بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مسلمان کا تعلق اپنے نفس کے ساتھ (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
-
”سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ عبداللہ! کیا یہ خبر صحیح ہے کہ تم دن میں تو روزہ رکھتے ہو اور ساری رات نماز پڑھتے ہو؟ میں نے عرض کی صحیح ہے یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے فرمایا، کہ ایسا نہ کر، روزہ بھی رکھ اور بے روزہ کے بھی رہ۔ نماز بھی پڑھے اور سوؤ بھی، کیونکہ تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے، تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے، اور تم سے ملاقات کرنے والوں کا بھی تم پر حق ہے..“۔ (صحیح بخاری)
مسلمان کا اپنے نفس سے تعلق میں ہم مسلمان کا اپنے جسم، عقل اور روح کے ساتھ تعلق قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھیں گے۔
۱- جسم
کھانے پینے میں اعتدال سے کام لیتا ہے :-
-
”کھاؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا“۔ (الاعراف ۔ ۳۱)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد اور طریقہ سے بھی رہنمائی حاصل کرتا ہے ”آدمی نے شر کے لحاظ سے اپنے پیٹ سے بُرا برتن اور کوئی نہیں بھرا۔ اگر اسے کھانا ہی ہے تو پیٹ کا تہائی کھانے کیلئے، تہائی پانی کیلئے اور تہائی سانس کیلئے رکھے“۔ (سنن ابن ماجہ)
کنز العمال میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک ارشاد ہے کہ ”کھانے پینے میں زیادتی سے بچو۔ کیونکہ بسیار خوری سے جسم میں خرابی آتی ہے، بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، اور نماز میں تساہلی اور سستی پیدا ہوتی ہے۔ کھانے پینے میں میانہ روی سے کام لو، کیونکہ اس سے جسم درست رہتا ہے، بیماری نہیں آتی، اللہ تعالیٰ پیٹو اور موٹے شخص کو پسند نہیں کرتا۔ آدمی اس وقت تک ہرگز ہلاک نہیں ہوتا، جب تک کے اپنی شہوت کو اپنے دین پر ترجیح نہ دے۔
-
”رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ طاقتور مومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کمزور مومن سے زیادہ محبوب ہے“۔ (صحیح مسلم)
اسی وجہ سے ایک باشعور مومن اپنی زندگی میں نظام صحت پر عمل کرتے ہوئے اپنے جسم کو تقویت پہنچاتا ہے۔
اپنا بدن اور کپڑے صاف رکھتا ہے :- مسلمان جسے اسلام لوگوں کے درمیان نمایاں اور ممتاز دیکھنا چاہتا ہے، اُسے صاف ستھرا رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اس سلسلے میں مسلمان اپنے نبی کریم ﷺ کی زندگی کو اپناتا ہے، جنہوں نے غسل کرنے اور خوشبو لگانے پر (خاص طور پر جمعہ کے دن) ترغیب دلائی ہے۔ ارشاد فرمایا:۔ ”جمعہ کے دن غسل کرو اور سروں کو بھی دھوؤ، خواہ جنبی نہ بھی ہو، اور خوشبو لگاؤ“ (صحیح بخاری ۔ ح ۸۸۴)
-
”سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ ہر مسلمان پر اللہ تعالیٰ کا یہ حق ہے کہ ہر ہفتہ ایک دن ضرور غسل کرے، جس میں سر اور بدن دھوئے“۔ (صحیح بخاری ۔ ح ۸۹۷)
سچا مسلمان اپنے کپڑوں، جوتوں کو بھی صاف رکھتا ہے، اسے پسند نہیں کہ اسکے جسم اور قدم سے بو آئے جس سے لوگ نفرت کریں، اسی طرح اپنے منہ کو بھی دیکھتا رہتا ہے کہ کہیں اس کے منہ سے کسی شخص کو بدبو محسوس نہ ہو۔
-
”سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رات میں یا دن میں کسی وقت بھی سو کر اُٹھتے تھے تو وضو کرنے سے پہلے مسواک کرتے تھے“۔ (مسند احمد ، ابو دائود)
رسول کریم ﷺ منہ صاف رکھنے کا اس حد تک اہتمام فرماتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا ”اگر میں اپنی اُمت کیلئے دشوار نہ سمجھتا تو انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا“۔ (صحیح بخاری ۔ ح ۸۸۷)
-
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول کریم ﷺ جب گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے کیا کرتے تھے، فرمایا:۔ مسواک“۔ (صحیح مسلم ۔ ح ۲۵۳)