بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
آپس میں بول چال بند رکھنا (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمھیں ایک دوسرے سے تعلقات منقطع نہ کرو نہ ایک دوسرے سے منہ موڑو (پیٹھ دکھاؤ) نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو، نہ آپس میں حسد رکھو اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ اور کسی مسلمان کیلئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین دن سے زیادہ بول چال بند رکھے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
حدیث میں مذکور تمام باتیں ممنوع ہیں اسلئے کہ یہ سب اخوت کہ منافی ہیں جب کہ مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ اخوت اسلامیہ کو برقرار رکھیں۔
-
”حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ کسی مسلمان کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے (مسلمان) بھائی سے تین راتوں سے زیادہ تعلق منقطع رکھے۔ دونوں کا آمنا سامنا ہو تو یہ اُس سے اور وہ اس سے منہ پھیر لے اور ان دونوں میں بہتر وہ ہے جو اسلام کرنے میں پہل کرے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
اسلام چونکہ دین فطرت ہے اسلئے اس میں فطری امور معاملات کی مناسب حد تک رعایت رکھی گئی ہے۔ جب دو مسلمانوں میں کسی وجہ سے لڑائی جھگڑا ہو جائے تو طبیعت میں انقباض و تکدر کا پیدا ہو جانا ہے فطری امر ہے جس کی وجہ سے وہ دونوں ایک دوسرے سے بولنا اور تعلق رکھنا پسند نہیں کرتے۔ شریعت نے اس فطری انقباض کو تسلیم کیا اور تین دن تک بول چال بند رکھنے کی اجازت دے دی لیکن زیادہ دنوں تک ترک تعلق شدید بغض و عداوت کا باعث بنتا ہے جس سے معاشرتی فساد میں اضافہ رشتے داریوں میں مستقل رخنہ اور دوستانہ تعلقات میں شدید خلل پیدا ہوتا ہے۔ اسلئے عارضی تلخی و کشیدگی کو تین دن سے زیادہ برقرار رکھنے سے روک دیا گیا۔ دوسرا اسلام میں پہل کرنے کی فضیلت بیان کر کے دوبارہ تعلقات استوار کرنے کا ایک آسان طریقہ بھی تجویز فرما دیا کیونکہ سلام سے محبت میں اضافہ اور بات چیت کا آغاز ہو جاتا ہے۔ جس طرح فرد واحد کی آپس میں بول چال پر زور ہے یہی حال اسلامی حکومتوں کا بھی ہونا چاہئے آج کفار ایک ایک کر کے مسلمان حکومتوں کو تباہ اور اُن کے وسائل پر قبضہ کر رہا ہے لیکن بدقسمتی سے اُسکو مسلمان ملکوں کی حمایت بھی میسر آجاتی ہے۔ اتحاد بین المسلمین وقت کی بہت اہم ضرورت ہے۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ ہر سوموار اور جمعرات کو (بارگاہ الٰہی میں) اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ ہر اُس شخص کے گناہ معاف فرما دیتا ہے جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو سوائے اُس شخص کے اُسکے اور اُسکے بھائی کے درمیان دشمنی اور کینہ ہو تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان دونوں کو چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ صلح کر لیں “۔ (صحیح مسلم)
بغیر کسی سبب شرعی کہ آپس میں دشمنی رکھنا مغفرت الہی سے محرومی کا باعث ہے۔
-
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا۔ شیطان یقیناً اس بات سے مایوس ہو گیا ہے کہ نمازی جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کریں گے البتہ وہ انکے درمیان فساد ڈالنے میں (کامیاب رہے گا“۔ (صحیح مسلم)
یہ حدیث دلیل نبوت میں سے ہے کہ نبی ﷺ کی یہ پیش گوئی سچ ثابت ہوئی کہ مسلمان آپس میں لڑیں گے، جھگڑیں گے اور باہم تعلقات منقطع کر لیں گے اور یہ کام شیطان کی شرارت، اور وسوسہ اندازی کی وجہ سے ہوگا