بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
فضائل حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ (احادیث کی روشنی میں)
رسول اللہ ﷺ کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق رائے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- تم سے پہلی اُمتوں میں الہامی لوگ ہوا کرتے تھے اگر میری امت میں کوئی الہامی ہوتا تو وہ عمر (رضی اللہ عنہ) ہوتا “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر (رضی اللہ عنہ) کی زبان اور اسکے دل پر اُتارا ہے “۔ (جامع ترمذی)
-
”حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا :- بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے حق کو عمر (رضی اللہ عنہ) کی زبان پر رکھا ہے اور وہ حق بات کرتا ہے “۔ (سنن ابو دائود)
-
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- ایک بار میں سویا ہوا تھا، میں نے دیکھا کہ (کچھ) لوگوں کو مجھ پر پیش کیا جا رہا ہے اور انہوں نے قمیضیں پہن رکھی ہیں، کسی کا قمیض (اسکے) سینے تک اور کسی کا اس سے نیچے تھا اور عمر رضی اللہ عنہ مجھ پر پیش کئے گئے تو وہ قمیض کو کھینچتے تھے۔ صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس کی تاویل کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا اسکی تاویل دین ہے یعنی ان کے دور میں دین اسلام کو غلبہ ہو گا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- میں (معراج کی رات) جنت میں داخل ہوا تو میں نے ابوطلحہ (رضی اللہ عنہ) کی بیوی ”رمیصاء“ کو دیکھا نیز میں نے چلنے کی آواز سنی چنانچہ میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ بلال (رضی اللہ عنہ) ہے اور میں نے ایک محل دیکھا جس کے صحن میں ایک دوشیزہ تھی میں نے دریافت کیا کہ یہ (محل) کس کے لئے ہے؟ جنتیوں نے بتایا کہ (یہ محل) عمر (رضی اللہ عنہ) کا ہے میں نے چاہا کہ اس میں داخل ہوں اور اسے دیکھوں لیکن میں نے تیری غیرت کو یاد کیا۔ عمر (رضی اللہ عنہ) نے جواب دیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جائیں تعجب ہے! کیا میں آپ ﷺ (کے داخل ہونے پر) غیرت کروں گا؟“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
وضاحت :- رمیصاء اصل میں غمیصاء اور انس رضی اللہ عنہ کی والدہ محترمہ اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی زوجہ محترمہ ہیں۔ ان کا پورا نام غمیصاء بنت ملحان انصاریہ ہے۔
-
”ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا :- ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں سو رہا تھا، مجھے (خواب میں) دودھ کا پیالہ دیا گیا۔ میں نے اسے پیا حتیٰ کے میں نے محسوس کیا کہ سیرابی میرے ناخنوں میں سے نکل رہی ہے۔ پھر میں نے بقیہ (دودھ) عمر (رضی اللہ عنہ) کو دے دیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ ﷺ اسکی تاویل کیا فرماتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا (اسکی تعبیر) علم ہے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے تین باتوں میں اپنے پروردگار کی موافقت کی ہے ۔ پہلی بات مقام ابراہیم کے بارے میں، دوسری بات پردے کے بارے میں اور تیسری بات بدر کے قیدیوں کے بارے میں ہے “ ۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
English Translation
Virtues of ‘Umar al-Faruq رضي الله عنه — In the Light of Hadith
The Opinion of the Messenger of Allah ﷺ Regarding ‘Umar رضي الله عنه:
It is narrated from Abu Hurayrah رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: “Among the nations before you there were people who were inspired (Muhaddathun). If there were to be any such person in my Ummah, it would be ‘Umar رضي الله عنه.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)
It is narrated from Ibn ‘Umar رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said: “Indeed, Allah has placed the truth upon the tongue and in the heart of ‘Umar رضي الله عنه.” (Jami‘ al-Tirmidhi)
It is narrated from Abu Dharr رضي الله عنه that the Prophet ﷺ said: “Indeed, Allah has placed the truth upon the tongue of ‘Umar رضي الله عنه, and he speaks with the truth.” (Sunan Abu Dawud)
It is narrated from Abu Sa‘id al-Khudri رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: “Once, while I was asleep, I saw that people were presented before me wearing shirts. Some of them had shirts reaching their chests, and some had shirts shorter than that. Then ‘Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه was presented before me, and he was dragging his shirt.” The Companions رضي الله عنهم asked: “O Messenger of Allah ﷺ! What is its interpretation?” He ﷺ said: “Its interpretation is religion (Deen); meaning that during his time Islam would prevail.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)
It is narrated from Jabir رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said: “On the night of Mi‘raj, I entered Jannah and saw the wife of Abu Talhah رضي الله عنه, Rumaysa’. I also heard footsteps and asked: ‘Who is this?’ Jibril عليه السلام said: ‘This is Bilal رضي الله عنه.’ Then I saw a palace in whose courtyard there was a maiden. I asked: ‘For whom is this?’ They said: ‘For ‘Umar رضي الله عنه.’ I wished to enter it and look at it, but I remembered your sense of honor.” ‘Umar رضي الله عنه replied: “O Messenger of Allah ﷺ! May my parents be sacrificed for you—how could I feel protective jealousy regarding you?” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)
Explanation: Rumaysa’ is actually Ghumaysa’, the honored mother of Anas رضي الله عنه and the wife of Abu Talhah رضي الله عنه. Her full name was Ghumaysa’ bint Milhan al-Ansariyyah.
It is narrated from Ibn ‘Umar رضي الله عنهما that the Messenger of Allah ﷺ said: “Once I was sleeping, and I was given a cup of milk (in a dream). I drank from it until I felt that its satisfaction was flowing from my nails. Then I gave the remaining milk to ‘Umar رضي الله عنه.” The Companions رضي الله عنهم asked: “O Messenger of Allah ﷺ! What is its interpretation?” He ﷺ said: “Knowledge (‘Ilm).” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)
It is narrated from Ibn ‘Umar رضي الله عنهما that ‘Umar رضي الله عنه said: “In three matters, my view coincided with that of my Lord: regarding Maqam Ibrahim, regarding the command of Hijab, and regarding the captives of Badr.” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)