نبی کریم ﷺ کے معجزات (۳)

اشاعت: 15-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Nabi Kareem ﷺ ke mojzat – darakht jhukna, barish ki dua aur hidayat ka mojza hadith ki roshni mein

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

نبی کریم کے معجزات (۳) (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کی معیت میں چلے یہاں تک کہ ہم ایک وسیع وادی میں اترے۔ رسول اللہ قضاء حاجت کے لئے چلے گئے۔ آپ نے پردہ کی کسی چیز کو نہ پایا البتہ وادی کے کنارے پر دو درخت تھے۔ رسول اللہ ان میں سے ایک کی جانب گئے آپ نے اس کی ایک شاخ کو پکڑا اور کہا تو اللہ کے حکم کے ساتھ مجھ پر پردہ کر۔ وہ آپ کے حکم کی جانب اس طرح تابعدار ہوئی جیسا کہ وہ اونٹ جس کے ناک میں نکیل ہو (تابعدار ہوتا ہے) وہ اس شخص کی اطاعت کرتا ہے جو اس کا قائد ہوتا ہے۔ پھر آپ دوسرے درخت کے پاس گئے آپ نے اس کی ایک شاخ کو پکڑا اور کہا کہ اللہ کے حکم کے ساتھ میری اطاعت کر۔ دوسری شاخ کی طرح اس نے بھی آپ کی اطاعت کی اور جب آپ ان کے درمیان ہوئے تو آپ نے فرمایا اللہ کے حکم کے ساتھ میرے قریب ہو جاؤ وہ دونوں آپ کے قریب ہوگئیں۔ (جابرؓ کہتے ہیں کہ) میں بیٹھا اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا اچانک میرا دھیان (آپ کی جانب) ہوا تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ تشریف لا رہے ہیں اور دونوں درخت الگ الگ ہو گئے ہیں ہر درخت اپنے تنے پر کھڑا ہے۔“ (صحیح مسلم)

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میری والدہ مشرکہ تھیں اور میں انہیں اسلام کی دعوت دیا کرتا تھا۔ (ایک روز) میں نے انہیں دعوت دی تو انہوں نے مجھے رسول اللہ کے بارے میں ایسے کلمات کہے جنہیں میں ناپسند جانتا تھا۔ میں روتا ہوا رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت فرمائے۔ آپ نے دعا کی ’اے اللہ! ابوہریرہ کی والدہ کو ہدایت فرما‘۔ چنانچہ نبی کریم کے دعا فرمانے کے سبب میں خوشی خوشی (وہاں سے) نکلا جب میں دروازے پر پہنچا تو دروازہ بند تھا چنانچہ جب میری والدہ نے میرے پاؤں کی آہٹ سنی تو انہوں نے کہا ’اے ابوہریرہ! رک جا اور میں نے پانی کی حرکت کی آواز کو سنا‘ انہوں نے غسل کیا اپنا لباس زیب تن کیا اور جلدی میں اپنا ڈوپٹہ لینا بھول گئیں۔ پھر دروازہ کھولا اور کہا ’اے ابوہریرہ! میں اس بات کی گواہی دیتی ہوں کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی معبود برحق ہے اور میں یہ بھی گواہی دیتی ہوں کہ محمد () اللہ تعالیٰ کے بندے اور اسکے رسول ہیں‘۔ چنانچہ میں خوشی سے روتا ہوا رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے الحمدللہ کے کلمات کہے اور فرمایا ’بہتر ہوا ہے‘۔“ (صحیح مسلم)

  • ”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی کریم کے لئے کتابت کے فرائض انجام دیا کرتا تھا وہ اسلام سے مرتد ہو گیا اور مشرکین کے ساتھ مل گیا۔ نبی کریم نے فرمایا ’بلاشبہ اس شخص کو زمین قبول نہیں کرے گی‘۔ (انسؓ کہتے ہیں) ابوطلحہؓ نے مجھے بتایا کہ وہ اس علاقہ میں آیا جس میں وہ شخص فوت ہوا تھا، انہوں نے اس کو زمین پر گرا ہوا پایا۔ انہوں نے دریافت کیا ’اسے کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ ہم نے اس کو کئی بار دفنایا ہے لیکن زمین اسے قبول نہیں کر رہی‘۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)

  • ”حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم سفر سے واپس آئے جب آپ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو زبردست آندھی چلی قریب تھا کہ وہ سوار انسان کو چھپا دے۔ نبی نے فرمایا ’آندھی کسی منافق آدمی کی وفات پر چلی ہے‘۔ جب مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں ایک بہت بڑا منافق فوت ہوا تھا“۔ (صحیح مسلم)

