بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نیت کے احکام (احادیث کی روشنی میں)
-
”اُم المومنین اُم عبداللہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- ایک لشکر خانہ کعبہ پر چڑھائی کرنے کی نیت سے نکلے گا جب وہ بیداء (کسی چٹیل میدان) میں پہنچے گا تو اُسکے اوّل و آخر (سب کے سب) زمین میں دھنسا دیئے جائیں گے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ ! ان کے اوّل و آخر یعنی سب کو کیسے دھنسا دیا جائے گا جب کے ان میں بازاری لوگ ہوں گے (یعنی حکام کے علاوہ عام افراد یا مراد ہیں اہل اسواق یعنی منڈی کے لوگ اور مطلب ہے کہ وہ جنگجو نہیں ہوں گے) اور وہ بھی ہوں گے جو ان میں سے نہیں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :- ان کے اوّل و آخر سب دھنسا دیئے جائیں گے پھر وہ اپنی نیتوں پر اُٹھائے جائیں گے (یعنی قیامت والے دن ان سے معاملہ ان کی نیت کے مطابق کیا جائے گا) “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
انسان کے ساتھ اچھا یا بُرا معاملہ اسکے قصد و ارادے کے مطابق کیا جائے گا اس سے یہ بھی معلوم ہوا کے ظلم و فجور کے مرتکبین کی ہم نشینی نہایت خطرناک یہ ہے کونسا لشکر ہے؟ اور اس کا وقوع کب ہوگا؟ اس کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ پیش گوئیاں حضور اکرم ﷺ کے معجزات میں سے ہیں جن کے وقوع اور صداقت پر ایمان لانا ضروری ہے۔ اسلئے کے اس قسم کی پیش گوئیاں وحی الہی پر مبنی ہیں
-
”حضرت ابویزید معن رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے باپ یزید نے کچھ دینار صدقے کے لئے نکالے اور وہ انہیں مسجد (نبوی) میں ایک آدمی کے پاس رکھ آیا (تا کہ وہ کسی ضرورت مند کو دے دے) میں مسجد میں آیا تو میں نے وہ دنیار اُس سے لے لئے (کیونکہ میں ضرورت مند تھا) اور وہ (گھر) لے آیا (جب والد کو معلوم ہوا) تو اُنہوں نے فرمایا ”واللہ! تجھ کو دینے کا تو میں نے ارادہ ہی نہیں کیا تھا“ چنانچہ میں اپنے والد کو نبی ﷺ کی خدمت میں لے آیا اور یہ جھگڑا آپ ﷺ کے سامنے پیش کر دیا آپ ﷺ نے فرمایا :- اے یزید! تیرے لئے تیری نیت کا ثواب ہے اور اے معن! تو نے جو لیا وہ تیرے لئے (جائز) ہے“۔ (صحیح بخاری)
اس سے معلوم ہوا کے اگر صدقہ غیر ارادی طور پر محتاج بیٹے کے ہاتھ میں آگیا تو اسے واپس لینے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ باپ نے تو کسی مستحق کو دینے کی نیت کی تھی اُسے اُس کی نیت کے مطابق صدقے کا اجر مل گیا تا ہم یہ بات بعض علماء کے نزدیک نفلی صدقے پر محمول ہوگی کیونکہ صدقہ واجبہ (زکوٰۃ) کی رقم اُن کو نہیں دی جا سکتی ہے جن کا خرچ انسان کے ذمے واجب ہے۔ شرعی حکم معلوم کرنے کیلئے باپ کو حاکم مجاز یا عالم دین کے پاس لے جانا، باپ کی نافرمانی نہیں ہے، جیسے شرعی مسائل میں باہم بحث و تکرار گستاخی نہیں ہے۔
-
”حضرت ابوہریرہ عبدالرحمن بن صخر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :- اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور عملوں کو دیکھتا ہے“۔ (صحیح مسلم)
اس حدیث سے بھی اخلاص اور صحیح نیت کی اہمیت واضح ہے اس لئے ہر نیک عمل میں اسکا اہتمام ضروری ہے اور دل کو ہر اس چیز سے صاف رکھنا چاہئے جس سے وہ عمل برباد ہوسکتا ہے۔ جیسے ریا کاری اور نمود و نمائش کا جذبہ یا دنیا کا لالچ یا اسی قسم کے اور گھٹیا مفادات۔ تا ہم دلوں کا حال چونکہ صرف اللہ تعالیٰ جانتا ہے اِس لئے اعمال کی اصل حقیقت قیامت والے دن ہی واضح ہوگی جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اچھا یا بُرا بدلہ ملے گا‘ دنیا میں انسان کے ساتھ اس کے ظاہری اعمال کے مطابق ہی معاملہ کیا جائے گا اس کی باطنی کیفیت کو اللہ کے سپرد کر دیا جائے گا۔