زکوٰۃ کے مصارف (۲)

اشاعت: 10-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
zakat ke masarif hadith ki roshni mein, mustahiq log aur zakat taqseem ki rehnumai

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

زکوٰۃ کے مصارف (۲) (احادیث کی روشنی میں)

زکوٰۃ صرف مسلمانوں کو دینی جائز ہے :-

” حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: تم اہل کتاب کے پاس جا رہے ہو انہیں توحید و رسالت کی دعوت دو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر دن رات میں پنجگانہ نماز فرض کی ہے۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو انہیں بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر زکاۃ فرض کی ہے جو کہ تمہارے مال داروں سے لی جائے گی اور تمہارے محتاجوں کو دی جائے گی۔ اگر وہ تمہاری یہ بات بھی مان لیں تو خبردار ان کے نفیس مال نہ لینا‘ اور مظلوم کی بد دعا سے ڈرتے رہنا‘ کیوں کہ اس کی بد دُعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا ہے“۔ (صحیح مسلم)

نومسلموں یا اسلام کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھنے والے غیر مسلموں کو تالیف قلب کے لئے زکاۃ دینا جائز ہے :-

” حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یمن سے مٹی میں ملا ہوا کچھ سونا (یعنی کان سے نکلا ہوا ) نبی اکرم کے پاس بھیجا ۔ آپ نے اسے چار آدمیوں میں تقسیم فرما دیا۔ (۱) اقرع بن حابس حنظلی ۔ (۲) عیینہ بن بدر قراری ۔ (۳) علقمہ بن علاقہ عامری۔ (۴) ایک آدمی بنی کلاب سے ۔ زید خیر الطائی یا پھر بنی نبہان سے‘ اس پر قریش بہت غضبناک ہوئے اور کہنے لگے آپ نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں۔ اور ہم کو نہیں دیتے ۔ اس پر رسول اللہ نے فرمایا :۔ میں ان کو اس لئے دیتا ہوں کہ ان کے دلوں میں اسلام کی محبت پیدا ہو“۔ (صحیح مسلم)

غلاموں کی آزادی یا قیدیوں کی رہائی کیلئے زکاۃ صرف کرنا جائز ہے :-

” حضرت براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی اکرم کے پاس آیا اور کہا: مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت سے قریب کر دے اور دوزخ سے دور ہٹا دے؟ آپ نے فرمایا: جان کو آزاد کر۔ اور غلام کو نجات دلا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا نہیں‘ جان آزاد کرنا یہ ہے کہ تو اکیلا آزاد کرے غلام کو نجات دلانا یہ ہے کہ تو اس کی قیمت ادا کرنے میں مدد کرے“۔ (مسند احمد)

اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کو زکوٰۃ دینا جائز ہے :-

” عطاء بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا غنی آدمی کے لئے زکاۃ حلال نہیں‘ مگر پانچ صورتوں میں (۱) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے لئے۔ (۲) عامل زکاۃ کے لئے۔ (۳) تاوان بھرنے والے کے لئے۔ (۴) اس غنی آدمی کے لئے جو اپنے مال سے کسی غریب کو زکوٰۃ میں دی گئی کوئی چیز خریدنا چاہے۔ (۵) اس غنی آدمی کے لئے جس کا ہمسایہ محتاج تھا کسی نے اس مسکین کو زکوٰۃ میں کوئی چیز دی اور اس مسکین نے غنی (ہمسائے) کو ہدیہ کے طور پر دے دی“۔ (سنن ابوداؤد)

وضاحت :۔ ۱۔ جہاد فی سبیل اللہ میں میدان جنگ کی لڑائی کے علاوہ حج اور عمرہ بھی شامل ہیں۔ ۲۔ بعض علماء کے نزدیک دین کی سربلندی‘ دین کی تیاری اور اشاعت کے جملہ کام مثلاً دینی مدارس کی تعمیر ان کی دیکھ بھال‘ دینی کتب کی اشاعت اور تقسیم وغیرہ بھی فی سبیل اللہ میں شامل ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ۳۔ جہاد فی سبیل اللہ کی مد میں جمع شدہ رقوم پر زکوٰۃ نہیں ہے۔

دوران سفر میں ضرورت پڑنے پر مسافر کو زکاۃ دینی جائز ہے خواہ اپنے گھر میں غنی ہی ہو :-

” حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:۔ صدقہ آدمی کے لئے حلال نہیں مگر اس آدمی کے لئے جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں نکلا ہوا ہو یا مسافر کے لئے یا فقیر پر صدقہ کیا گیا اور اس نے کسی غنی آدمی کو ہدیہ کے طور پر دے دیا یا اس کی دعوت کی۔ (یعنی غنی کو فقیر کا ہدیہ یا دعوت قبول کرنا جائز ہے خواہ وہ ہدیہ اور دعوت زکاۃ کے مال سے کی گئی ہو)“۔ (سنن ابوداؤد)

Bismillah ir-Rahman ir-Raheem

Zakat Expenditures (2) — In the Light of Hadith

Zakat should be given to Muslims

Hazrat Ibn Abbas (RA) narrates that when the Prophet sent Hazrat Mu‘adh (RA) to Yemen, he said: invite them to the Oneness of Allah and the Prophethood. If they accept this, inform them that Allah has made five daily prayers obligatory upon them. If they accept this, then inform them that Allah has made Zakat obligatory upon them, which is taken from their wealthy and given to their poor. And beware of taking their best wealth, and fear the supplication of the oppressed, for there is no barrier between it and Allah.
(Sahih Muslim)

It is permissible to give Zakat to new Muslims or non-Muslims whose hearts are to be inclined toward Islam

Hazrat Abu Sa‘eed Khudri (RA) narrates that Hazrat Ali (RA) sent some gold mixed with soil from Yemen to the Prophet . The Prophet distributed it among four people: Aqra bin Habis, Uyaynah bin Badr, Alqamah bin ‘Ulafah, and a man from Banu Kilab. Some leaders of Quraysh expressed displeasure and said: you give to the chiefs of Najd and not to us. The Prophet replied: “I give them so that their hearts may be inclined toward Islam.”
(Sahih Muslim)

Zakat can be used for freeing slaves or releasing captives

Hazrat Bara (RA) narrates that a man came to the Prophet and asked: tell me a deed that will bring me closer to Paradise and distance me from Hell. The Prophet said: free a person and help a slave gain freedom. He asked: are these not the same? The Prophet said: freeing a person is when you free him alone, and helping a slave is assisting in paying his ransom.
(Musnad Ahmad)

Zakat may be given to those striving in the path of Allah

Ata bin Yasar (RA) narrates that the Prophet said: Zakat is not lawful for a wealthy person except in five cases:

  1. One striving in the path of Allah

  2. A Zakat collector

  3. A person burdened with liability

  4. A wealthy person who purchases something given in Zakat to a poor person

  5. A wealthy person whose needy neighbor received Zakat and then gifted it to him
    (Sunan Abu Dawud)

Explanation:

  1. Striving in the path of Allah includes not only battlefield struggle but also Hajj and ‘Umrah.

  2. According to some scholars, efforts for the elevation and propagation of Islam—such as construction and maintenance of religious institutions and publication of Islamic literature—are also included.

  3. Funds collected specifically for the cause of striving in the path of Allah are not themselves subject to Zakat. 

A traveler in need may be given Zakat even if wealthy at home

Hazrat Abu Sa‘eed (RA) narrates that the Prophet said: Charity is not lawful for a wealthy person except for one who is striving in the path of Allah, or a traveler, or when charity is given to a poor person and he gifts it to a wealthy person or invites him.
(Sunan Abu Dawud)