بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک کیلئے تشریف لے گئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا نائب بنایا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ مجھے بچوں اور عورتوں میں چھوڑے جا رہے ہیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ میرے لئے تم ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کیلئے ہارون علیہ السلام تھے، لیکن فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا تھا کہ اسلامی جھنڈا میں ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ فتح عنایت فرمائے گا۔ اب سب اس انتظار میں تھے کہ دیکھئے جھنڈا کسے ملتا ہے۔ جب صبح ہوئی تو سب سرکردہ لوگ اسی اُمید میں رہے کہ کاش انہی کو مل جائے لیکن آنحضرت ﷺ نے دریافت فرمایا، علی کہاں ہیں؟ عرض کیا گیا وہ آنکھوں کے درد میں مبتلا ہیں۔ آخر آپ ﷺ کے حکم سے انہیں بلایا گیا۔ آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن مبارک ان کی آنکھوں میں لگا دیا، اور فوراً ہی وہ اچھے ہو گئے جیسے پہلے کوئی تکلیف ہی نہ رہی ہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا ہم ان (یہودیوں) سے اس وقت تک جنگ کریں گے جب تک یہ ہمارے جیسے (مسلمان) نہ ہو جائیں۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے فرمایا، ابھی ٹھہرو پہلے ان کے میدان میں اتر کر تم انہیں اسلام کی دعوت دے لو۔ اور ان کیلئے جو چیزیں ضروری ہیں ان کی خبر کر دو (پھر اگر وہ نہ مانیں تو لڑنا) اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ ایک شخص کو بھی ہدایت مل جائے تو یہ تمہارے حق میں سرخ اُونٹوں سے بہت ہے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لائے دیکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا کہ تمہارے چچا کے بیٹے کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ میرے اور ان کے درمیان کچھ ناگواری پیش آگئی اور وہ مجھ سے خفا ہو کر کہیں چلے گئے ہیں، اور میرے یہاں قیلولہ بھی نہیں کیا۔ اسکے بعد رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص سے کہا کہ علی رضی اللہ عنہ کو تلاش کرو کہ کہاں ہے۔ وہ آئے اور بتایا کہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں پھر نبی ﷺ تشریف لائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے تھے، چادر انکے پہلو سے گر گئی تھی اور جسم پر مٹی لگ گئی تھی، رسول اللہ ﷺ جسم سے دھول جھاڑتے جاتے تھے اور فرما رہے تھے اٹھو ابوتراب اٹھو۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت عمران بن حُصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، بلاشبہ علی رضی اللہ عنہ نسب کے لحاظ سے مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ ہر مومن شخص کا دوست ہے“۔ (جامع ترمذی)
-
وضاحت :- اس قسم کے الفاظ آپ ﷺ کی انتہائی محبت کو ظاہر کرتے ہیں، اسی قسم کے الفاظ آپ ﷺ نے حبیب رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی فرمائے تھے، جب حبیب رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا، یہ شخص مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، یہ حدیث مسلم شریف میں ہے۔ نیز اسی قسم کے الفاظ آپ ﷺ نے اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی فرمائے تھے کہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، یہ حدیث بھی صحیح مسلم میں ہے۔
-
-
”حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا، جس شخص کے ساتھ میں دوستی رکھتا ہوں، اس سے علی (رضی اللہ عنہ) بھی دوستی رکھتا ہے“۔ (جامع ترمذی ، مسند احمد)