بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ایصال ثواب کے مسائل (۲) (احادیث کی روشنی میں)
میت کی طرف سے قربانی کی جائے تو اس کا ثواب میت کو پہنچ جاتا ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے موٹے تازے، سینگ والے، چتکبرے اور خصی۔ ان میں سے ایک اپنی اُمت کے ہر اس آدمی کی طرف سے کرتے جو اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی گواہی دیتا ہو اور دوسرا محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کی طرف سے ذبح فرماتے“۔ (سنن ابن ماجہ)
میت کی طرف سے حج یا عمرہ کیا جائے تو ثواب میت کو پہنچ جاتا ہے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا میری ماں نے حج کی نذر مانی تھی، لیکن حج کرنے سے پہلے ہی فوت ہوگئی، کیا میں اس کی طرف سے حج ادا کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :- ہاں ! اس کی طرف سے حج ادا کرو (یعنی اسے ثواب مل جائے گا) اور ہاں سنو ! اگر تمھاری والدہ پر قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتیں؟ اس نے عرض کیا ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اللہ کا قرض (یعنی نذر) ادا کرو، کیونکہ اللہ زیادہ حق دار ہے کہ اس کا قرض ادا کیا جائے“۔ (صحیح بخاری)
میت کے لئے زندوں کی طرف سے بہترین تحفہ استغفار ہے :-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بقیع (مدینہ کا قبرستان) تشریف لے گئے اور اہل بقیع کے لئے دعا فرمائی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :- مجھے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) اہل بقیع کے لئے دعا کرنے کا حکم دیا گیا تھا “۔ (مسند احمد)
نیک اولاد اور صدقہ جاریہ کا ثواب بعد میں بھی ملتا رہتا ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- مومن آدمی کے مرنے کے بعد جن اعمال اور نیکیوں کا ثواب اسے ملتا رہتا ہے اس میں (۱) وہ علم ہے، جو اس نے لوگوں کو سکھایا اور پھیلایا (۲) نیک اولاد ہے جو اس نے اپنے پیچھے چھوڑی (۳) قرآن کی تعلیم ہے جو لوگوں کو سکھائی (۴) مسجد ہے جو تعمیر کرائی (۵) مسافر خانہ ہے جو بنوایا اور (۶) وہ صدقہ ہے جو اپنے مال سے بحالت صحت اپنی زندگی میں نکالا ان سب اعمال کا ثواب انسان کو مرنے کے بعد (از خود) ملتا رہتا ہے “۔ (سنن ابن ماجہ)
احادیث کے مطابق مرنے والے کا سوگ تین دن تک منایا جا سکتا ہے اس کے بعد نہیں۔ اسی طرح رسم چہلم وغیرہ کی مجھے کوئی حدیث نہیں ملی اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہما اور تابعین کے دور سے کوئی واقعہ ملا ہے یا کم از کم میری نظر سے نہیں گزرا۔ یوں بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ رسم چہلم میں افسوس نام کی چیز تو اکثر نہیں ہوتی، یہ تو ایک خوشی کی تقریب کی مانند معلوم ہوتی ہے دوسرا اس میں بے جا اسراف دیکھنے کو ملتا ہے جو کہ اسلام کی تعلیمات کی خلاف ورزی ہے، آجکل کے مہنگائی کے دور میں اکثر لوگ اسے Afford نہیں کر سکتے، دوسرا ہم لوگ بنیادی دین تو پورا کرتے نہیں لیکن Extra کام بڑے محنت سے کرتے ہیں، یہ جتنے پیسے چہلم پر لگائے جاتے ہیں اتنے میت کی جانب سے صدقہ کیا جائے اور جتنے لوگ چہلم پر بلائے جاتے ہیں ان سے میت کیلئے کم از کم چار چار روزے رکھوائے جائیں کیونکہ یہ تو حدیث سے ثابت ہے اور جانے اللہ اپنی نبی ﷺ کے حکم کی تکمیل کی وجہ سے میت کو درجوں بلند فرما دیں مگر ہمیں تو دنیا کو بھی تو دکھانا ہے کہ اتنا پیسہ خرچ کیا مرنے والا بھلے جہاں مرضی جائے، میرا تعلق کسی فرقے سے نہیں ہمارے بھی یہ رسوم ہوتی ہیں، چہلم سے دنیا داری تو خوب ہو جاتی ہے میت سے پتا نہیں کیا ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