بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
شراب کا بیان (احادیث کی روشنی میں)
شراب کیا ہے :-
” ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ ہر نشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے “۔ (صحیح مسلم)
شراب تھوڑی سی بھی حرام ہے :-
” حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ارشاد نبوی ﷺ ہے، جس (مشروب) کا کثیر نشہ لائے اس کا قلیل بھی حرام ہے (اگرچہ قلیل نشہ آور نہ ہو) “۔
(جامع ترمذی ، سنن ابو داؤد ، سنن ابن ماجه)
” حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا جس مشروب کے ”فرق“ سے نشہ آئے اس کا ہتھیلی (یعنی چلو) کے برابر بھی حرام ہے “۔ (جامع ترمذی ، سنن ابن ماجه) وضاحت :- ”فرق“ سے مراد سولہ (۱۶) رطل ہیں، جو تقریباً پانچ لیٹر کے برابر ہے، حدیث سے مقصود یہ ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہے اس کا ایک گھونٹ بھی حرام ہے۔ واللہ اعلم۔
شراب سے علاج کی ممانعت :-
” وائل حضرمی بیان کرتے ہیں کہ طارق بن سوید نے رسول اللہ ﷺ سے شراب کے بارے میں دریافت کیا؟ آپ ﷺ نے اسے روکا۔ اس نے کہا میں اس سے علاج کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا، (شراب) دوا نہیں ہے، وہ تو بیماری ہے “۔ (صحیح مسلم)
شراب سے کوئی اور چیز بھی تیار نہیں کی جاسکتی :-
” حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا، کیا شراب کا سرکہ بنا لیا جائے؟ آپ ﷺ نے نفی میں جواب دیا “۔ (صحیح مسلم)
شراب ضرورت کے تحت بھی نہیں پی جاسکتی، پینے والوں سے لڑائی کرو :-
” ویلم حمیری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم سرد علاقہ کے (باشندے) ہیں، ہم وہاں سخت محنت و مشقت کرتے ہیں، ہم گندم سے شراب تیار کرتے ہیں اور اس کے استعمال سے ہم وہاں کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں اور اپنے علاقوں کی سرد لہروں سے محفوظ رہتے ہیں۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا، کیا وہ نشہ آور ہے؟ میں نے جواب دیا، جی ہاں! آپ ﷺ نے فرمایا اس سے کنارہ کش رہو۔ میں نے عرض کیا، عوام الناس کبھی اس سے کنارہ کش نہیں ہو سکتے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا، اگر وہ اس کو نہ چھوڑیں تو تم ان سے لڑائی کرو “۔ (سنن ابو داؤد)
” ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے اس میں کچھ فرق محسوس نہیں ہوتا کہ میں شراب نوشی کروں یا اللہ کے سوا اس ستون کی عبادت کروں “۔ (سنن نسائی)
English Translation
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
The Ruling on Intoxicants (Khamr) — In the Light of Hadith
What is Khamr?
“Ibn ‘Umar رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ said: ‘Every intoxicating substance is خمر (Khamr — an intoxicant), and every intoxicant is حرام (unlawful).’” (صحیح مسلم)
Even a Small Amount of Khamr is Haram:
“Hazrat Jabir رضي الله عنه narrates that the Prophet ﷺ said: ‘Whatever (drink) intoxicates in large quantities, even a small amount of it is also حرام (even if the small amount does not itself intoxicate).’”
(جامع ترمذی ، سنن ابو داؤد ، سنن ابن ماجه)
“Hazrat ‘A’ishah رضي الله عنها narrates from the Messenger of Allah ﷺ that he said: ‘The drink from which a “فرق” causes intoxication, even an amount equal to a handful (i.e., a palmful) of it is حرام.’”
(جامع ترمذی ، سنن ابن ماجه)
Clarification:
“فرق” refers to sixteen (16) ratl, which is approximately equivalent to five liters. The intent of the Hadith is that anything whose larger quantity intoxicates—even a single sip of it—is حرام. والله أعلم.
Prohibition of Treatment with Khamr:
“Wa’il al-Hadrami narrates that Tariq ibn Suwayd asked the Messenger of Allah ﷺ about Khamr. The Prophet ﷺ forbade him. He said, ‘I use it for medical treatment.’ The Prophet ﷺ replied: ‘It is not a medicine; rather, it is a disease.’” (صحیح مسلم)
Nothing Else May Be Produced from Khamr:
“Hazrat Anas رضي الله عنه narrates that the Messenger of Allah ﷺ was asked: ‘May Khamr be converted into vinegar?’ He ﷺ replied in the negative.” (صحیح مسلم)
Khamr Cannot Be Consumed Even Out of Necessity; Strive Against Those Who Drink It:
“Wailam Himyari رضي الله عنه narrates: I said to the Messenger of Allah ﷺ, ‘O Messenger of Allah ﷺ! We live in a cold region where we endure intense labor and hardship. We prepare a drink from wheat, and by using it we become able to work and protect ourselves from the severe cold of our lands.’ The Prophet ﷺ asked, ‘Is it intoxicating?’ I replied, ‘Yes.’ He ﷺ said, ‘Then keep away from it.’ I said, ‘The common people cannot refrain from it.’ The Prophet ﷺ commanded: ‘If they do not abandon it, then fight them.’” (سنن ابو داؤد)
“Abu Musa al-Ash‘ari رضي الله عنه said: ‘I do not perceive any difference between drinking Khamr and worshipping this pillar instead of Allah.’” (سنن نسائی)