بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
بے نماز، جھوٹے، سود خور اور زانی کا انجام (۲) (احادیث کی روشنی میں)
حدیث کا دوسرا حصہ ہے:- ” اس آدمی کے ارد گرد زیادہ بچے ہیں ایسے بچے میں نے کبھی نہیں دیکھے۔ میں نے پوچھا ’یہ کیا ہے؟ اور یہ بچے کون ہیں؟ انہوں نے کہا ’(آگے) چلئے۔ پس ہم چلے اور ایک بہت بڑے درخت پر آئے۔ اس سے زیادہ بڑا اور اس سے زیادہ اچھا درخت میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ دونوں ساتھیوں نے مجھے سے کہا ’اس پر چڑھئے‘ پس ہم اس پر چڑھے تو ایک ایسا شہر ہمیں نظر آیا جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہوا تھا‘ پس ہم اس شہر کے دروازے پر آئے اور اسے کھولنے کا مطالبہ کیا‘ پس وہ دروازہ ہمارے لئے کھول دیا گیا اور ہم اس میں داخل ہو گئے۔ پس ہمیں بہت سے آدمی ملے‘ ان کا آدھا جسم تو اس خوبصورت ترین آدمی کی طرح ہے جو تم نے دیکھا ہو اور آدھا جسم اس بدترین آدمی کی طرح ہے جو تم نے دیکھا ہو۔ دونوں ساتھیوں نے ان آدمیوں سے کہا ’جاؤ اور اس نہر میں کود جاؤ۔ وہاں عرضاً ایک نہر بہہ رہی تھی اُسکا پانی سفیدی میں گویا دودھ تھا‘ پس وہ لوگ گئے اور اس میں کود گئے۔ پھر وہ ہماری طرف واپس آئے تو ان کے آدھے جسم کی بدصورتی دور ہو چکی تھی اور بہترین صورت والے ہو گئے تھے‘ آپ ﷺ نے فرمایا ’ان دونوں نے مجھے کہا ’یہ جنت عدن ہے اور یہ آپ ﷺ کا مقام ہے۔ میری نگاہ جو اوپر اُٹھی تو سفید بادل کی طرح ایک محل نظر آیا۔ دونوں ساتھیوں نے مجھے کہا ‘ یہ ہے آپ ﷺ کا مقام۔ میں نے ان سے کہا ’اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا کرے‘ تم مجھے چھوڑو‘ میں اندر جاؤں۔ انہوں نے کہا ’لیکن ابھی نہیں۔ البتہ آپ ﷺ ہی اس میں داخل ہوں گے (نہ کہ کوئی اور)۔ میں نے ان سے کہا ’میں نے رات کو عجیب چیزیں دیکھی ہیں‘ میں نے جو کچھ دیکھا ہے یہ کیا ہے؟ دونوں نے کہا ’ہم ابھی آپ کو بتلائے دیتے ہیں۔ وہ پہلا آدمی‘ جس کے پاس سے آپ گزرے اور اس کا سر پتھر سے کچلا جا رہا تھا‘ وہ شخص ہے جو قرآن حاصل کرے اور پھر اسے چھوڑ دے (حفظ کر کے بھول جائے‘ یا قرآن کا علم حاصل کر کے بے عمل ہو جائے) اور فرض نماز پڑھے بغیر سو جائے۔ اور وہ آدمی‘ جس کے پاس سے آپ گزرے جس کے جبڑے کو اسکے نتھنے کو اور اس کی آنکھ کو اس کی گدی تک چیرا جا رہا تھا یہ وہ شخص ہے جو صبح اپنے گھر سے نکلتا اور جھوٹ بولتا جو (دنیا کے) کناروں تک پھیل جاتا، اور وہ برہنہ مرد اور عورتیں جو تنور جیسے گڑھے میں تھیں‘ وہ بدکار مرد اور بدکار عورتیں تھیں۔ اور وہ آدمی‘ جس کے پاس آپ آئے‘ وہ نہر میں تیر رہا تھا اور اس کے منہ میں پتھر کا لقمہ دیا جاتا تھا‘ وہ سود خور شخص تھا۔ اور وہ نہایت بدمنظر آدمی جو آگ کے پاس تھا‘ اسے دہکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑتا تھا‘ وہ داروغہ جہنم‘ مالک ہے۔ اور وہ دراز قد آدمی‘ جو باغ میں تھا‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ بچے جو ان کے ارد گرد تھے‘ یہ تمام وہ بچے تھے جو فطرت (صحیح دین) پر فوت ہوئے۔ اور برقانی کی روایت میں ہے‘ وہ بچے ہیں جو فطرت پر پیدا ہوئے۔ مسلمانوں میں سے ایک نے سوال کیا ’یا رسول اللہ ﷺ ! اور مشرکین کے بچے (بھی وہیں تھے)؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘مشرکین کے بچے بھی۔ لیکن وہ لوگ‘ جن کا آدھا جسم خوبصورت اور آدھا جسم بدصورت تھا‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ملے جلے عمل کئے‘ کچھ عمل نیک کئے اور دوسرے کچھ برے بھی‘ اللہ نے ان سے درگزر فرمایا “۔ (صحیح بخاری)