صدقہ فطر کے مسائل

اشاعت: 07-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
sadqa fitr ke masail hadith ki roshni mein, zakat ul fitr ki miqdar aur adaigi ka waqt

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

صدقہ فطر کے مسائل (احادیث کی روشنی میں)

صدقہ فطر فرض ہے۔ صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کرنا چاہئے ورنہ عام صدقہ شمار ہوگا :-

” حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے صدقہ فطر روزے دار کو بیہودگی اور فحش باتوں سے پاک کرنے کیلئے نیز محتاجوں کے کھانے کا انتظام کرنے کیلئے فرض کیا ہے۔ جس نے نماز عید سے پہلے ادا کیا اس کا صدقہ فطر ادا ہو گیا اور جس نے نماز عید کے بعد ادا کیا اس کا صدقہ فطر عام صدقہ شمار ہو گیا“۔ (سنن ابن ماجه)

صدقہ فطر ہر مسلمان مرد، عورت، آزاد، غلام، چھوٹے، بڑے سب پر فرض ہے :-

” حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے فطر کی زکوۃ آزاد یا غلام، مرد یا عورت تمام مسلمانوں پر ایک صاع کھجور یا جو کی فرض کی تھی“۔ (صحیح بخاری)

” حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ بواسطہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی نے مکہ کی گلیوں میں ایک منادی کو اعلان کرنے کیلئے بھیجا کہ صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت آزاد ہو یا غلام چھوٹا ہو یا بڑا دو مد (نصف صاع) گیہوں میں سے اور اس کے سوا دوسری کھانے کی چیزوں میں سے ایک صاع “۔ (جامع ترمذی)

وضاحت :۔ صدقہ فطر کی فرضیت یہاں تک ہے کہ یہ اس پر بھی فرض ہے جس کے پاس ایک روز کی خوراک سے زائد غلہ یا کھانے کی چیز موجود ہے۔ اس صدقہ کی وجہ سے اللہ پاک دینے والے کے روزوں کو پاک کر دے گا، اور غریب کو اس سے بھی زیادہ دے گا جتنا کہ اس نے دیا ہے۔

صدقہ فطر کی مقدار ایک صاع ہے جو پونے تین سیر یا ڈھائی کلو گرام کے برابر ہے :-

” حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے رمضان کا صدقہ فطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو‘ غلام‘ مرد‘ عورت‘ آزاد‘ چھوٹے بڑے ہر مسلمان پر فرض کیا ہے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

گیہوں‘ چاول‘ جو‘ کھجور‘ منقہ یا پنیر میں سے جو چیز زیر استعمال ہو وہی دینی چاہئے :-

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم صدقہ فطر ایک صاع غلہ یا ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو یا ایک صاع منقہ یا ایک صاع پنیر دیا کرتے تھے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

صدقہ فطر ادا کرنے کا وقت آخری روزہ افطار کرنے کے بعد شروع ہوتا ہے‘ لیکن عید سے ایک یا دو دن پہلے ادا کیا جا سکتا ہے : ” حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ گھر کے چھوٹے بڑے تمام افراد کی طرف سے صدقہ فطر دیتے تھے حتی کہ میرے بیٹوں کی طرف سے دیتے تھے اور ابن عمر رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو دیتے تھے جو قبول کرتے اور عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے دیتے تھے“ ۔ (صحیح بخاری)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Issues Related to Sadaqat al-Fitr — In the Light of Hadith

Sadaqat al-Fitr Is Obligatory, and It Should Be Given Before the Eid Prayer; Otherwise It Is Considered Ordinary Charity:

“Hazrat Ibn ‘Abbas رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah made Sadaqat al-Fitr obligatory in order to purify the fasting person from vain and obscene speech and to provide food for the needy. Whoever pays it before the Eid prayer, his Sadaqat al-Fitr is fulfilled; and whoever pays it after the Eid prayer, it is regarded as ordinary charity.” (سنن ابن ماجه)

Sadaqat al-Fitr Is Obligatory upon Every Muslim—Male and Female, Free and Slave, Young and Old:

“Hazrat ‘Abdullah ibn ‘Umar رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah prescribed the Zakat of Fitr as one صاع (Sā‘ — a standard measure) of dates or barley upon every Muslim—free or slave, male or female.” (صحیح بخاری)

“Hazrat ‘Amr ibn Shu‘ayb رضي الله عنه narrates from his father and grandfather that the Prophet sent a caller into the streets of Makkah to announce that Sadaqat al-Fitr is obligatory upon every Muslim—male or female, free or slave, young or old: two مُدّ (half a صاع) of wheat, and one صاع of other food items.” (جامع ترمذی)

Clarification:
The obligation of Sadaqat al-Fitr extends even to a person who possesses food in excess of one day’s sustenance. Through this charity, Allah purifies the fasts of the giver and grants the poor even more benefit than what has been given.

The Prescribed Amount of Sadaqat al-Fitr Is One Ṣā‘ (Approximately 2.5 kg or about three-quarters of a seer):

“Hazrat Ibn ‘Umar رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah made the Sadaqat al-Fitr of Ramadan one صاع of dates or one صاع of barley obligatory upon every Muslim—slave or free, male or female, young and old.” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

It Should Be Given from Commonly Used Staple Foods such as Wheat, Rice, Barley, Dates, Raisins, or Cheese:

“Hazrat Abu Sa‘id رضي الله عنه says: We used to give Sadaqat al-Fitr as one صاع of grain, or one صاع of dates, or one صاع of barley, or one صاع of raisins, or one صاع of cheese.” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

The Time for Giving Sadaqat al-Fitr Begins After the Last Fast Is Broken, but It May Be Given One or Two Days Before Eid:

“Hazrat Nafi‘ رضي الله عنه narrates that Ibn ‘Umar رضي الله عنه used to give Sadaqat al-Fitr on behalf of all the members of his household—young and old—even on behalf of my sons. He would give it to those who accepted it and would pay it one or two days before Eid al-Fitr.” (صحیح بخاری)