زکوٰۃ لینے اور دینے کے آداب (۳)

اشاعت: 10-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
zakat dene lene ke adab hadith ki roshni mein, zakat tarika, hissa aur nisab ki rehnumai

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

زکوٰۃ لینے اور دینے کے آداب (۳) (احادیث کی روشنی میں)

مشترک کاروبار میں حصہ داران کو اپنے اپنے حصے کی نسبت سے زکاۃ ادا کرنی چاہئے :-

” حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں فرض زکوٰۃ میں وہی بات لکھی تھی جو رسول اللہ نے مقرر فرمائی تھی اس میں یہ بھی لکھوایا تھا کہ جب دو شریک ہوں تو وہ اپنا حساب برابر کر لیں۔“ (صحیح بخاری)

وضاحت :- ۱۔ مثلاً ایک کاروبار میں دو آدمی برابر کے سرمایہ سے شریک ہیں تو سال کے آخر میں اس رقم کی زکاۃ ادا کرنے کے لئے دونوں شریک زکوۃ کی نصف نصف رقم ادا کریں گے۔ ۲۔ کمپنیوں وغیرہ کی زکاۃ کی اصل ذمہ داری کمپنیوں پر ہے لیکن اگر کسی وجہ سے وہ ادا نہ کریں تو حصہ داران کو اپنے اپنے حصے کی نسبت سے زکاۃ ادا کرنی چاہئے۔

زکاۃ جس جگہ وصول کی جائے وہیں تقسیم کرنا افضل ہے لیکن ضرورت سے دوسری جگہ بھجوانی جائز ہے :-

” حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہیں زکوٰۃ کا تحصیل دار مقرر کیا گیا‘ جب وہ واپس تشریف لائے تو ان سے پوچھا گیا ”مال کہاں ہے؟“ انہوں نے فرمایا :۔ کیا آپ نے مجھے مال لانے کے لئے بھیجا تھا؟ ہم وہیں سے مال لیتے ہیں جہاں سے عہد رسالت میں لیا کرتے تھے اور وہیں بانٹ دیتے ہیں جہاں عہد رسالت میں بانٹ دیا کرتے تھے“۔ (سنن ابن ماجه) وضاحت :- زکاۃ وصول کر کے تقسیم کرنے کا علاقہ تحصیلدار کا احاطہ اقتدار (یعنی تحصیل) ہے۔

” حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا (تو ارشاد فرمایا) :۔ لوگوں کو بتانا کہ ان پر اللہ تعالیٰ نے زکاۃ فرض کی ہے جو ان کے مال داروں سے لے کر ان کے فقراء کو دی جائے گی “۔ (صحیح بخاری)

زکاۃ وصول کرنے والے کو کسی زکاۃ دینے والے سے تحفہ نہیں لینا چاہئے :-

” حضرت ابو ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ نے بنو اسد (قبیلے) کے ایک شخص بن لتبیہ نامی کو (عامل مقرر فرمایا‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ نے اسے زکاۃ وصول کرنے کیلئے (تحصیلدار) مقرر فرمایا تھا) جب وہ شخص واپس آیا تو کہنے لگا ”یہ آپ کا (یعنی بیت المال کا) حصہ ہے اور یہ میرا حصہ ہے‘ جو مجھے بطور تحفہ دیا گیا ۔“ (یہ سن کر) رسول اللہ منبر پر تشریف لائے‘ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا :۔ اس تحصیل دار کا معاملہ کیا ہے جسے میں نے (زکاۃ وصول کرنے کیلئے) بھیجا اور (واپس آکر) کہتا ہے یہ تو آپ کا مال ہے اور مجھے بطور تحفہ دیا گیا ہے وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر کیوں نہ بیٹھا رہا پھر دیکھتا کہ اسے تحفہ ملتا ہے یا نہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ تم میں سے جو شخص اس طرح سے کوئی مال لے گا (یعنی تحفہ وغیرہ کے نام پر) تو وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر اُٹھا کر لائے گا اونٹ ہو گا تو وہ بلبلاتا ہوگا۔ گائے ہوگی تو وہ چلاتی ہوگی۔ بکری ہوگی تو وہ ممیاتی ہوگی۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھائے حتیٰ کہ ہمیں آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آگئی۔ آپ نے دو مرتبہ فرمایا :۔ یا اللہ! میں نے (تیرا حکم) پہنچا دیا“۔ (صحیح مسلم)

وضاحت :- کسی عہدیدار کو اس کی امارت اور حکومت کی وجہ سے ملنے والا ہدیہ اسکے لئے جائز نہیں۔ اگر وہ کسی حکومتی منصب پر فائز نہیں، تب اسے ہدیہ ملتا ہے تو اسکے لئے جائز ہے۔

Etiquettes of Receiving and Giving Zakat (Part 3)

In a partnership business, each partner must pay zakat according to their share:

Hazrat Anas (RA) narrated that Hazrat Abu Bakr (RA) wrote to him the instructions regarding zakat as prescribed by the Messenger of Allah , and in it was mentioned that when two people are partners, they should calculate their zakat proportionately.
(Sahih Bukhari)

Explanation:

  1. For example, if two individuals jointly invest in a business with equal capital, then at the end of the year each partner will pay zakat equal to their respective share.

  2. In the case of companies, the primary responsibility of zakat lies on the company itself. If, for any reason, the company does not pay zakat, then shareholders must pay zakat according to their individual shareholding.


It is preferable that zakat be distributed in the same locality from where it is collected, but transferring it elsewhere due to need is permissible:

Hazrat Imran bin Husain (RA) was appointed as a zakat collector. When he returned, he was asked, “Where is the collected wealth?” He replied:
“Did you send me to bring wealth? We collect zakat from the same places as during the time of the Messenger of Allah and distribute it among the people there as was done in his time.”
(Sunan Ibn Majah)

Explanation:
The area of zakat collection and distribution should generally remain within the same jurisdiction of the collector unless a strong need or benefit exists.


Hazrat Abdullah bin Abbas (RA) narrated that the Prophet said to Mu’adh (RA) when sending him to Yemen:

“…Inform them that Allah has made zakat obligatory upon them, to be taken from their wealthy and given to their poor.”
(Sahih Bukhari)


A zakat collector must not accept personal gifts from zakat payers:

Hazrat Abu Sa‘idi (RA) reported that the Prophet appointed a man from Banu Asad as a zakat collector. When he returned, he said:
“This is for you (the public treasury), and this was given to me as a gift.”

The Prophet ascended the pulpit, praised Allah, and said:
“What is the matter with an official whom I appoint and he says, ‘This is yours and this was gifted to me’? Why did he not sit in the house of his father or mother to see whether gifts would be given to him?”

He then said:
“By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad , whoever takes anything unjustly will carry it on the Day of Judgment…”
(Sahih Muslim)

Explanation:
Any gift given to a public official due to their position is not permissible for them. However, if such gifts were normally given even without holding an official position, then they may be permissible.