روزہ میں ناجائز اور روزہ توڑنے والے امور

اشاعت: 09-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
roza torne wale amoor hadith ki roshni mein, roza ghaltiyan, qaza aur kafara ki rehnumai

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

روزہ میں ناجائز اور روزہ توڑنے والے امور (احادیث کی روشنی میں)

غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، گالی دینا، لڑائی جھگڑا کرنا روزے کی حالت میں بدرجہ اولیٰ ناجائز ہیں :-

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا :- جو شخص (روزہ رکھ کر) جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کو اس بات کی کوئی حاجت نہیں کہ وہ کھانا پینا چھوڑ دے “۔ (صحیح بخاری)

روزے میں انسان کو کھانے پینے اور ازواجی تعلقات سے منع کیا گیا ہے، حالانکہ یہ جائز و حلال ہے۔ اگر روزے میں ان جائز و حلال کے استعمال سے روزہ ٹوٹ جائے تو وہ باتیں جو کے اسلام میں ہے ہی حرام، اُن کے کرنے سے کیا روزہ کا کیا بچتا ہوگا؟ اسلئے جس اللہ کے حکم سے حلال چھوڑ رہے ہیں اُسی کے حکم سے حرام سے بھی رُک جائیں۔

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا :- روزہ ڈھال ہے لہذا جب کوئی روزہ رکھے تو فحش باتیں نہ کرے، بیہودہ پن نہ دکھائے۔ اگر کوئی دوسرا شخص روزہ دار سے گالی گلوچ کرے یا جھگڑے تو روزہ دار کہہ دے (بھائی) میں روزے سے ہوں (تمہاری باتوں کا جواب نہیں دوں گا) “۔ (صحیح بخاری)

اگر کوئی شخص کوئی بے حیائی یا بُرائی کا کام کرنے لگے اور ایسے میں کوئی آجائے تو وہ رک جاتا ہے، یا دوسرے الفاظ میں وہ کوئی بُرا کام تب نہیں کرنا چاہتا کہ جب کوئی دیکھ رہا ہو۔ یہ ہم سب کو معلوم ہے اللہ ہمیں ہر وقت دیکھ رہا ہے، لیکن یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے کہ احساس اتنا کمزور ہے کہ ہمیں بُرائی سے نہیں روک سکتا۔ غور کریں! تو روزہ اس بات کی پریکٹس کرواتا ہے، آپ بھوک و پیاس سے بے قرار ہوں، اور ایسے میں کسی جگہ پر تنہائی مل جائے اور کوئی دیکھنے والا نہ ہو، اور وہاں مشروبات اور کھانا بھی ہو لیکن آپ کھانا اور پینے سے رُک جائیں گے۔ کیوں؟ کہ روزہ ٹوٹ جائے گا۔ اگرچہ کوئی نہیں دیکھ رہا تھا لیکن آپ جانتے ہیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے۔ کتنا شاندار احساس ہے۔ اسی طرح آپ بُرائی پر آمادہ ہیں، وہاں کوئی نہیں دیکھ رہا تو صرف اسی وجہ سے رک جائیے کہ اللہ دیکھ رہا ہے! اسی پریکٹس کو عام دنوں میں بھی جاری رکھیں اور یاد رکھیں ہر بُرائی سے روزے کی بجائے ایمان کو خطرہ ہے، مختلف بُرائیوں سے ایمان کمزور ہوتا ہے، اور حتیٰ کے بعض اوقات انسان اس سے محروم ہو جاتا ہے۔

روزے کی حالت میں کلی کرتے وقت ناک میں اسطرح پانی ڈالنا جائز نہیں کہ حلق تک پہنچنے کا خدشہ ہو :-

” حضرت لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے کہا یا رسول اللہ ! وضو کے بارے میں مجھے کچھ بتائیے۔ نبی کریم نے فرمایا وضو پورا کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو، اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو، لیکن اگر روزہ ہو تو پھر ایسا نہ کرو “۔ (سُنن ابو دائد ، جامع ترمذی)

قَصداً قے کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اس پر قضا واجب ہے :-

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ نے فرمایا :- جس روزہ دار کو خود بخود قے آئے اس پر قضا نہیں ہے البتہ جو روزہ دار قَصداً (جان بوجھ کر) قے لائے وہ قضا روزے رکھے“۔ (سنن ابو داؤد ، سنن ابن ماجه)

روزہ میں جماع کرنے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے۔ اس پر کفارہ بھی ہے اور قضا بھی۔ روزہ کا کفارہ ایک غلام آزاد کرنا یا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا یا ساٹھ محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے :-

