بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نبی کریم ﷺ کے معجزات (۲) (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہمیں ابوسفیان (کے قافلے) کے آنے کی خبر پہنچی تو رسول اللہ ﷺ نے (مدینہ منورہ والوں سے) مشورہ کیا تو سعد بن عبادہؓ کھڑے ہوئے۔ انہوں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول ﷺ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آپ ہمیں (چار پایوں کو) سمندر میں داخل کرنے کا حکم دیں تو ہم سمندر میں داخل کر دیں گے اور اگر ہمیں حکم دیں کہ ہم چار پایوں کے پہلوؤں پر مارتے ہوئے ’برک غِمَاد‘ (یمن کی آخری بستی) میں پہنچیں تو ہم ایسا ہی کریں گے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کو بلایا وہ نکلے یہاں تک کہ بدر (مقام) میں اترے۔ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ اکرام رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا ’اس جگہ فلاں فلاں شخص ہلاک ہو گا‘۔ آپ ﷺ نے نشاندہی کرتے ہوئے زمین پر اپنا ہاتھ مبارک رکھا کہ یہاں اور یہاں۔۔۔۔۔۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان میں سے کوئی شخص بھی اس جگہ سے دور نہیں (مرا) تھا جہاں جہاں آپ ﷺ نے ہاتھ رکھا تھا‘۔“ (صحیح مسلم)
-
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم (صحابہ اکرامؓ) جنگ خندق کے موقعہ پر کھدائی کر رہے تھے کہ ایک مضبوط چٹان سے واسطہ پڑا۔ صحابہ اکرامؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کیا کہ مضبوط چٹان سامنے آگئی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میں اترتا ہوں۔ آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ کے پیٹ مبارک پر (بھوک کی شدت کی وجہ سے) ایک پتھر بندھا ہوا تھا۔ ہم نے تین روز سے کچھ کھایا پیا نہ تھا۔ نبی کریم ﷺ نے کدال پکڑی اور اسے مارا تو چٹان ایسی ریت کی مانند ہو گئی جو آسانی سے گرتی ہے۔ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) چنانچہ میں اپنی بیوی کے پاس گیا، میں نے (اس سے) دریافت کیا کہ تیرے پاس کچھ (کھانے پینے کیلئے) ہے؟ اسلئے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا ہے آپ ﷺ شدید بھوک سے دوچار ہیں۔ اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع (کے بقدر) جو تھے اور ہمارے پاس ایک چھوٹا سا فربہ مینڈھا بھی تھا میں نے اسے ذبح کیا اور (میری) بیوی نے جو پیس لئے۔ ہم نے گوشت کو پتھر کی ہنڈیا میں ڈالا اس کے بعد میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ ﷺ سے پوشیدہ بات کی۔ میں نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے اپنے فربہ مینڈھے کو ذبح کیا ہے اور (میری) بیوی نے جو کے ایک صاع کا آٹا بنایا ہے۔ آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ چند رفقاء تشریف لائیں۔ (یہ بات سن کر) نبی کریم ﷺ نے بلند آواز کے ساتھ فرمایا ’خندق کھودنے والو! بلاشبہ جابرؓ نے (آپ سب کی) ضیافت کی ہے‘ آپ جلدی سے آئیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’جب تک میں نہ آجاؤں ہنڈیا کو نہ اتارنا اور نہ ہی آٹے کی روٹیاں بنانا۔ آپ ﷺ تشریف لائے تو میں آپ ﷺ کی خدمت میں آٹا پیش کر دیا آپ ﷺ نے اس میں (اپنا) لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی بعدازاں آپ ﷺ ہنڈیا کی جانب آئے آپ ﷺ نے اس میں بھی (اپنا) لعاب ڈالا اور برکت کی دعا کی۔ اسکے بعد آپ ﷺ نے فرمایا، روٹی پکانے والی کو بلاؤ کہ وہ تمہارے ساتھ روٹیاں پکائے اور ہنڈیا سے سالن نکالتے رہو اور تم اسے اتارنا مت اور وہ ایک ہزار (افراد) تھے۔ جابرؓ کہتے ہیں کہ میں اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ ان سب نے (سیر ہو کر) کھایا حتیٰ کہ باقی چھوڑ اور واپس چلے گئے اور ہماری ہنڈیا اسی طرح بھری ہوئی تھی جیسے کہ پہلے تھی اور ہمارا آٹا جسے پکایا جا رہا تھا اسی طرح ہی تھا‘۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت عوف، ابورجاء سے وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں انہوں نے بتایا کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، لوگوں نے آپ ﷺ سے بہت زیادہ پیاس کی شکایت کی۔ آپ ﷺ اترے، آپ ﷺ نے ایک (معروف) شخص کو بلایا۔ ابورجاء نے اس کا نام لیا ہے (البتہ) عرف بھول گئے نیز آپ ﷺ نے علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا، ’آپ دونوں جائیں اور پانی تلاش کریں۔ چنانچہ وہ دونوں گئے وہ ایک عورت سے ملے جو پانی کے دو مشکیزوں کے درمیان (سوار) تھی۔ دونوں صحابی اس عورت کو نبی ﷺ کے پاس لے آئے۔ اس کو اس کے اونٹ سے اتارا اور آپ ﷺ نے ایک برتن طلب کیا آپ ﷺ نے اس برتن میں دونوں مشکیزوں کا پانی گرایا اور لوگوں میں منادی کی گئی کہ ضرورت کے مطابق پانی لے لو۔ چنانچہ لوگوں نے پانی لیا۔ راوی نے بیان کیا کہ ہم چالیس پیاسے آدمیوں نے پانی پیا یہاں تک کہ ہم سیراب ہو گئے‘ ہم نے اپنے مشکیزے اور ڈول بھر لئے اور اللہ کی قسم! لوگ اس برتن سے پانی لے کر واپس لوٹے اور ہمیں محسوس ہو رہا تھا کہ مشکیزے پہلے سے کہیں زیادہ بھرا ہوا ہے“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)