جھوٹی قسم کھانا اور قسم توڑ دینے کا بیان

اشاعت: 05-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Jhooti qasam khana aur qasam torna – Hadith mein false oath ki sakht saza aur kaffara ka Islami bayan

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

جھوٹی قسم کھانا اور قسم توڑ دینے کا بیان (احادیث کی روشنی میں)

جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانے کی سختی کے ساتھ ممانعت کا بیان :-

” حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے‘ نبی کریم نے فرمایا :۔ جس شخص نے ناحق کسی مسلمان آدمی کا مال حاصل کرنے کے لئے قسم کھائی‘ تو وہ اللہ کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب ناک ہو گا۔ راوی نے کہا‘ پھر رسول اللہ نے ہمیں اللہ عزوجل کی کتاب سے اس مفہوم کی تصدیق کرنے والی آیت پڑھ کر سنائی۔ بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعے سے تھوڑا سا مول لے لیتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور نہ قیامت والے دن اللہ سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا۔ (آل عمران . ۷۷) “ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

” حضرت ابو امامہ ایاس بن ثعلبہ حارثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایا، جو شخص اپنی (جھوٹی) قسم کے ذریعے سے کسی مسلمان کا حق لے لے تو جنت اس پر حرام کر دیتا ہے۔ تو ایک شخص نے عرض کیا‘ یا رسول اللہ ! چاہئے وہ تھوڑی سی چیز ہو؟ آپ نے فرمایا‘ چاہے وہ پیلو کے درخت کی ایک شاخ ہی ہو۔ “ (صحیح مسلم)

” حضرت عبداللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم نے فرمایا :- بڑے بڑے گناہ ہیں۔ اللہ کے ساتھ شرک کرنا‘ ماں باپ کی نافرمانی کرنا‘ ناحق کسی جان کو قتل کرنا اور جھوٹی قسم کھانا۔ “ (صحیح بخاری)

اور بخاری کی ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دیہاتی نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا‘ اے اللہ کے رسول ! بڑے گناہ کون کون سے ہیں؟ آپ () نے فرمایا‘ اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ اس نے پوچھا‘ پھر کون سا؟ آپ () نے فرمایا :- جھوٹی قسم۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا‘ جھوٹی قسم کیا ہے؟ آپ () نے فرمایا‘ وہ جو کسی مسلمان آدمی کا مال لے لے۔ یعنی ایسی قسم کھا کر جس میں وہ جھوٹا ہو۔ “ (صحیح بخاری)

کسی نیک کام نہ کرنے یا کسی غلط کام کو کرنے کی اگر قسم کھا بیٹھے تو قسم توڑ دے اور کفارہ دے :-

” حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ نے فرمایا :- جب تو کسی کام پر حلف اُٹھا لے، پھر تو اس قسم کے پورا نہ کرنے کو بہتر سمجھے، تو تو وہ کام کر جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ دے دے۔ “ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایا :- جو شخص کسی کام پر قسم کھائے، پھر وہ کسی اور (کام) میں بہتری دیکھے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے، اور وہ کام کرے جو بہتر ہے۔ “ (صحیح مسلم)

” حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ نے فرمایا :- بے شک میں اللہ کی قسم! اگر اللہ نے چاہا، کسی کام پر حلف نہیں اُٹھاؤں گا، پھر میں اس سے زیادہ بہتر صورت دیکھوں تو میں ضرور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا اور وہ کام اختیار کروں گا، جو بہتر ہے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

” حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا، تم میں سے کسی شخص کا اپنے گھر والوں کے بارے میں قسم کھا کر اس پر اڑے رہنا، اللہ کے ہاں اس کیلئے اس بات سے زیادہ گناہ کا باعث ہے کہ وہ اس قسم کا وہ کفارہ ادا کر دے جو اللہ نے اس پر فرض کیا ہے۔ “ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

یعنی قسم کے پورا نہ کرنے میں خیر دیکھے۔ تو انسان یہی نہ سوچتا رہے کہ میں تو قسم کھا بیٹھا ہوں، اب فائدہ ہو یا نقصان، میں تو وہی (خلاف شریعت) کام کرنے پر مجبور ہوں۔ شریعت نے ایسے موقعوں پر قسم کے توڑ دینے اور اس کا کفارہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

 

False Oaths and Breaking an Oath — In the Light of Hadith

Severe Prohibition of Deliberately Swearing a False Oath:


“Hazrat Ibn Mas‘ud رضي الله عنه narrates that the Noble Prophet said: ‘Whoever swears an oath in order to unlawfully take the wealth of a Muslim will meet Allah while He is غضب (angry) with him.’ The narrator said: Then the Messenger of Allah recited to us a verse from the Book of Allah confirming this meaning:
‘بے شک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعے سے تھوڑا سا مول لے لیتے ہیں، ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا اور نہ قیامت والے دن اللہ سے کلام کرے گا، نہ ان کی طرف نظر رحمت سے دیکھے گا۔ (آل عمران . ۷۷)’” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

“Hazrat Abu Umamah Iyas ibn Tha‘labah al-Harith رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘Whoever, by means of a (false) oath, takes the right of a Muslim, Allah makes Jannah (Paradise) حرام (forbidden) upon him.’ A man asked: ‘O Messenger of Allah , even if it is something small?’ He replied: ‘Even if it is a twig of the peelu tree.’” (صحیح مسلم)

“Hazrat ‘Abdullah ibn ‘Amr ibn al-‘As رضي الله عنه narrates that the Prophet said: ‘Among the gravest sins are: associating partners with Allah, disobedience to parents, unlawfully killing a soul, and swearing a false oath.’” (صحیح بخاری)

And in another narration in Bukhari, a Bedouin came to the Prophet and asked: “O Messenger of Allah! What are the major sins?” He said: “Associating partners with Allah.” He asked: “Then what?” He said: “A false oath.” The narrator says: I asked, “What is a false oath?” He replied: “It is that by which one takes the wealth of a Muslim—swearing while he is lying.” (صحیح بخاری)

If One Swears an Oath Not to Do a Good Deed or to Commit a Wrong, He Should Break the Oath and Offer Expiation (Kaffarah):


“Hazrat ‘Abd al-Rahman ibn Samurah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said to me: ‘When you swear an oath regarding something, then later consider it better not to fulfill that oath, do what is better and offer expiation (Kaffarah) for your oath.’” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘Whoever swears an oath to do something and then sees that something else is better, he should offer expiation for his oath and do what is better.’” (صحیح مسلم)

“Hazrat Abu Musa رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah said: ‘By Allah! If Allah wills, I do not swear an oath regarding something and then see a better alternative except that I offer expiation for my oath and adopt what is better.’” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

“Hazrat Abu Hurairah رضي الله عنه said: ‘For one of you to persist in his oath regarding his family is more sinful in the sight of Allah than that he should offer the expiation which Allah has made obligatory upon him for breaking it.’” (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

That is, if a person sees goodness in not fulfilling his oath, he should not continue thinking: “I have sworn an oath, so whether it brings benefit or harm, I am compelled to act upon it (even if it goes against Shari‘ah).” Rather, the Shari‘ah has instructed that in such situations one should break the oath and offer its expiation.