ظہور دجال سے قیامت تک

اشاعت: 24-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Major signs of Qiyamah from Dajjal to Day of Judgment explained in Sahih Muslim hadith

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ظہور دجال سے قیامت تک

(احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے دجال کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا کہ اگر میری موجودگی میں اس کا خروج ہوا تو میں تمہاری جانب سے بھی اس پر دلیل کے ساتھ غالب آجاؤں گا اور اگر اس کا خروج میری عدم موجودگی میں ہوا تو ہر شخص اپنی جانب سے اس کے ساتھ مقابلہ کرے اور ہر مسلمان کے لئے اللہ تعالیٰ میرا خلیفہ ہوگا، بلاشبہ دجال جوان گھنگریالے بالوں والا ہوگا۔ اس کی (ایک) آنکھ پھولی ہوئی ہوگی گویا کہ میں اس کو عبدالعزی بن قطن کے مشابہ سمجھتا ہوں، تم میں سے جس شخص سے اس کی ملاقات ہو جائے وہ اس پر سورۃ کہف کی ابتدائی آیات پڑھ کر دم کرے۔ اور ایک روایت میں ہے وہ اس پر سورۃ کہف کی ابتدائی آیات تلاوت کرے اس لئے کہ ان آیات کے سبب تمہیں اس کے فتنے سے بچاؤ حاصل ہوگا، وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راستے پر نکلے گا وہ دائیں بائیں فساد برپا کرے گا۔ اے اللہ کے بندو! تم نے ثابت قدم رہنا ہوگا۔ (نواس) ہم نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ! وہ زمین پر کتنا عرصہ ٹھہرے گا؟ آپ نے جواب دیا 'چالیس دن۔ ایک دن ایک سال کے برابر اور ایک دن ایک مہینے کے برابر اور ایک دن ایک جمعے کے برابر اور بقیہ دن تمہارے دنوں کے برابر ہوں گے۔ ہم نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ! وہ دن جو سال کے برابر ہوگا کیا ہمیں اس میں ایک دن کی نمازیں کفایت کریں گی؟ آپ نے نفی میں جواب دیتے ہوئے فرمایا، تم نے نماز کے اوقات کا اندازہ لگانا ہوگا۔ ہم نے دریافت کیا اے اللہ کے رسول ! وہ زمین پر کس قدر تیز رفتاری سے گھومے گا؟ آپ نے فرمایا اس بارش کی مانند جس کو پیچھے سے تیز ہوا دھکیل رہی ہو۔ وہ لوگوں کے پاس جائے گا انہیں اپنی جانب دعوت دے گا۔ لوگ اس کی دعوت پر لبیک کہیں گے وہ بادلوں کو برسانے کا حکم دے گا تو بارش برسنے لگ جائے گی اور زمین کو حکم دے گا تو وہ سبزہ اُگائے گی۔ لوگوں کے چارپائے جب شام کو ان کے پاس آئیں گے تو ان کی کوہان پہلے سے کہیں زیادہ بڑی ہوگی اور ان کے پستان دودھ سے بہت زیادہ بھرے ہوئے ہوں گے اور ان کے پہلو باہر نکلے ہوں گے اس کے بعد دجال کچھ لوگوں کے پاس جائے گا انہیں دعوت دے گا وہ اس کی بات (ماننے) سے انکار کر دیں گے۔ جب وہ وہاں سے جائے گا تو وہ خشک سالی کا شکار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ان کے ہاتھ مال و دولت سے خالی ہو جائیں گے اور اس کے بعد دجال بے آباد زمین کے پاس سے گزرے گا اور اسے حکم دے گا کہ وہ اپنے خزانے اُگل دے چنانچہ زمین میں چھپے ہوئے خزانے اس کے پیچھے چلنے لگیں گے جیسا کہ شہد کی مکھیاں (اپنے امیر کے پیچھے رواں دواں رہتی ہیں) اس کے بعد وہ دجال ایک شخص کو بلائے گا جو بھرپور جوانی والا ہوگا، تلوار مار کر اس کے دو ٹکڑے کر دے گا (دونوں ٹکڑوں کے درمیان فاصلہ) تیر مارنے کی جگہ سے نشانے تک کے برابر ہوگا۔ دجال پھر اسے ملائے گا تو وہ (اس کی جانب) مسکراتا ہوا ٹہلتا ہوا آئے گا۔ وہ دجال اسی حالت میں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ مسیح بن مریم علیہ السلام کو مبعوث فرمائیں گے وہ دمشق (شہر) کی مشرقی جانب سفید مینار کے قریب اتریں گے انہوں نے گیروے رنگ کی دو چادریں زیب تن کی ہوں گی اور دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوں گے۔ سر نیچے کرتے وقت ان کے سر سے (پانی کے) قطرات گریں گے اور سر بلند کرتے وقت موتیوں کی مانند قطرات لڑھکتے ہوئے دکھائی دیں گے۔ یہ ناممکن ہوگا کہ کوئی کافر عیسیٰ علیہ السلام کے سانس کی ہوا کو محسوس کرے اور وہ مر نہ جائے ان کے سانس کی ہوا ان کی حد نظر تک جائے گی چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام دجال کو تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے 'لد' شہر کے دروازے پر پائیں گے تو اسے قتل کر دیں گے اس کے بعد وہ ان لوگوں کے پاس جائیں گے جن کو اللہ نے دجال سے تحفظ دیا تھا وہ ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے اور انہیں جنت میں ان کے درجات کے بارے میں بتائیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام ابھی اسی حالت میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی کریں گے کہ میں نے ایسے پہاڑ سے بندوں کو باہر نکالا ہے کہ کوئی شخص بھی ان کے ساتھ نبرد آزما نہیں ہو سکتا اس لئے آپ میرے بندوں کو طور (پہاڑ) میں محفوظ کر لیں۔ اس وقت اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو نکالے گا (وہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کے مصداق دوڑتے ہوئے آئیں گے) اور 'وہ اونچی جگہوں سے دوڑتے ہوئے آئیں گے' ان کا پہلا دستہ بحیرہ 'طبریہ' کے پاس سے گزرے گا وہ اس میں موجود تمام پانی کو پی کر ختم کر دیں گے اور جب ان کا آخری دستہ گزرے گا تو وہ (اس خیال کا) اظہار کریں گے کہ کبھی یہاں پانی ہوا کرتا تھا اس کے بعد وہ چلیں گے یہاں تک کہ وہ جبل خمر تک پہنچ جائیں گے جو بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے اور وہ (بلند آواز سے) کہیں گے کہ ہم نے زمین پر (آباد) سب مخلوق کو ختم کر دیا چلو (اب) ہم آسمان میں موجود مخلوق کو بھی موت سے ہمکنار کر دیں۔ چنانچہ وہ اپنے تیروں کو آسمان کی جانب پھینکیں گے اللہ تعالیٰ ان کی جانب سے پھینکے گئے ان کے تیروں کو خون آلود کر کے واپس بھیجے گا اور اللہ کے پیغمبر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفقاء محصور ہو جائیں گے (اسباب معیشت کی تنگی کی وجہ سے) بیل کا سر ان کے نزدیک تمہارے آج کے سو دینار سے بہتر ہوگا۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفقاء اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا داخل کر دیں گے وہ سب کے سب موت سے ہمکنار ہو جائیں گے جیسے کوئی شخص موت سے ہمکنار ہوتا ہے۔ اس کے بعد عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفقاء میدانی علاقے میں اتریں گے زمین پر ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہ ہوگی جو یاجوج اور ماجوج کی چربی اور بدبو سے خالی ہو۔ پھر عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے رفقاء اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تب اللہ تعالیٰ ایسے پرندے اتاریں گے جن کی گردنیں خراسانی نسل کے اونٹوں کی گردنوں کی مثل ہوں گی وہ ان (کی لاشوں) کو اٹھا کر وہاں پھینک دیں گے جہاں اللہ چاہے گا۔

