بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ایمان کیا ہے؟ (احادیث کی روشنی میں)
ایمان کی تعریف اور اس کی امتیازی خصوصیات :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ایک دن آنحضرت ﷺ لوگوں میں تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اور پوچھنے لگا ایمان کسے کہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا :- کہ ایمان یہ ہے کہ تم اللہ پاک کے وجود اور اس کی وحدانیت پر ایمان لاؤ اور اس کے فرشتوں کے وجود پر اور اس (اللہ) کی ملاقات کے برحق ہونے پر اور اس کے رسولوں کے برحق ہونے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ اُٹھنے پر ایمان لاؤ۔ پھر اس نے پوچھا کہ اسلام کیا ہے؟ آپ ﷺ نے جواب دیا کہ اسلام یہ ہے کہ تم خالص اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ فرض ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔ پھر اس نے احسان کے متعلق پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :- احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو اگر یہ درجہ نہ حاصل ہو تو پھر یہ سمجھو کہ وہ تم کو دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا :- اس کے بارے میں جواب دینے والا پوچھنے والے سے کچھ زیادہ نہیں جانتا (البتہ) میں اس کی نشانیاں بتا سکتا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور جب سیاہ اونٹوں کے چرانے والے (دیہاتی لوگ ترقی کرتے کرتے) مکانات کی تعمیر میں ایک دوسرے سے ترقی لے جانے کی کوشش کریں گے (یاد رکھو) قیامت کا علم ان پانچ چیزوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت پڑھی ”سمجھ رکھو کہ اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے، وہی بارش نازل فرماتا ہے، اور ماں کے پیٹ میں جو کچھ ہے اسے جانتا ہے، کوئی بھی نہیں جانتا کہ کل کیا کچھ کرے گا، نہ کسی کو معلوم ہے کہ کس زمین میں مرے گا۔ یاد رکھو اللہ پورے علم والا اور صحیح خبروں والا ہے“ (لقمان :- ۳۴) پھر وہ پوچھنے والا پیٹھ پھیر کر چلا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :- کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ دوڑ پڑے مگر وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا :- کہ یہ جبریل تھے جو لوگوں کو ان کا دین سکھانے آئے تھے“۔ (صحیح بخاری)
اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر ہے :-
-
”عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر قائم کی گئی ہے۔ اول گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بے شک حضرت محمد ﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا“۔ (صحیح بخاری)
گناہ کرنے سے ایمان ناقص ہو جاتا ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی شخص زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب کوئی شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا“۔ (صحیح بخاری)