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک صحابی آئے اور کہنے لگے یا رسول اللہ میں ہلاک ہو گیا، نبی کریم نے پوچھا کیا بات ہے؟ اس نے کہا میں روزے کی حالت میں بیوی سے صحبت کر بیٹھا ہوں۔ رسول اللہ نے پوچھا کیا تو ایک غلام آزاد کر سکتا ہے؟ اس نے کہا نہیں۔ رسول اللہ نے پھر دریافت فرمایا کیا دو ماہ کے مسلسل روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے عرض کیا ”نہیں“۔ نبی کریم نے پھر پوچھا کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے عرض کیا ”نہیں“۔ نبی اکرم نے فرمایا اچھا بیٹھ جاؤ۔ نبی اکرم تھوڑی دیر کے ہم ابھی اسی حالت میں بیٹھے تھے کہ حضور اکرم کی خدمت میں ایک کھجوروں کا عرق لایا گیا (عرق بڑے ٹوکرے کو کہا جاتا ہے)۔ نبی اکرم نے فرمایا مسئلہ پوچھنے والا کہاں ہے؟ اس نے کہا میں حاضر ہوں۔ نبی کریم نے فرمایا یہ کھجوریں لے اور صدقہ کر دے۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا صدقہ اپنے سے زیادہ محتاج لوگوں کو دوں؟ واللہ مدینہ کی ساری آبادی میں کوئی گھر میرے گھر سے زیادہ محتاج نہیں۔ رسول اللہ ہنس دیئے یہاں تک کہ نبی کریم کے دانت مبارک نظر آنے لگے۔ نبی کریم نے فرمایا اچھا جاؤ اپنے گھر والوں کو ہی کھلا دوُ“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

Unlawful Acts and Actions That Break the Fast — In the Light of Hadith

Backbiting, Lying, Abusive Speech, and Quarreling Are Even More Prohibited While Fasting:

“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘Whoever does not abandon false speech and acting upon it while fasting, Allah has no need for him to leave his food and drink.’” (Sahih Bukhari)

In fasting, a person is prohibited from eating, drinking, and marital relations—even though these are lawful and permissible. If engaging in these lawful matters breaks the fast, then what remains of the fast when a person commits actions that are already حرام (unlawful) in Islam? Therefore, just as one abstains from lawful things by Allah’s command, one must also abstain from unlawful actions by His command.

“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘Fasting is a shield; therefore, when one of you is fasting, he should not engage in obscene speech nor behave foolishly. If someone abuses him or quarrels with him, he should say: “I am fasting.”’” (Sahih Bukhari)

Often, when a person intends to commit an indecent or sinful act and someone arrives, he stops—because he does not wish to commit it in front of others. We all know that Allah sees us at all times, yet due to the weakness of our iman, this awareness is often not strong enough to prevent wrongdoing. Reflect: fasting trains a person in this awareness. You may be overwhelmed by hunger and thirst, alone in a place with food and drink available and no one watching—yet you refrain. Why? Because the fast would break. Even though no human sees you, you know Allah sees you. What a profound realization! In the same way, whenever you are inclined toward sin in solitude, stop yourself for the sake of Allah’s watchfulness. Continue this practice beyond Ramadan. Remember: it is not merely the fast that is endangered by sins, but iman itself. Repeated sins weaken faith and, at times, may even deprive a person of it.

While Fasting, One Should Not Sniff Water Deeply into the Nose During Rinsing if There Is Fear It May Reach the Throat:

“Hazrat Laqit ibn Sabrah رضي الله عنه narrates: I said, ‘O Messenger of Allah , tell me about wudu.’ The Prophet said: ‘Perform wudu thoroughly, pass water between the fingers, and draw water well into the nose—except when you are fasting; then do not do so.’” (Sunan Abu Dawood, Jami‘ Tirmizi)

Deliberately Inducing Vomiting Breaks the Fast and Requires Qada:

“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘If a fasting person vomits unintentionally, no Qada is required; but whoever deliberately induces vomiting must make up the fast.’” (Sunan Abu Dawood, Sunan Ibn Majah)

Intercourse While Fasting Invalidates the Fast and Requires Both Kaffarah and Qada:

The Kaffarah for breaking a fast through intercourse is: freeing a slave, or fasting two consecutive months, or feeding sixty needy persons.

“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه narrates: We were sitting with the Messenger of Allah when a man came and said, ‘O Messenger of Allah , I am ruined!’ The Prophet asked, ‘What happened?’ He said, ‘I had relations with my wife while fasting.’ The Messenger of Allah asked, ‘Can you free a slave?’ He replied, ‘No.’ He asked, ‘Can you fast for two consecutive months?’ He replied, ‘No.’ He asked, ‘Can you feed sixty poor people?’ He replied, ‘No.’

The Prophet said, ‘Then sit down.’ After a while, a basket of dates was brought to the Prophet . He said, ‘Where is the questioner?’ The man replied, ‘Here I am.’ The Prophet said, ‘Take these dates and give them in charity.’ The man said, ‘Should I give them to those poorer than me? By Allah, there is no household in Madinah poorer than mine.’

The Messenger of Allah smiled until his blessed teeth became visible and said, ‘Then go and feed your family with them.’” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)