بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اہل جہنم کے مشروبات (قرآن و احادیث کی روشنی میں)
(۱) مَاءً حَمِیمًا (کھولتا ہوا پانی) تھوہر کھانے کے بعد جہنمیوں کو کھولتا ہوا پانی پینے کو دیا جائے گا:۔
”جہنمی یہی (تھوہر کا درخت) کھائیں گے اور اس سے اپنا پیٹ بھریں گے کھانے کے بعد پینے کے لئے انہیں کھولتا ہوا پانی ملے گا اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی نارِ جہنم کی طرف ہوگی (جہاں سے پانی پلانے کے لئے لائے گئے تھے)۔“ (الصافات ۔ ۶۶، ۶۷)
معلوم ہوتا ہے کہ زقوم کا درخت اور کھولتے پانی کے چشمے دوزخ کے کسی خاص علاقے میں ہوں گے جب جہنمیوں کو بھوک اور پیاس لگے گی تو انہیں اس مقام کی طرف ہانک دیا جائے گا اور پھر دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف واپس لایا جائے گا۔ واللہ اعلم
تھوہر کھانے کے بعد جہنمی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح کھولتا ہوا پانی پیئیں گے:۔
”پھر اے گمراہ ہونے والو! اور جھٹلانے والو! تم تھوہر کا درخت کھانے والے ہو اسی سے تم پیٹ بھرو گے اور اُوپر سے کھولتا ہوا پانی تونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح پیو گے قیامت کے روز یہ ہو گا سامانِ ضیافت (جھٹلانے والوں)۔“ (الواقعہ ۔ ۵۱ ، ۵۶)
کھولتا پانی پیتے ہی، جہنمیوں کی آنتیں کٹ جائیں گی:۔
”(پرہیز گار لوگوں سے) جس جنت کا وعدہ کیا گیا اس کی شان یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے پانی کی ایسے دودھ کی جسکے مزے میں ذرہ فرق نہ آیا ہو ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لئے لذیذ ہو اور ایسے شہد کی جو صاف و شفاف ہو جنت میں ان کے لئے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف بخشش (کیا یہ جنتی) اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو ہمیشہ جہنم میں رہے گا جہاں جہنمیوں کو ایسا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا۔“ (محمد ﷺ ۔ ۱۵)
(۲) مَاءً صَدِیدًا (زخموں سے بہنے والی پیپ اور خون) جہنمیوں کے زخموں سے بہنے والے خون اور پیپ یا کھولتا ہوا آمیزہ بھی جہنمیوں کو پینے کیلئے دیا جائے گا جسے وہ زبردستی ایک ایک گھونٹ کر کے پیئیں گے:۔
”(دنیا کے بعد) آخرت میں (کافر کے لئے) جہنم ہے جہاں وہ پیپ اور خون کی آمیزش والا پانی پلایا جائے گا یہ سب وہ زبردستی گھونٹ گھونٹ کر کے پینے کی کوشش کرے گا لیکن مشکل سے ہی گلے سے اُتر سکے گا کافر کو ہر طرف سے موت آتی دکھائی دے گی لیکن مرنے نہ پائے گا اور اس کے بعد بھی سخت عذاب اس کی جان کا لاگو رہے گا۔“ (ابراہیم ۔ ۱۶ ، ۱۷)
(۳) مَاءً کَالْمُھْلِ (تیل کی تلچھٹ جیسا کھولتا ہوا مشروب) تیل کی تلچھٹ جیسا غلیظ بدبودار اور کھولتا ہوا مشروب بھی جہنمیوں کو پینے کے لئے دیا جائے گا:۔
”جہنمی پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو پگھلے ہوئے تانبے جیسا ہوگا جو چہرے کو بھون ڈالے گا بد ترین پینے کی چیزیں اور بہت ہی بُری آرام گاہ“۔ (الکہف ۔ ۲۹)
وضاحت :- ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سونا پگھلایا جب وہ پانی جیسا ہو گیا اور جوش مارنے لگا تو فرمایا ”مھل“ کی مشابہت اس میں ہے۔“