بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
بخشش کے فیصلے ۔ یوم عرفہ و عاشورہ کا روزہ (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- یوم عرفہ (۹ ذوالحجہ) کے روزہ (کے ثواب) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ وہ (اسکے ذریعے) گذشتہ ایک سال اور آنے والے ایک سال کے گناہ معاف فرما دے گا اور یوم عاشورہ (۱۰ محرم) کے روزے (کے ثواب) کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے اُمید رکھتا ہوں کہ (اسکے ذریعے) وہ گذشتہ ایک سال کے گناہ معاف فرما دے گا“۔ (صحیح مسلم)
-
”ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم عاشورے کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت بھی کرو اور (اسکے ساتھ) ایک دن قبل یا بعد کا بھی روزہ رکھو “۔ (مسند احمد)
جب انسان گناہ کرتا ہے تو سمندر پوچھتے ہیں یا اللہ اجازت دے تو ہم ان کو غرق کر دیں، زمین پوچھتی ہے یا اللہ تعالیٰ اجازت دے میں پھٹ جاؤں، آسمان کے فرشتے پوچھتے ہیں یا اللہ تعالیٰ اجازت دے ہم ان سب کو ختم کر دیں۔ یہ تیرا کھا کر تجھ ہی سے ٹکراتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں چھوڑ دو میرے بندے کو، میں اپنے بندے کو تم سے بہتر جانتا ہوں، پھر اللہ تعالیٰ بندے سے کہتا ہے، میرے بندے تجھے کس نے اپنے رب سے دور کر دیا؟ کیوں تو مجھ سے بیگانہ ہو گیا کیوں تو دھوکہ کھا گیا کوئی ہے میرے جیسا تجھ سے پیار کرنے والا کوئی ہے میرے جیسا تیری پکار سننے والا؟ دنیا کے بادشاہوں سے تعلق جوڑنے کیلئے انسان کیا کیا نہیں کرتا، کوئی کتنا بھی جاننے والا ہو جائے تو اس سے کام کروانے کیلئے اُسکے گھر یا دفتر تو جانا پڑتا ہے؟ فون تو کرنا پڑتا ہے؟ اللہ کو پکارنے کیلئے تو قدم بھی نہیں اُٹھانا پڑتا، زبان تک نہیں ہلانی پڑتی، بندے کا دل بولے، اللہ فوراً کہتا ہے لبیک یا عبدی۔ اسلئے اللہ کا گلہ بجا ہے کہ میں تجھے اپنی طرف بلا رہا ہوں تو مجھے چھوڑ کر کیوں جا رہا ہے اور اسکے باوجود کہ تو مجھے چھوڑ کر چلا جائے میں تجھے بلاتا ضرور رہتا ہوں، کبھی واقعات، کبھی آفات، کبھی قدم قدم پر عبرتیں، حکمتیں، شاید کسی قدم کی ٹھوکر تمہیں اللہ کی طرف لوٹا دے۔ کبھی تنگی لے آیا، کبھی بیماری لے آیا، کبھی حادثہ لے آیا، کبھی کسی اور پر لے آیا کہ شاید اُسے دیکھ کر تو میری طرف آجائے، تو اتنی اعلیٰ درجے کی محبت ہے اللہ کو اپنے بندے کیساتھ۔ آفات لا رہا ہے تو اس میں بھی محبت چھپی ہوئی ہے، دنیا میں تکلیف دے دیتا ہے آگے کے عذاب سے بچانے کیلئے۔ اللہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے بندہ ہی ہے نافرمان، غدار۔ واپڈا کا بل نہ دو، فوراً کنکشن کاٹ دیتے ہیں، دو آنکھوں میں چھبیس کروڑ بلب لگا دیئے جو آپ کو شکلیں دے رہے ہیں اور صرف ایک بل مانگا کہ ان دو آنکھوں سے حرام نہ دیکھنا۔ کونسی آنکھ ہے جو حرام سے بچی ہوئی ہے۔ بے حیا ہو گئی نظریں، کبھی اللہ نے بھی کنکشن کاٹا ایسا ہو بھی جاتا ہے اسلئے ہمیں اللہ سے ڈرنا چاہئے۔
اتنی غلطیوں کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ نے کچھ ایسے پیکیج دیئے ہوئے ہیں کہ کوئی بندہ اس کے ذریعے ہی بچ جائے، اُن میں سے ہی ایک ۹ ذوالحجہ کا روزہ ہے، جیسا کہ اُوپر حدیث میں ہے کہ اُس شخص کے پچھلے اور اگلے سال کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں تو اب بھی اس موقع سے فائدہ نہ اُٹھانا بڑی بدبختی اور کم نصیبی ہے۔ تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ ضرور روزہ رکھیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو آگے بھیجیں ۔ یہ روزہ منگل کے دن کا بنتا ہے، بہر حال آپ جس علاقے میں بھی ہوں ذوالحجہ کی ۹ تاریخ کے مطابق روزہ رکھیں۔ یاد رکھیں! آپ جتنے لوگوں کو آگے بھیجیں گے اور وہ اس پر عمل کریں گے تو اُسکا ثواب آپ کو بھی ملے گا اور اُنکے ثواب میں بھی کمی نہیں ہوگی۔ اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت دے۔ آمین۔