  • اور ایک روایت میں ہے کہ پرندے ان کی لاشوں کو نہبل (مقام) پر پھینک دیں گے اور مسلمان ان کی کمانوں، ان کے تیروں، ان کے ترکشوں کو ساٹھ سال تک بطور ایندھن جلاتے رہیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ موسلادھار بارش برسائے گا جو تمام گھروں پر برسے گی خواہ وہ اینٹوں کے بنے ہوئے ہوں یا اونی خیمے ہوں اس بارش سے زمین دھل کر آئینے کی مانند شفاف ہو جائے گی۔ اس کے بعد زمین کو حکم دیا جائے گا کہ وہ اپنے پھل اگائے اور اپنی برکات نچھاور کرے ان دنوں ایک جماعت کے لئے ایک انار کافی رہے گا اور وہ اس کے چھلکے کے سائے میں آرام کر سکیں گے اور دودھ میں برکت ہوگی یہاں تک کہ ایک اونٹنی کا دودھ ایک جماعت کو کفایت کرے گا اور گائے کا دودھ ایک قبیلے کے لئے کافی رہے گا اور ایک بکری کا دودھ مختصر خاندان کے لئے کافی رہے گا وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عمدہ قسم کی ہوا بھیجے گا وہ ان کی بغلوں میں داخل ہو جائے گی اور تمام مومنوں اور مسلمانوں کو موت کے حوالے کر دے گی (پھر) بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو زمین پر گدھوں کی مانند نفسانی خواہشات کی تکمیل کریں گے چنانچہ ان پر قیامت قائم ہوگی“۔ (صحیح مسلم) البتہ روایت کے یہ الفاظ کہ 'پرندے ان کی لاشوں کو نہبل مقام پر پھینک دیں گے' سے 'ساٹھ سال تک ایندھن جلاتے رہیں گے' کو امام مسلم نے ذکر نہیں کیا ان دونوں روایتوں کو ترمذی نے ذکر کیا ہے

In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

From the Emergence of Dajjāl until the Day of Judgment

(In the Light of Ḥadīth)

    Nawwās ibn Samʿān (may Allah be pleased with him) reported that the Messenger of Allah mentioned Dajjāl and said:
    “If he appears during my lifetime, I will confront him on your behalf; and if he appears after me, then each person will defend himself, and Allah will be my successor for every Muslim. Dajjāl will be a young man with curly hair, and one of his eyes will be protruding. It is as if I resemble him to ʿAbd al-ʿUzzā ibn Qaṭan. Whoever among you encounters him should recite the opening verses of Sūrah al-Kahf over him.”

