حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل

اشاعت: 16-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
 hazrat abu bakr siddiq ke fazail hadith ki roshni mein

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی سے روایت کرتے ہیں، آپ نے فرمایا، بلاشبہ مجھ پر رفاقت اور مال خرچ کے لحاظ سے تمام لوگوں سے زیادہ احسانات ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہیں، اور اگر میں نے کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا، البتہ (ان کے ساتھ) اسلامی اخوت اور مودت ہے، مسجد میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کے علاوہ (کوئی) کھڑکی باقی نہ رہنے دی جائے، اور ایک روایت میں ہے کہ اگر میں نے اپنے پروردگار کے علاوہ کسی کو خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

وضاحت :- نبی اکرم کا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی کھڑکی کو بند نہ کرنا اُن کی خلافت پر دلالت کرتا ہے، جبکہ یہ حکم آپ نے مرض الموت کے دوران دیا تھا۔

  • ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا، اگر میں نے (کسی شخص کو) خلیل بنانا ہوتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیل بناتا، البتہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہے، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے رفیق کو (اپنا) خلیل بنایا ہے“۔ (صحیح مسلم)

  • ”حضرت جُبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ سے (اپنے) کسی معاملے میں گفتگو کی۔ آپ نے اس سے کہا کہ وہ پھر آپ کے پاس آئے، اس نے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول ! اگر میں آؤں اور آپ کو نہ پاؤں؟ گویا کہ وہ آپ کی وفات مراد لیتی تھی۔ آپ نے فرمایا، اگر تو مجھے نہ پائے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آنا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

  • ”حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی نے انہیں ’ذات السلاسل‘ لشکر پر (امیر بنا کر) بھیجا۔ انہوں نے بیان کیا، میں (سفر سے پہلے) آپ کے پاس آیا، میں نے دریافت کیا کہ کون شخص آپ کو سب سے زیادہ محبوب ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا) میں نے دریافت کیا کہ مردوں میں سے (کون)؟ آپ نے فرمایا: اُن کے والد۔ میں نے دریافت کیا، پھر کون؟ آپ نے فرمایا: عمر (رضی اللہ عنہ)“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

  • ”ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کے زمانے میں ہم کسی شخص کو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر نہیں سمجھتے تھے، اس کے بعد عمر (رضی اللہ عنہ) اور پھر عثمان (رضی اللہ عنہ) (اس کے بعد) نبی کریم کے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم) کو چھوڑ دیتے، ان میں سے کسی کو دوسرے پر فضیلت نہیں دیتے تھے“۔ (صحیح بخاری)

  • حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوبکر رضی اللہ عنہ، ہمارے سردار تھے، ہم سے بہتر تھے، اور ہم سے زیادہ رسول اللہ کو محبوب تھے “۔ (جامع ترمذی)

  • ”حضرت عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم صدقہ کریں، اس دوران میرے پاس کچھ مال آگیا۔ میں (دل میں) خیال کیا کہ اگر کسی روز میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے (صدقہ کرنے میں) سبقت لے سکوں تو آج کے دن ان سے آگے رہوں گا، عمرؓ نے بیان کیا کہ میں اپنا آدھا مال لے آیا رسول اللہ نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ آپ نے اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا ہے؟ (عمرؓ کہتے ہیں) میں نے جواب دیا کہ اسی قدر (یعنی آدھا مال گھر چھوڑ آیا ہوں)۔ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ، اپنا تمام مال لے آئے۔ آپ نے دریافت کیا، اے ابوبکر رضی اللہ عنہ! آپ نے اپنے گھر والوں کیلئے کیا چھوڑا ہے؟ انہوں نے جواب دیا، میں نے اپنے گھر والوں کیلئے اللہ اور اسکے رسول (کی رضا) کو چھوڑا ہے، (عمرؓ کہتے ہیں کہ) میں نے دل میں خیال کیا کہ میں کبھی بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سبقت نہیں لے جا سکتا“۔ (جامع ترمذی، ابو داؤد)

  • ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ابوبکرؓ رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے انہیں فرمایا آپ (اللہ کی جانب سے) دوزخ سے آزاد کئے گئے ہیں، اسی روز سے ابوبکرؓ کا لقب عتیق مشہور ہو گیا“۔ (جامع ترمذی)

Virtues of Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه — In the Light of Hadith

It is narrated from Abu Sa‘id al-Khudri رضي الله عنه from the Prophet that he said: “Indeed, among all people, the one who has shown me the greatest favor in companionship and wealth is Abu Bakr رضي الله عنه. If I were to take anyone as a Khalil (intimate friend), I would have taken Abu Bakr رضي الله عنه as a Khalil; however, there is Islamic brotherhood and affection between us. No window opening into the mosque should remain except the window of Abu Bakr رضي الله عنه.” In another narration: “If I were to take a Khalil other than my Lord, I would have taken Abu Bakr رضي الله عنه as a Khalil.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)

Explanation: The Prophet not ordering the closure of Abu Bakr’s رضي الله عنه window indicates his worthiness for the Caliphate, especially since this instruction was given during the Prophet’s final illness.

It is narrated from ‘Abdullah ibn Mas‘ud رضي الله عنه from the Prophet that he said: “If I were to take someone as a Khalil, I would have taken Abu Bakr رضي الله عنه as a Khalil; however, he is my brother and my companion, and Allah has taken your companion as His Khalil.” (Sahih Muslim)

It is narrated from Jubayr ibn Mut‘im رضي الله عنه that a woman came to the Prophet and spoke to him regarding a matter. The Prophet told her to return later. She asked: “O Messenger of Allah ! What if I come and do not find you?”—as if she was referring to his passing. The Prophet said: “If you do not find me, then go to Abu Bakr رضي الله عنه.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)

It is narrated from ‘Amr ibn al-‘As رضي الله عنه that the Prophet appointed him as the commander of the expedition of Dhat al-Salasil. He said: I came to the Prophet and asked, “Who among people is most beloved to you?” He replied: “‘A’ishah رضي الله عنها.” I asked, “Among men?” He said: “Her father.” I asked, “Then who?” He replied: “‘Umar رضي الله عنه.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)

Ibn ‘Umar رضي الله عنهما said: During the time of the Prophet , we did not consider anyone equal to Abu Bakr رضي الله عنه; then (came) ‘Umar رضي الله عنه, then ‘Uthman رضي الله عنه. After that, we would leave the Companions of the Prophet and would not give preference to one over another. (Sahih Bukhari)

‘Umar رضي الله عنه said: “Abu Bakr رضي الله عنه was our leader; he was better than us and more beloved to the Messenger of Allah than we were.” (Jami‘ al-Tirmidhi)

‘Umar رضي الله عنه narrated: The Messenger of Allah commanded us to give charity. At that time, I had some wealth. I thought to myself that if there was ever a day I could surpass Abu Bakr رضي الله عنه (in charity), it would be today. I brought half of my wealth. The Messenger of Allah asked me: “What have you left for your family?” I replied: “The same amount.” Then Abu Bakr رضي الله عنه brought all his wealth. The Prophet asked: “O Abu Bakr رضي الله عنه! What have you left for your family?” He replied: “I have left for them Allah and His Messenger .” ‘Umar رضي الله عنه said: I said to myself that I would never be able to surpass Abu Bakr رضي الله عنه. (Jami‘ al-Tirmidhi, Abu Dawud)

‘A’ishah رضي الله عنها narrated that Abu Bakr رضي الله عنه came to the Messenger of Allah . The Prophet said to him: “You have been freed from the Fire by Allah.” From that day onward, Abu Bakr رضي الله عنه became known by the title ‘Atiq. (Jami‘ al-Tirmidhi)