قسمیں کھانے کا بیان

اشاعت: 18-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Kasam khana hadith ki roshni mein | jhooti kasam aur islami ahkam

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قسمیں کھانے کا بیان (۱)

(احادیث کی روشنی میں)

اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی قسم کھانے کی ممانعت :-

  • ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے جو چند سواروں کے ساتھ تھے۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے۔ اس پر رسول کریم نے انہیں پکار کر کہا، آگاہ ہو، یقیناً اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے باپ داداؤں کی قسم کھاؤ پس اگر کسی کو قسم ہی کھانی ہے تو وہ اللہ کی قسم کھائے، ورنہ چپ رہے“۔ (صحیح بخاری)

  • ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ سے سنا آپ نے فرمایا:۔ جس شخص نے اللہ کے سوا کسی کے نام کی قسم کھائی، اُس نے شرک کیا“۔ (جامع ترمذی)

غیر اللہ کی قسم کھانا منع ہے۔ اگر کسی کی زبان سے غیر اللہ کی قسم نکل گئی تو اسے کلمہ توحید پڑھ کر پھر ایمان کی تجدید کرنی چاہئے۔ اگر کوئی عمداً کسی بت کی یا بندے کی عظمت مثل عظمت الہی کے جان کر ان کے نام کی قسم کھائے گا تو وہ یقیناً مشرک ہو جائے گا۔

اگر کوئی لات و عزیٰ کی قسم کھائے تو اسے تجدید ایمان کرنا چاہئے :-

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ نے فرمایا جو شخص قسم کھائے اور کہے کہ قسم ہے لات اور عزیٰ کی تو اسے تجدید ایمان کیلئے کہنا چاہئے (لا الہ الا اللہ) اور جو شخص اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ آؤ جوا کھیلیں تو اُسے صدقہ دینا چاہئے“۔ (صحیح بخاری)

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا:۔ والدین کے نام کی قسمیں نہ کھاؤ، نیز بتوں کی قسمیں نہ کھاؤ۔ اور اللہ تعالیٰ کی قسم تب کھاؤ جب تم سچے ہو“۔ (سنن ابو دائود)

نبی کریم کس طرح قسم کھاتے تھے :-

  • ”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم کی قسم بس اتنی تھی کہ (ایسے) نہیں، اس ذات کی قسم جو دلوں کا پھیرنے والا ہے“۔ (صحیح بخاری)

  • ”جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم نے فرمایا:۔ جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہوگا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسری نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے“۔ (صحیح بخاری)

  • ”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا:۔ اے اُمت محمد ()! واللہ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے “۔ (صحیح بخاری)

  • ”حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اُس کی خوبصورتی اور نرمی پر حیرت کرنے لگے۔ آنحضرت نے اس پر فرمایا کہ تمھیں اس پر حیرت ہے؟ صحابہ نے عرض کی، جی ہاں، یا رسول اللہ ! آنحضرت نے فرمایا:۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں“۔ (صحیح بخاری)

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Oaths — Statement on Swearing (1)

(In the light of Hadith)

Prohibition of swearing by anyone other than Allah

Hazrat Ibn ‘Umar (RA) reported that he came to ‘Umar ibn al-Khattab (RA) while he was among a group of riders and was swearing by his father. The Messenger of Allah called out to him and said:
“Be aware! Indeed, Allah forbids you from swearing by your forefathers. Whoever must swear an oath should swear by Allah, otherwise remain silent.”
(Sahih al-Bukhari)

Hazrat Ibn ‘Umar (RA) also reported that he heard the Messenger of Allah say:
“Whoever swears by other than Allah has committed shirk.”
(Jami‘ al-Tirmidhi)

Swearing by anyone other than Allah is prohibited. If such words slip from a person’s tongue, he should renew his affirmation of faith by reciting the declaration of Tawheed. However, if someone deliberately swears by an idol or a person while believing in their greatness equal to that of Allah, he would fall into shirk.

If someone swears by Lat or ‘Uzza

Hazrat Abu Hurairah (RA) reported that the Messenger of Allah said:
“Whoever takes an oath and says, ‘By Lat and ‘Uzza,’ should say: ‘La ilaha illa Allah.’ And whoever says to his companion, ‘Come, let us gamble,’ should give charity.”
(Sahih al-Bukhari)

Hazrat Abu Hurairah (RA) also reported that the Messenger of Allah said:
“Do not swear by your fathers, nor by idols. And swear by Allah only when you are truthful.”
(Sunan Abi Dawud)

How the Prophet used to swear

Hazrat Ibn ‘Umar (RA) reported that the oath of the Prophet was usually:
“No, by the One who turns the hearts.”
(Sahih al-Bukhari)

Jabir ibn Samurah (RA) reported that the Prophet said:
“When Caesar perishes, there will be no Caesar after him, and when Chosroes perishes, there will be no Chosroes after him. By the One in Whose hand is my soul, you will spend their treasures in the path of Allah.”
(Sahih al-Bukhari)

Hazrat ‘Aishah (RA) reported that the Prophet said:
“O Ummah of Muhammad! By Allah, if you knew what I know, you would laugh little and weep much.”
(Sahih al-Bukhari)

Hazrat al-Bara’ ibn ‘Azib (RA) reported that a piece of silk was presented to the Prophet . People began passing it among themselves and were amazed at its softness and beauty. The Prophet said:
“Are you amazed at this?” They replied, “Yes, O Messenger of Allah.” He said:
“By the One in Whose hand is my soul, the handkerchiefs of Sa‘d (RA) in Paradise are better than this.”
(Sahih al-Bukhari)