بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
عورتوں کے حقوق (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کیا کرو اس لئے کہ عورت کی تخلیق پسلی سے ہوئی ہے اور پسلی میں سب سے زیادہ ٹیڑھا حصہ اس کا اوپر کا حصہ ہے۔ اگر تو اسے سیدھا کرنے لگے گا تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اگر اسے چھوڑے گا تو وہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ پس تم عورتوں کا خیال رکھا کرو“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
اور صحیحین کی ایک اور روایت میں اسطرح ہے۔ عورت پسلی کی طرح ہے۔ اگر تو اسے سیدھا کرے گا تو توڑ دے گا اور اگر اور اگر تو اس سے فائدہ اٹھا تو اسکی کجی کی حالت میں ہی فائدہ اٹھا۔ اس حدیث میں الفاظ ہیں اِسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ جسکے معنی ہیں کہ عورتوں کی بابت میری وصیت قبول اور اس پر عمل کرو، یعنی عورتوں سے حسن سلوک کی تاکید ہے۔ اسلئے کے عورت فطری طور پر مرد سے کمزور ہے، اسلئے زیادہ صبر و قوت رکھنے والے مرد کو تحمل اور عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے، اسکے ساتھ حسن سلوک کا ہی اہتمام کرنا چاہئے، اس وصیت اور تاکید میں خوشگوار ازدواجی زندگی کا راز مضمر ہے، جو لوگ اس کے برعکس عورت کے ساتھ بے رحمانہ اور متشددانہ رویہ اختیار کرتے ہیں اور سوچتے ہیں اسطرح وہ اسے سیدھا کرلیں گے، وہ صحیح نہیں ہے۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ مومن مرد (ایمان دار شوہر) ایمان دار عورت (بیوی) سے نفرت نہ کرے۔ اگر اس کی کوئی ایک عادت یا صفات اسے ناپسند ہوگی تو اس کی کسی دوسری صفت سے وہ خوش بھی ہوگا۔ یا آخر کی جگہ آپ نے غیرہ فرمایا۔ (مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے)۔“ (صحیح مسلم)
ہر شخص میں اگر کچھ خامی یا کوتاہی ہوتی ہے تو کچھ خوبی بھی ہوتی ہے، مرد کو نصیحت کی جارہی ہے کہ وہ عورت میں کوئی خامی ایسی دیکھے جو اسے ناپسند ہو، تو اسے نظر انداز کر کے اسکی خوبیوں پر نظر رکھے، اس طرح اسکے لئے اسکی بعض ناپسندیدہ خصلت کو برداشت کرنا آسان ہو جائیگا۔
-
”حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، ہم میں سے کسی کی بیوی کا اس پر کیا حق ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا:۔ جب تو کھائے تو اسے کو کھلا جب تو لباس پہنے تو اسے بھی پہنا اور اس کے چہرے پر مت مار نہ اسے بُرا بھلا (یا بدصورت) کہہ اور اس سے (بطور تنبیہ) علیحدگی اختیار کرنی ہو تو گھر کے اندر ہی کر“۔ (سنن ابوداؤد)
-
”حضرت عمرو بن احواص جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے نبی ﷺ کو حجتہ الوادع کے موقع پر فرماتے ہوئے سنا۔ اگر وہ (خواتین) کسی کھلی بے حیائی کا ارتکاب کریں (تو پھر تمھیں انہیں سزا دینے کا حق ہے) پس اگر وہ ایسا کریں تو انہیں بستروں سے علیحدہ چھوڑ دو اور انہیں مارو۔ لیکن اذیت ناک مار نہ ہو۔ پھر وہ اگر تمہاری فرمان برداری اختیار کرلیں تو ان کیلئے کوئی اور راستہ مت ڈھونڈو (یعنی طلاق وغیرہ دینے کا مت سوچو) یاد رکھو! جس طرح تمھارا حق تمھاری بیویوں پر ہے (اسی طرح) تمھاری بیویوں کا حق تم پر ہے۔ پس تمھارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمھارے بستر ایسے لوگوں کو نہ روندنے دیں جنہیں تم ناپسند کرتے ہو، اور ایسے لوگوں کو گھروں کے اندر آنے کی اجازت نہ دیں، جنہیں تم اچھا نہیں سمجھتے (چاہے وہ کوئی اجنبی مرد یا عورت ہو یا بیوی کے محارم واقارب میں سے ہو) سنو! اور ان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم ان کے ساتھ ان کی پوشاک اور خوراک میں اچھا سلوک کرو (یعنی طاقت کے مطابق چیزیں احسن طریقے سے انہیں مہیا کرو) “۔ (جامع ترمذی)
اس حدیث میں ناگزیر حالات میں عورت کو مارنے کی اجازت دی گئی ہے۔ بشرطیکہ ایسا کرنے سے اسکے سدھرنے کی امید ہو، لیکن بیوی پر پھٹکار بھیجنا، ہر روز مارنا، خوراک یا لباس مہیا نہ کرنا، ناشائستہ سزائیں دینا اور چہرے پر تھپڑ مارنا اور آئے دن مغلظات بکنا سب ناجائز اور ممنوع ہے، بیوی کو بار بار طعنے اور کچوکے دینا اور اولاد اور رشتہ داروں کے سامنے ذلیل کرنا اور بھی بُرا ہے، یہ سب طریقے غلط اور تہذیب و شرافت سے دور ہیں۔ جب عورت حد سے گذرتی نظر آئے تو پھر جو طریقے قرآن و حدیث میں آئے ہیں اُنہیں پر اکتفا کرنا چاہئے، ان سے تجاوز دین و دنیا دونوں کی تباہی کا باعث ہے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے۔