  • ”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کے زمانے میں لوگ قحط میں مبتلا ہو گئے۔ نبی کریم جمعہ کے روز خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک بدوی کھڑا ہوا اس نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول! مال مویشی ہلاک ہو گئے ہیں اور اہل و عیال بھوک سے دو چار ہیں۔ آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور ہمیں آسمان میں کوئی بادل نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آپ نے ابھی اپنے ہاتھ نیچے نہیں کئے تھے کہ پہاڑوں کی مانند بادل اُمڈ آئے‘ آپ ابھی منبر سے نیچے نہ اترے تھے’میں نے دیکھا کہ بارش آپ کی داڑھی مبارک پر گر رہی ہے۔ چنانچہ اس روز اگلے دن اور اس سے اگلے دن بلکہ دوسرے جمعہ تک بارش ہوتی رہی۔ پھر وہی دیہاتی یا کوئی اور کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ’اے اللہ کے رسول ! مکانات گر گئے ہیں اور مویشی ڈوب گئے ہیں آپ ہمارے حق میں اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ چنانچہ آپ نے اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا کی ’اے اللہ ہمارے اردگرد (بارش) ہو اور ہم پر نہ ہو اے اللہ! ٹیلوں پہاڑوں وادیوں اور جہاں جہاں درخت اگتے ہیں (بارش فرما)‘۔ آپ کسی جانب اشارہ نہیں کر رہے تھے مگر بادل کھل رہا تھا اور مدینہ منورہ حوض کی مانند ہو گیا اور ”قناۃ“ وادی ایک ماہ تک بہتی رہی اور ہر جانب سے آنے والا شخص بارش ہی کی خبر دیتا تھا۔ انسؓ بیان کرتے ہیں کہ بادل چھٹ گئے اور ہم نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے‘۔“ (صحیح مسلم)

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Miracles of the Prophet (3) (In the Light of Hadith)

Jabir رضي الله عنه reported:
We were traveling with the Messenger of Allah until we came down into a wide valley. The Messenger of Allah went to relieve himself and found no covering, except for two trees at the edge of the valley. He went to one of them, held one of its branches, and said, “Cover me by the permission of Allah.” It obeyed him like a camel that is led by its reins. Then he went to the other tree, held its branch, and said, “Obey me by the permission of Allah.” It also obeyed. When he stood between them, he said, “Come together over me by the permission of Allah,” and they came together. Jabir رضي الله عنه said: When the Messenger of Allah returned, the two trees separated and each returned to its original place.
(Sahih Muslim)

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported:
My mother was a polytheist, and I used to invite her to Islam. One day she spoke words about the Messenger of Allah that I disliked. I came to the Messenger of Allah weeping and said: “O Messenger of Allah! Supplicate to Allah to guide the mother of Abu Hurayrah.” He supplicated, “O Allah, guide the mother of Abu Hurayrah.”
I left happily. When I reached the door of my house, it was closed. My mother heard my footsteps, performed ghusl, dressed herself, and opened the door, saying: “O Abu Hurayrah! I bear witness that none has the right to be worshipped except Allah and I bear witness that Muhammad is the Messenger of Allah.” I returned to the Messenger of Allah weeping with joy, and he praised Allah and said, “It is good.”
(Sahih Muslim)

Anas رضي الله عنه reported:
A man used to write for the Prophet . Later he apostatized and joined the polytheists. The Prophet said, “Indeed, the earth will not accept him.” Abu Talhah رضي الله عنه later found him lying on the ground. The people said: “We buried him several times, but the earth keeps casting him out.”
(Sahih al-Bukhari, Sahih Muslim)

Jabir رضي الله عنه reported:
When the Messenger of Allah was returning from a journey and nearing Madinah, a severe wind blew—so strong that it almost concealed riders. The Prophet said, “This wind has blown due to the death of a hypocrite.” When they reached Madinah, it was found that a prominent hypocrite had died.
(Sahih Muslim)

Anas رضي الله عنه reported:
During the time of the Messenger of Allah , people suffered drought. While the Prophet was delivering the Friday sermon, a Bedouin stood and said: “O Messenger of Allah! Our livestock have perished and our families are starving. Supplicate to Allah for us.” The Prophet raised his hands, and at that time there was not a single cloud in the sky. By the One in whose Hand is my soul, he had not lowered his hands before clouds like mountains gathered. Rain began to fall and continued that day, the next day, and the day after, until the following Friday.
Then the same man—or another—stood and said: “O Messenger of Allah! Houses have collapsed and livestock have drowned. Supplicate to Allah for us.” The Prophet raised his hands and said: “O Allah, (let it rain) around us and not upon us. O Allah, upon the hills, mountains, valleys, and places where trees grow.” Wherever he pointed, the clouds cleared, and Madinah became surrounded like a basin of water. The valley of Qanah flowed for a month, and whoever came from any direction spoke of the heavy rainfall.
(Sahih Muslim)

May Allah enable us to recognize the truth, believe in the miracles of His Messenger , and convey authentic knowledge to others. Ameen.