بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
انگوٹھی پہننے کے احکام (احادیث کی روشنی میں)
مردوں کو سونے کی انگوٹھی کی ممانعت :-
-
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو آپ ﷺ نے اسے اُتار کر پھینک دیا اور اسے سرزنش کی کہ تم آگ کے شعلے کو ہاتھ میں لیتے ہو؟ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا کہ تم اپنی انگوٹھی اُٹھا لو اور (اس کو بیچ کر) اس (کی قیمت) سے فائدہ حاصل کرو۔ اس شخص نے برملا کہا، میں ہرگز ایسی چیز نہیں اُٹھاؤں گا جسے رسول اللہ ﷺ نے پھینکا ہے “۔ (صحیح مسلم)
-
”حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ”قسی“ اور ”زرد“ رنگ کے لباس ، سونے کی انگوٹھی اور رکوع کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت سے منع فرمایا ہے “۔ (صحیح مسلم)
چاندی کی انگوٹھی کی اجازت ہے :-
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کسریٰ ، قیصر اور نجاشی کی جانب خطوط لکھنے کا ارادہ کیا۔ آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ وہ لوگ مہر کے بغیر خطوط وصول نہیں کرتے۔ اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ نے چاندی کی انگوٹھی بنوائی ، جس میں ”محمد رسول اللہ“ نقش تھا “۔ (صحیح مسلم)
مذکورہ انگوٹھی ، استنبول (ترکی) کے توپ کاپی عجائب گھر میں بمعہ آپ ﷺ کی تلوار مبارک اور دیگر اشیاء کے محفوظ ہے (واللہ اعلم)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ میں چاندی کی انگوٹھی پہنی جس کا نگینہ حبشی طرز کا تھا۔ آپ ﷺ اس کے نگینے کو ہتھیلی کی جانب رکھتے تھے “۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ایک شخص سے کہا ، جس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی ، کیا وجہ ہے کہ میں تجھ سے بتوں کی بُو پاتا ہوں؟ اس شخص نے انگوٹھی پھینک دی پھر وہ آیا اور اس نے لوہے کی انگوٹھی پہن رکھی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ، کیا وجہ میں دیکھ رہا ہوں کہ تو نے دوزخیوں کا زیور پہن رکھا ہے؟ اس شخص نے انگوٹھی کو پھینک دیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! میں کس دھات سے انگوٹھی بنواؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ، چاندی سے۔ لیکن اس کا وزن ایک مثقال سے کم ہو “۔ (جامع ترمذی ، سُنن ابو دائود ، سُنن نسائی)
لوہے کی انگوٹھی پہننے سے ممانعت کی حدیث ہے بلکہ نبی ﷺ نے اسے سونے کی انگوٹھی سے بھی بُرا سمجھا ہے۔
بہت زیادہ ضرورت کی صورت میں سونے کا استعمال :-
-
”عبدالرحمٰن بن طرفہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے دادا عرفجہ بن اسعد رضی اللہ عنہ کی ناک جنگ کلاب کے دن کٹ گئی تھی ، چنانچہ اس نے چاندی کی ناک بنوالی لیکن وہ بدبودار ہوگئی تو نبی ﷺ نے اس کو اجازت دی کہ وہ سونے کی ناک بنوالے “۔ (جامع ترمذی ، سُنن ابودائود ، سُنن نسائی)
بہرحال انگوٹھی کی صورت میں یا زیور کی صورت میں مردوں کو سونے کا استعمال سختی سے منع ہے۔ (واللہ اعلم) آجکل دیکھنے میں آتا ہے کہ مردوں نے سونے کی انگوٹھی یا زنجیر پہنی ہوتی ہیں ، یہ صرف احساس کمتری کو چھپانے کی ایک کوشش یا اپنی بڑائی دکھانے کی خاطر ہے اُن لوگوں کی طرف سے جنہوں نے پہلی بار پیسہ دیکھا ہو یا تکبر میں آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح دین کی راہوں پر چلنے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