بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فتنوں کے دوران کیا کیا جائے
(احادیث کی روشنی میں)
نماز، روزہ، صدقہ خیرات اور دیگر نیک اعمال کی پابندی کرنے والا فتنوں سے محفوظ رہے گا :۔
-
”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’آدمی کی بیوی، اس کے مال، اس کی جان، اسکی اولاد اور اس کے ہمسائے میں فتنہ ہے جسے نماز، روزہ، صدقہ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر مٹا دیتے ہیں‘ (یعنی مذکورہ نیک اعمال انسان کو ان فتنوں سے محفوظ رکھتے ہیں)“۔ (صحیح مسلم)
فتنوں کے دوران آپ ﷺ نے صبر اور استقامت سے کام لینے کی نصیحت فرمائی ہے :۔
-
”حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’عنقریب ایک فتنہ آئے گا جس میں بیٹھنے والا بہتر ہوگا کھڑا ہونے والے سے اور کھڑا ہونے والا بہتر ہوگا چلنے والے سے اور چلنے والا بہتر ہوگا دوڑنے والے سے‘۔ راوی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! اگر کوئی شخص میرے گھر میں گھس آئے اور قتل کرنے کیلئے مجھ پر ہاتھ اٹھائے تو میں کیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’ابن آدم کی طرح ہو جاؤ‘ “۔ (جامع ترمذی)
-
”حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’فتنوں کے دور میں اپنی کمانیں توڑ ڈالنا ان کے دھاگے کاٹ دینا اپنے گھروں میں گوشہ نشینی اختیار کر لینا اور ابن آدم (یعنی ہابیل) کا طرز عمل اختیار کرنا‘ “۔ (جامع ترمذی)
فتنوں کے دوران آپ ﷺ نے بستیوں اور آبادیوں کو چھوڑنے کی ترغیب دلائی ہے :۔
-
”حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”عنقریب بہت سے فتنے ظاہر ہوں گے فتنوں کے دوران بیٹھنے والے چلنے والے سے بہتر ہوگا، چلنے والا فتنوں میں حصہ لینے والے سے بہتر ہوگا، خبردار! جب یہ فتنہ ظاہر ہو تو جس کے پاس اونٹ ہوں وہ (اونٹوں کے باڑے میں) اونٹوں کے پاس چلا جائے، جس کے پاس بکریاں ہوں وہ (بکریوں کے باڑے میں) بکریوں کے پاس چلا جائے، جس کے پاس (کھیتی باڑی کی) زمین ہو وہ اپنی زمین پر چلا جائے“۔ ایک آدمی نے عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ! اگر کسی کے پاس اونٹ، بکریاں اور زمین نہ ہو تو وہ کیا کرے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”وہ اپنی تلوار لے اور پتھر سے اسکی دھار کند کردے پھر اپنے آپ کو فتنوں سے بچائے جہاں تک بچا سکتا ہے (پھر آپ ﷺ نے فرمایا) یا اللہ (گواہ رہنا) میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا! اے اللہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا! اے اللہ میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا“۔ ایک آدمی نے عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ! اگر لوگ مجھے زبردستی دو گروہوں میں سے کسی ایک گروہ میں کھینچ کر لے جائیں جہاں مجھے کوئی شخص اپنی تلوار یا تیر سے قتل کر ڈالے (تو میرا کیا بنے گا؟)“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”قاتل تیر اور اپنا گناہ سمیٹ کر جہنم میں چلا جائے گا (تیرا کچھ نقصان نہیں ہوگا)“۔ (صحیح مسلم)
