بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
شہادت کی اقسام (احادیث کی روشنی میں)
یہ حسن خاتمہ کے سلسلہ ہی کی دوسری سلائیڈ ہے لیکن چونکہ اس میں شہادت کی تمام اقسام ہیں اسلئے اسکا عنوان بدل دیا گیا ہے۔
۶- مرض طاعون کی وجہ سے موت آنا :-
-
”حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ طاعون ہر مسلمان کیلئے شہادت ہے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم) حدیث میں آتا ہے کہ طاعون زدہ علاقے سے جانا نہیں چاہئے اور صبر کرنا چاہئے اگر موت آجائے تو اُسکا شمار شہیدوں میں ہوگا لیکن کسی دوسرے علاقے کے لوگوں کو طاعون زدہ علاقے میں جانا منع ہے۔
۷- پیٹ کی بیماری سے موت آنا :-
-
”حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو پیٹ کی بیماری سے مرا وہ شہید ہے“۔ (صحیح مسلم)
۸ـ ـ غرق یا ملبےکے نیچے دبنے سے موت واقع ہونا :-
-
”حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ شہید پانچ قسم کے ہیں : طاعون کی بیماری سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، غرق ہونے والا، ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا اور جہاد فی سبیل اللہ کے دوران شہید “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
۱۰- بچے کی ولادت کے باعث عورت کا مرنا :-
-
”حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جو عورت بچے کی (پیدائش کی) وجہ سے مر جائے وہ شہید ہے “۔ (سنن ابو دائود)
۱۱.ـ ۱۲ـ جل جانے سے موت آنا، پہلو کے درد سے موت واقع ہونا :-
-
”حضرت جابر بن عتیک رضی اللہ عنہ آپ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ :- فی سبیل اللہ قتل ہونے کے علاوہ شہید سات قسم کے ہیں۔ طاعون سے مرنے والا، غرق ہونے والا، پہلو کے درد سے مرنے والا، پیٹ کی بیماری سے مرنے والا، جل جانے والا، ملبے کے نیچے دب کر مرنے والا اور وہ عورت جو بچے کی وجہ سے مر جائے، یہ سب کے سب شہید ہیں “۔ (سنن ابو دائود)
۱۳- اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے موت آنا :-
-
”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ :- جو آدمی اپنے مال کی وجہ سے قتل ہوا (دوسری روایت میں ہے جس آدمی کا مال ناحق طریقے سے لینے کی کوشش کی گئی، پھر وہ اس کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا) تو وہ شہید ہے“۔ (صحیح بخاری ، سنن ابو دائود)
۱۴ـ ۱۵ـ ۱۷ـ دین، جان اور عزت کا دفاع کرتے ہوئے مرنا :-
-
”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ :- جو آدمی اپنے مال کے دفاع میں مارا گیا وہ شہید ہے، جو اہل و عیال کی عزت کا دفاع کرتے ہوئے مارا گیا وہ بھی شہید ہے، جو اپنے دین کے دفاع میں مارا گیا وہ بھی شہید ہے، اور جو اپنے خون کے دفاع میں مارا گیا وہ بھی شہید ہے “ ۔ (سنن ابو دائود ، سنن نسائی)