بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
احکام عیادت (۲) (احادیث کی روشنی میں)
عیادت کی فضیلت :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کیلئے یا اپنے مسلمان بھائی کی ملاقات کیلئے جاتا ہے تو ایک فرشتہ پکار کر کہتا ہے تم برکت والے ہو، تمہارا چلنا بابرکت ہے اور تم نے جنت میں ٹھکانا بنا لیا“۔ (جامع ترمذی)
-
”رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے تو وہ جنت کے خُرفہ میں رہتا ہے۔ دریافت کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ جنت کا خُرفہ کیا ہے؟ ارشاد فرمایا جنت کے توڑے ہوئے پھل“۔ (صحیح مسلم)
عیادت کب کرنی چاہئے :-
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ تین دن بعد مریض کی عیادت کرتے تھے“۔ (سنن ابن ماجہ)
مریض سے دعا کراؤ :-
-
”حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم کسی مریض کی عیادت کو جاؤ تو اس سے کہو کہ تمہارے لئے دعا کرے اس لئے کے اس کی دعا فرشتوں کی مانند ہوتی ہے“۔ (سنن ابن ماجہ)
مریض کی دل جوئی کرنی چاہئے :-
-
”حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ جب تم کسی مریض کی مزاج پرسی کو جاؤ تو اسکو تسکین دو اور اس کے رنج و غم کو دور کرو، یہ تسکین و تشفی اگرچہ حکم الہٰی کو نہیں روکتی لیکن مریض کے دل کو ضرور خوش کر دیتی ہے “۔ (جامع ترمذی)
عیادت کی دعا :-
-
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ جب کوئی مسلمان کسی مریض کی عیادت کرے اور سات مرتبہ یہ دُعا پڑھے
اَسْأَلُ اللہَ الْعَظِیْمَ رَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ اَنْ یَّشْفِیَکَ
”میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں جو بڑے ہیں، عرش عظیم کے مالک ہیں کہ وہ تم کو شفا دے دیں“
تو اس کو ضرور شفا ہوگی البتہ اگر اسکی موت کا وقت آگیا ہو تو اور بات ہے“۔ (جامع ترمذی)
بیماری یا مشکل میں اللہ سے بُرا گمان نہ رکھو :-
-
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بدو کی عیادت کیلئے تشریف لائے نبی کریم ﷺ کا معمول مبارک یہ تھا کہ جب کسی بیمار کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے فرماتے:
لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ
”فکر نہ کر یہ بیماری تمہیں گناہوں سے انشاء اللہ پاک کر دے گی“
، چنانچہ آپ ﷺ نے دیہاتی سے بھی یہی فرمایا بدو نے کہا ہر گز نہیں بلکہ یہ بخار تو بوڑھے کھوسٹ پر جوش مارتا ہے یا زور مار رہا ہے جو اسے قبر تک پہنچا کر ہی چھوڑے گا تب آپ ﷺ نے فرمایا ”اچھا تو ایسے ہی ہوگا“۔ (صحیح بخاری)