اوپر کی تینوں احادیث میں ایک بات پر زور دیا گیا کہ اگر کبھی ہمارے مقابلے پر ہمارا ہی مسلمان بھائی قتل کے ارادے سے آجائے تو بچاؤ کے علاوہ اسکو مارنے کا ارادہ بھی نہ کرے، اور کیونکہ بات فتنوں کی ہورہی ہے جن میں قتال بھی ہوگا، جیسا کہ آج عراق اور دیگر مسلم ممالک میں ہورہا ہے کہ مسلمان ہی مسلمان کا گلا کاٹ رہا ہے تو ایسے میں قاتل پر مقتول کے گناہ بھی پڑیں گے۔ لیکن اگر لڑائی میں ارادہ دوسرے کو قتل کرنے کا ہو تو پھر مقتول بھی جہنم میں جائیگا۔ ان احادیث میں ابن آدم کا ذکر بھی آیا، یہی بات قرآن حکیم میں بھی ہے۔ ”اگر تو نے میری طرف ہاتھ بڑھایا کہ مجھے قتل کردے تو بھی میں اپنا ہاتھ تیری طرف نہ بڑھانے والا نہیں کہ تجھے قتل کردوں۔ میں اللہ جہانوں کے رب سے ڈرتا ہوں ٭ میں چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ (دونوں) اٹھالے اور دوزخیوں میں ہو جائے۔ اور ظالموں کی یہی جزا ہے“۔ (المائدۃ۔ ۲۸، ۲۹)
فتنوں کے دوران اپنا دین اور ایمان بچانے کیلئے رسول اللہ ﷺ نے مال ومتاع لے کر پہاڑوں اور جنگلوں میں زندگی بسر کرنے کی نصیحت فرمائی ہے :۔
-
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’بہت جلد ایسا وقت آنے والا ہے جب مسلمان کا بہترین مال بکریاں ہوں گی جنہیں لے کر وہ پہاڑ کی چوٹیوں یا بارش کے میدانوں میں چلا جائے گا تا کہ اپنے دین کو محفوظ رکھ سکے‘ “۔ (سنن ابن ماجہ)
-
”حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’کچھ ایسے فتنے ہوں گے کہ ان کے دروازوں پر آگ کی طرف بلانے والے کھڑے ہوں گے اس وقت ان کی پکار پر لبیک کہنے کی بجائے تیرے لئے بہتر یہ ہے کہ تو درخت کی چھال چبا کر تنہائی میں جان دے دے‘ “۔ (سنن ابن ماجہ)
کسی گناہ یا فتنہ کو دل سے برا جاننے پر بھی معافی کی امید کی جاسکتی ہے :۔
-
”حضرت حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ’جب زمین میں کوئی گناہ کیا جاتا ہے اس وقت جو شخص وہاں موجود ہو اور اس گناہ کو ناپسند کرے تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے گناہ کو نہیں دیکھا (اور سزا سے بچ گیا دوسری طرف) جو شخص وہاں موجود نہیں تھا لیکن اس گناہ سے راضی ہوا تو وہ ایسا ہی ہے جیسا اس نے خود گناہ کو دیکھا (اور اس کا عذاب مول لے لیا)‘ “۔ (سنن ابو داؤد)
اس ضمن کی ایک حدیث صحیح مسلم میں بھی ہے کہ بُرائی کی طرف بلانے والا اس بُرائی میں برابر کا شریک ہوگا۔ اور یہاں ہمیں پتا چلتا ہے کہ اگر کسی بُرائی کو پسند کیا جائے تو بھی بندہ گناہ میں برابر کا شریک ہے۔ ہماری ایمان کی کمزوری کا یہ عالم ہے کہ اب کوئی ناچنے والی کو دیکھنا یا کوئی بھی عریاں پروگرام دیکھنے کو ہم معیوب بھی نہیں سمجھتے۔ ہاں البتہ ان میں سے ایک بڑا طبقہ اس پر یقین رکھتا ہے کہ یہ ایک بُرے گناہ کا کام ہے، لیکن دیکھنے اور پسندیدگی کے اعتبار میں کوئی بُرائی نہیں سمجھی جاتی۔ لیکن اگر انہیں یہ پتہ چل جائے کہ اس خالی پسندیدگی میں وہ گناہ میں برابر کے شریک ہیں تو شاید بہت سے لوگ اس پر نظر ثانی کریں۔ ویسے بھی جب آپ کسی پروگرام یا ایکٹر یا ایکٹرس کو پسند کرتے ہیں تو INDIRECTLY آپ اسے SUPPORT کرتے ہیں، عوامی پسندیدگی سے محروم نہ تو کوئی پروگرام جاری رہتا ہے نہ کوئی بھی ایکٹر یا ایکٹرس کامیاب۔ بدکاروں کو پسند کر نیوالیوں اور میوزک پر جھومنے و گنگنانے والی ماؤں، بہنوں کی صحبت محمد بن قاسم یا طارق بن زیاد پیدا نہیں ہوا کرتے۔ اسلام سے پیار کریں، اسلام کو جگہ دیں اپنے دل میں، اپنے گھر میں، اپنی نسلوں میں۔ اللہ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے۔ آمین۔ انشاء اللہ آئندہ سلائیڈز میں فتنوں سے محفوظ رہنے کیلئے مستند احادیث میں مذکور دعائیں بیان کی جائیں گی۔