    In another narration: “He should recite the opening verses of Sūrah al-Kahf, for through them you will be protected from his trial.”

    “He will emerge from a path between Syria and Iraq and will spread mischief to the right and left. O servants of Allah, remain steadfast.”

    We asked: “O Messenger of Allah , how long will he remain on earth?”
    He replied: “Forty days: one day like a year, one day like a month, one day like a week, and the rest like your normal days.”

    We asked: “O Messenger of Allah , on the day that will be like a year, will the prayers of one day be sufficient for us?”
    He said: “No. You must estimate the times for the prayers.”

    We asked: “How swiftly will he travel through the earth?”
    He replied: “Like rain driven by a strong wind.”

    “He will come to people and call them to follow him; many will respond to his call. He will command the sky to rain and it will rain; he will command the earth and it will produce vegetation. Their livestock will return to them in the evening with humps larger than before, udders full of milk, and flanks expanded.”

    “Then he will go to another people and call them, but they will reject him. When he leaves them, they will be afflicted with drought until their wealth is gone. Then he will pass by a barren land and command it to bring forth its treasures; its treasures will follow him like swarms of bees follow their leader.”

    “Then he will call a strong young man and strike him with a sword, cutting him into two pieces. Then he will call him again and the man will come forward smiling and walking.”

    “While he is in this state, Allah will send down ʿĪsā ibn Maryam (Jesus, peace be upon him). He will descend near the white minaret in the eastern part of Damascus, wearing two lightly dyed garments, placing his hands on the wings of two angels. When he lowers his head, drops like pearls will fall; and when he raises it, drops like shining pearls will scatter.”

    “No disbeliever who smells the breath of ʿĪsā (peace be upon him) will survive, and his breath will reach as far as his sight extends. He will then search for Dajjāl until he finds him at the gate of Ludd and kills him.”

    “Then ʿĪsā (peace be upon him) will come to the people whom Allah protected from Dajjāl, wipe their faces, and inform them of their درجات (ranks) in Paradise.”

    “While this is happening, Allah will reveal to ʿĪsā (peace be upon him): ‘I have released servants of Mine whom none will be able to fight; take My servants to Mount Ṭūr for protection.’ Then Allah will release Ya’jūj and Ma’jūj (Gog and Magog), and they will surge down from every elevation.”

    “Their first group will pass by the Lake of Tiberias and drink all its water, and when the last of them passes by they will say: ‘There was once water here.’ They will proceed until they reach a mountain near Bayt al-Maqdis and say: ‘We have killed those on earth; now let us fight those in the heavens.’ They will shoot their arrows toward the sky, and Allah will return them stained with blood as a trial.”

    “ʿĪsā (peace be upon him) and his companions will be besieged until the head of an ox will be dearer to them than one hundred dinars are to you today. Then ʿĪsā (peace be upon him) and his companions will supplicate to Allah, and Allah will send a worm into the necks of Ya’jūj and Ma’jūj, and they will all perish like a single soul.”

    “After that, ʿĪsā (peace be upon him) and his companions will descend to the earth, and they will not find a handspan of land except that it is filled with the stench and remains of Ya’jūj and Ma’jūj. Then they will again supplicate to Allah, and He will send birds with necks like those of camels, which will carry their bodies and throw them wherever Allah wills.”

    In another narration: the birds will throw them at a place called Nahbal, and the Muslims will use their bows, arrows, and quivers as fuel for seventy years. Then Allah will send a heavy rain that will wash the earth until it becomes like a polished mirror.

    “Then the earth will be commanded to bring forth its fruits and blessings. A single pomegranate will suffice for a group of people, and they will seek shade beneath its peel. Milk will be so blessed that the milk of one she-camel will suffice for many people, a cow’s milk for a tribe, and a goat’s milk for a household.”

    “While they are in this state, Allah will send a pleasant wind that will take the souls of every believer and Muslim. Only the worst of people will remain, behaving like beasts in fulfilling their desires — and upon them the Hour will be established.”
    (Ṣaḥīḥ Muslim)

Note: The wording mentioning that the birds will throw the bodies at Nahbal and that their weapons will be used as fuel for many years is reported in other narrations, such as in Jāmiʿ al-Tirmidhī, and not in the primary wording of Ṣaḥīḥ Muslim.