بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
زکوٰۃ لینے اور دینے کے آداب (۱) (احادیث کی روشنی میں)
زکوٰۃ کا مال لانے والے کے لئے خیر و برکت کی دعا کرنی چاہئے :-
” حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس جب لوگ اپنے صدقات لے کر آتے تو آپ ﷺ فرماتے :۔ اے اللہ فلاں لوگوں پر اپنی رحمت فرما۔“ جب میرا باپ اپنا صدقہ لے کر آیا تو فرمایا۔ اے اللہ آل ابی اوفی پر رحمت فرما۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
زکوٰۃ دینے والا اپنی مرضی سے زیادہ زکوٰۃ ادا کرے تو اس کیلئے بہت زیادہ ثواب ہے :-
” حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے نبی کریم ﷺ نے صدقہ وصول کرنے کیلئے بھیجا۔ میں ایک آدمی کے پاس پہنچا اس نے میرے سامنے اپنا مال پیش کر دیا۔ وہ مال بس اتنا ہی تھا کہ اس شخص کو ایک سال کی اونٹنی ادا کرنا تھی۔ میں نے اسے کہا کہ ” ایک سال کی بچی دے دو۔“ اس نے کہا کہ وہ نہ دودھ دینے والی ہے اور نہ سواری کے قابل ہے لہذا یہ میری اونٹنی ہے‘ جوان اور موٹی تازی‘ یہ لے لیجئے۔ میں نے کہا کہ میں تو نبی کریم ﷺ کے حکم کے بغیر اسے نہیں لے سکتا‘ ہاں البتہ نبی اکرم ﷺ تمہارے قریب ہی (مدینہ منورہ میں) تشریف فرما ہیں اگر آپ پسند کریں‘ تو ان کی خدمت میں اپنی اونٹنی پیش کر دو جو میرے سامنے پیش کی ہے اگر آپ ﷺ نے تجھ سے قبول فرمالی تو میں بھی اسے قبول کر لوں گا لیکن اگر آپ ﷺ نے قبول نہ فرمائی تو میں بھی قبول نہیں کروں گا لہذا وہ تیار ہو گیا اور میرے ساتھ روانہ ہوا اونٹنی بھی اپنے ہمراہ لے لی۔ ہم جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے کہا ’ اے اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ آپ ﷺ کا تحصیلدار میرے پاس صدقہ وصول کرنے آیا اور اللہ کی قسم یہ پہلا موقعہ ہے کہ آپ ﷺ کا قاصد میرے پاس صدقہ لے کر آیا ہے۔ میں نے اپنا مال ان کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے کہا کہ ایک سال کی بچی دے دو حالانکہ وہ نہ دودھ دے سکتی ہے ، نہ ہی سواری کے قابل ہے (میں نے کہا) وہ اونٹنی جوان موٹی تازی ہے لے لیجئے‘ لیکن انہوں نے انکار کر دیا۔ اب میں اسے (یعنی اونٹنی کو) لے کر آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں کہ اسے لے لیجئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تم پر واجب تو اتنا ہی تھا‘ لیکن اگر خوشی سے نیکی کرو گے تو اللہ تمہیں اس کا اجر دے گا‘ اور ہم اس کو قبول کرلیں گے۔ اس نے کہا یہ اونٹنی موجود ہے اسے لے لیجئے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے اسے لینے کا حکم فرمایا اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی ۔“ (سنن ابو داؤد)
تحصیل دار کو لوگوں کے گھر جا کر زکو ٰۃ وصول کرنی چاہئے :-
” حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :۔ زکوٰۃ لینے کیلئے (تحصیل دار) مویشی (اپنے ٹھکانے پر) نہ منگوائے اور نہ ہی مالک اپنے مویشی کہیں دور بلکہ مویشیوں کی زکوٰۃ ان کے ٹھکانوں پر وصول کی جائے ۔“ (سنن ابو داؤد)
English Translation
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
Etiquettes of Giving and Receiving Zakah (1) — In the Light of Hadith
Supplication for Blessing Should Be Made for the One Who Brings Zakah:
“Hazrat ‘Abdullah ibn Abi Awfa رضي الله عنه narrates that whenever people brought their صدقات (charity/Zakah) to the Noble Prophet ﷺ, he would say: ‘O Allah, send Your mercy upon the people of so-and-so.’ When my father brought his charity, the Prophet ﷺ said: ‘O Allah, send mercy upon the family of Abi Awfa.’” (Sahih Bukhari, Sahih Muslim)
If a Person Voluntarily Gives More Than the Required Zakah, There Is Great Reward for Him:
“Hazrat Ubayy ibn Ka‘b رضي الله عنه says: The Noble Prophet ﷺ sent me to collect صدقہ (Zakah). I came to a man who presented his wealth before me. It was only enough that one one-year-old she-camel was due from him. I said to him: ‘Give a one-year-old she-camel.’ He replied: ‘It neither gives milk nor is suitable for riding; instead, take this she-camel—it is young, strong, and healthy.’
I said: ‘I cannot take it without the permission of the Messenger of Allah ﷺ. However, the Prophet ﷺ is nearby (in Madinah); present it before him. If he accepts it, I will accept it; otherwise, I will not.’
So he accompanied me, bringing the she-camel with him. When we came before the Messenger of Allah ﷺ, he said: ‘O Messenger of Allah ﷺ! Your collector came to me to collect Zakah. By Allah, this is the first time your envoy has come to me. I presented my wealth, and he asked for a one-year-old she-camel, though it neither produces milk nor is suitable for riding. I offered him a healthy, strong she-camel, but he refused. Now I have brought it before you—please accept it.’
The Messenger of Allah ﷺ said: ‘What was obligatory upon you was only that much; but if you voluntarily do good, Allah will reward you for it, and we will accept it.’
He said: ‘Here is the she-camel; please take it.’ The Prophet ﷺ then ordered it to be accepted and supplicated for barakah in his wealth.” (Sunan Abu Dawood)
The Collector Should Go to People to Receive Zakah:
“Hazrat ‘Amr ibn Shu‘ayb رضي الله عنه narrates from his father, from his grandfather, that the Noble Prophet ﷺ said: ‘The collector should not summon the livestock (to his own place), nor should the owner take them far away; rather, Zakah of livestock should be collected at their own locations.’” (Sunan Abu Dawood)