہوئے تو فرمایا :- اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ پر ایمان لانا تمام عملوں میں افضل عمل ہے۔ پس ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا، یا رسول اللہ یہ بتلائیے اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤ تو کیا مجھ سے میری خطائیں معاف کر دی جائیں گی؟ تو اس سے رسول اللہ نے فرمایا :- ہاں اگر تو اللہ کی راہ میں شہید ہو گیا، جب کہ تو ثابت قدم رہنے والا، ثواب کی نیت رکھنے والا، آگے بڑھ کر حملہ کرنے والا ہو نہ کہ پیٹھ دکھانے والا۔ پھر رسول اللہ نے فرمایا :- تو نے کیسے کہا تھا؟ اس نے پھر سوال دہرایا، یہ فرمائیے، اگر میں اللہ کی راہ میں شہید ہو جاؤں تو کیا مجھ سے میری غلطیاں معاف کر دی جائیں گی؟ تو رسول اللہ نے فرمایا :- ہاں ۔ جب کہ تو ثابت قدمی ۔ خالص نیت سے آگے بڑھ کر لڑنے والا ہو، پیٹھ پھیر کر بھاگنے والا نہ ہو (تو یہ شہادت گناہوں کا کفارہ ہوگی) مگر قرض (معاف نہیں ہوگا) اسلئے کہ جبرئیل علیہ السلام نے مجھ سے یہ بات کہی ہے“۔ (صحیح مسلم)

فوائد :- قرض سے مراد وہ قرض ہے جو طاقت رکھنے کے باوجود ادا نہ کیا گیا ہو۔ تاہم جس قرض کی بابت ادائیگی کی صحیح نیت ہو لیکن عدم استطاعت کی وجہ سے ادائیگی میں تاخیر ہو گئی حتی کہ وہ موت سے ہمکنار ہو گیا تو اللہ کے فضل و کرم سے اُمید ہے کہ وہ معاف فرما دے گا اور قرض خواہ کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے راضی فرما لے گا۔

مسلمانوں نے جب تک جہاد کا علم بلند رکھا، انکی عظمت و رفعت کا پھریرا چار دانگ عالم میں لہراتا رہا اور انکی تہذیب وثقافت کا سکہ رواں رہا۔ جب سے مسلمانوں نے جہاد کے اس اہم ترین فریضے کو فراموش کیا ہے وہ ذلت میں گر گئے اور انکی بے مثال تہذیب بھی دنیا دنیا کی نظروں میں بے توقیر ٹھہری، آج مسلمان ساری دنیا میں ذلیل و خوار اور اُنکی تہذیب بھی کھوٹا سکہ، جسے وہ خود بھی اپنانے کو تیار نہیں، ذلت و پستی کی یہ گھٹا پوری دنیا کے مسلمانوں پر چھائی ہوئی ہے لیکن اسکو دور کرنے اور اپنی عظمت رفتہ کے حاصل کرنے کیلئے ان کے اندر کوئی تڑپ، لگن اور جذبہ نہیں۔ کیوں؟ اسلئے کہ اسکا صرف ایک ہی راستہ اور ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے جہاد کا راستہ اور طریقہ۔ جسے آج کا سہل پسند اور عیش کوش مسلمان اختیار کرنے کیلئے تیار نہیں اور مسلمان ممالک کی حکومتیں بھی اسلامی جذبات سے عاری بلکہ اسلام کے دشمن ہیں۔ اسلئے کفار دندنا رہے ہیں، انہوں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا ہوا ہے اور انکا حقہ بند کر رکھا ہے لیکن پورے عالم اسلام پر سکوت مرگ طاری ہے۔ ہندو صلیبی طاقتیں اور صہیونی سازشیں اپنا کام کر رہی ہیں، لیکن مسلمان ملکوں کے حکمران داد عیش دینے میں مصروف ہیں بلکہ اپنے اپنے ملکوں سے رہے سہے اسلامی نقوش کو بھی ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ بے حیائی کو رواج دینے میں تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Virtue of Jihad (In the Light of Hadith)

Ranks of Those Who Strive in the Path of Allah

Abu Hurairah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah said:
“In Paradise there are one hundred درجات which Allah has prepared for those who strive in His path. The distance between two درجات is like the distance between the heaven and the earth.”
(Sahih al-Bukhari)

Martyrdom and Forgiveness of Sins

Abu Qatadah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah stood to deliver a sermon among the people and said:
“Striving in the path of Allah and having faith in Allah are among the most excellent deeds.”

A man stood and asked:
“O Messenger of Allah , tell me — if I am martyred in the path of Allah, will my sins be forgiven?”

The Messenger of Allah replied:
“Yes, if you are martyred in the path of Allah while remaining steadfast, seeking reward, advancing forward, and not turning your back.”

He then said:
“What did you ask?”

The man repeated his question. The Prophet again replied:
“Yes — provided that you remain steadfast, sincere in intention, and advance without retreating. Then martyrdom will expiate sins — except for debt, for Jibril عليه السلام informed me of this.”
(Sahih Muslim)

Explanation

The reference to debt applies to a debt that a person had the ability to repay but neglected. However, if someone sincerely intended to repay a debt but was unable to do so due to lack of means and died before repayment, then there is hope, by the grace and mercy of Allah, that it may be forgiven and that the creditor will also be compensated by Allah.

Scholarly Reflection

Classical Islamic teachings explain that striving in the path of Allah encompasses sincerity of faith, moral discipline, sacrifice, and dedication to justice and righteousness. Scholars have described jihad in a comprehensive sense that includes self-reform, moral striving, intellectual effort, and defending truth under legitimate authority.

The strength and decline of Muslim societies have often been linked, in religious scholarship, to their commitment to faith, knowledge, justice, unity, and adherence to the Quran and authentic Sunnah.

May Allah guide us to sincerity and adherence to His guidance. Ameen.