بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سات مہلک گناہ
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ سات مہلک اور تباہ کن گناہوں سے بچو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ کون سے سات گناہ ہیں؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے ساتھ (اُسکی عبادت یا صفات یا افعال میں کسی کو) شریک کرنا، اور جادو کرنا، اور ناحق کسی کو قتل کرنا، اور سود کھانا، اور یتیم کا مال کھانا اور (اپنی جان بچانے کیلئے) جہاد میں لشکر اسلام کا ساتھ چھوڑ کر بھاگ جانا اور اللہ تعالیٰ کی پاک دامن بھولی بھالی بندیوں پر زنا کی تہمت لگانا “۔ (صحیح بُخاری و صحیح مُسلم)
جس طرح اطباء اور ڈاکٹر اپنے تحقیقی علم و فن اور تجربہ کی بناء پر اس دُنیا میں زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں، دواؤں، غذاؤں وغیرہ کے خواص بیان کرتے ہیں کہ فلاں چیز میں یہ خاصیت اور تاثیر ہے اور یہ آدمی کے فلاں مرض کیلئے مفید یا مضر ہے، اسی طرح انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے علم کی بنیاد پر انسانوں کے عقائد و افکار اور اعمال و اخلاق کے خواص اور نتائج بتلاتے ہیں کہ فلاں ایمانی عقیدہ اور فلاں نیک عمل اور فلاں اچھی خصلت کا نتیجہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت میں جنت کی نعمتیں اور دُنیا میں قلب و روح کا سکون ہے، اور فلاں کافرانہ عقیدے اور فلاں ظلم و معصیت کا انجام اللہ تعالیٰ کی لعنت اور دوزخ کا عذاب اور دنیا میں طرح طرح کی بے چینیاں اور بُرائیاں ہیں۔۔۔ فرق اتنا ہے کہ اطباء اور ڈاکٹروں کی تحقیق اور غور و فکر میں غلطی کا امکان ہے اور کبھی کبھی غلطی کا تجربہ بھی ہو جاتا ہے۔۔۔ لیکن انبیاء علیہم السلام کے علم کی بنیاد خالق کائنات اور علیم کل اللہ تعالیٰ کی وحی پر ہوتی ہے۔ اس میں کسی بھول چوک یا غلطی کا احتمال اور کسی شک و شبہ کی گنجائش ہی نہیں۔
مگر عجب معاملہ ہے کے حکیموں ڈاکٹروں کی تجویز کی ہوئی دواؤں کو سب بلا چون و چرا اُن کے اعتماد پر استعمال کرتے ہیں، پرہیز کے بارے میں وہ جو ہدایت دیں اسکی بھی پابندی ضروری سمجھی جاتی ہے اور اسکو عقل کا تقاضا سمجھا جاتا ہے اور کسی مریض کا یہ حق تسلیم نہیں کیا جاتا کہ وہ کہے کہ میں دوا جب استعمال کروں گا جب اسکی تاثیر کا فلسفہ مجھے سمجھا دیا جائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے رسول ﷺ سود کے بارے میں فرمائیں کہ وہ شدید کبیرہ گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی لعنت اور غضب کا موجب اور روح ایمان کیلئے قاتل ہے۔ اور سود خوروں کیلئے آخرت میں لرزہ خیز عذاب ہے، تو بہت سے اہل عقل و ایمان کیلئے یہ کافی نہ ہوا، اور وہ اسکا ”فلسفہ“ سمجھنا ضروری سمجھتے ہیں اور کوئی درمیانی راہ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