بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
بے نماز، جھوٹے، سود خور اور زانی کا انجام (۱) (احادیث کی روشنی میں)
” حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اکثر اپنے صحابہ سے دریافت فرماتے تھے کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ پس آپ کے سامنے کوئی شخص‘ جو اللہ چاہتا بیان کرتا۔ اور ایک دن صبح کے وقت آپ ﷺ نے ہمارے سامنے بیان فرمایا‘ کہ رات کو (خواب میں) میرے پاس دو آنے والے آئے‘ ان دونوں نے مجھ سے کہا ’چلئے‘ میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ (چلتے چلتے) ہمار ا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو لیٹا ہوا تھا‘ اور اس کے ساتھ ہی ایک دوسرا آدمی‘ اس کے اوپر پتھر لئے کھڑا ہے‘ وہ پتھر اس کے سر پر مارتا ہے اور اس کے سر کو پاش پاش کر دیتا ہے‘ پس وہ پتھر وہاں سے لڑھک کر دور جا گرتا ہے‘ تو وہ پتھر کے پیچھے جاتا اور اسے پکڑ لاتا ہے‘ اس کے دوبارہ واپس آنے تک اس کا سر پہلے کی طرح صحیح ہو جاتا ہے‘ وہ پھر اس کی طرف لوٹتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو اس نے پہلی مرتبہ کیا تھا۔ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں‘ میں نے ان دو آدمیوں سے پوچھا ’سبحان اللہ ! یہ کیا ماجرا ہے؟‘ انہوں نے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم چل پڑے اور ایک ایسے آدمی کے پاس آئے جو گدی کے بل (چت) لیٹا ہوا تھا اور اس کے پاس ہی ایک دوسرا آدمی لوہے کا زنبور لئے اس کے اُوپر کھڑا ہے‘ وہ اس کے چہرے کی ایک طرف آتا ہے اور اس کے جبڑے کو اس کی گدی تک چیر دیتا ہے‘ اس کے نتھنے کو اور اس کی آنکھ کو بھی گدی تک چیر دیتا ہے۔ پھر وہ اس کے چہرے کی دوسری جانب آتا ہے اور وہی عمل کرتا ہے جو اس نے پہلی جانب میں کیا تھا۔ پس وہ اس ایک جانب سے فارغ نہیں ہو پاتا کہ دوسری جانب پہلے کی طرح صحیح ہو جاتی ہے۔ وہ پھر اس کی طرف آتا ہے اور وہی کچھ کرتا ہے جو پہلی مرتبہ میں کیا تھا۔ آپ نے فرمایا‘ میں نے پوچھا ’سبحان اللہ ! یہ دو آدمی کون ہیں؟ انہوں نے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم چلے تو ہم ایک تنور جیسے گڑھے پر آئے (راوی کا بیان ہے) کہ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا‘ اس میں بہت شور تھا اور آوازیں تھیں‘ پس ہم نے اس میں جھانکا تو اس میں برہنہ مرد اور عورتیں تھیں‘ اس کے نیچے سے آگ کا شعلہ اُٹھتا ہے اور جب وہ ان کو لگتا ہے تو وہ چیخیں مارتے ہیں‘ میں نے کہا ’یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے مجھ سے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم پھر چلے اور ایک نہر پر آئے۔ راوی کا بیان ہے‘ میرا گمان ہے کہ آپ ﷺ فرماتے تھے کہ‘ وہ خون کی طرح سرخ تھی۔ اس میں ایک تیراک تیر رہا ہے اور نہر کے کنارے پر ایک آدمی ہے جس نے اپنے پاس بہت سے پتھر جمع کر رکھے ہیں۔ یہ تیرنے والا جب تک تیرتا ہے تیرتا ہے‘ پھر اس شخص کے پاس آتا ہے جس نے اپنے پاس پتھر جمع کئے ہوئے ہیں‘ وہ اس کے سامنے آکر اپنا منہ کھولتا ہے اور وہ اس کے منہ میں پتھر کا لقمہ ڈال دیتا ہے۔ وہ پھر جا کر تیرنے لگتا ہے اور پھر اس کی طرف لوٹ آتا ہے جب بھی اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے‘ جب بھی اس کی طرف لوٹ کر آتا ہے‘ اسکے سامنے اپنا منہ کھولتا ہے اور وہ پتھر کا لقمہ اسکے منہ میں ڈال دیتا ہے ۔ میں نے ان سے کہا ’یہ دو شخص کون ہیں ؟ انہوں نے مجھے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ ہم پھر چلے‘ پس ہم ایک بہت ہی بد منظر آدمی کے پاس آئے یا (فرمایا) سب سے زیادہ بد صورت آدمی کی طرف‘ جو تم نے دیکھا ہو‘ اس کے پاس آگ ہے جسے وہ دھکاتا ہے اور اس کے گرد دوڑتا ہے۔ میں نے دونوں ساتھیوں سے پوچھا ’یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے مجھے کہا ’(آگے) چلئے‘۔ پس ہم چلے اور ایک ایسے باغ میں آئے جس میں کثرت سے درخت لگے ہوئے تھے اور اس میں بہار کے (موسم کی طرح) ہر قسم کے پھول تھے اور اس باغ کے درمیان میں ایک لمبا آدمی تھا‘ مجھے لمبائی کی وجہ سے اس کا سر آسمان میں دکھائی نہیں دیتا تھا۔۔۔ (جاری ہے) “
یہ حدیث چونکہ بہت لمبی تھی اسلئے بقیہ آئندہ سلائیڈ میں بھیجی جائے گی ، انشاء اللہ۔ تفسیر کی سلائیڈ بھی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