بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
چھینک مارنے اور جمائی لینے کے آداب (احادیث کی روشنی میں)
چھینک آئے تو کیا کہے اور جواب سننے والا کیا کہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا :- بلاشبہ اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند کرتا ہے اور جمائی لینے کو ناپسند جانتا ہے جب کوئی چھینک لے اور وہ اَلْحَمْدُ لِلہ کہے تو جو مسلمان اَلْحَمْدُ لِلہ کے کلمات سنے تو وہ اَلْحَمْدُ لِلہ کے کلمات سننے کے جواب میں یَرْحَمُکَ اللہ کہے اور جمائی لینا شیطان کی جانب سے ہے، جب تم میں سے کوئی شخص جمائی لیتا ہے تو جس قدر ممکن ہو اسے روکنے کی کوشش کرے جب کوئی شخص جمائی لیتا ہے تو شیطان یہ لفظ سن کر کھلکھلا کر ہنس پڑتا ہے “ ۔ (صحیح بخاری)
چھینک آنے والا اَلْحَمْدُ لِلہ نہ کہے تو اُس کو جواب بھی نہ دیا جائے :-
-
”حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا :- جب تم میں سے کوئی شخص چھینک مارے اور اَلْحَمْدُ لِلہ کہے تو تم اس کا جواب دو اور اگر اَلْحَمْدُ لِلہ نہ کہے تو تم اس کا جواب نہ دو“ ۔ (صحیح بخاری)
بار بار چھینک آنے پر کیا کیا جائے :-
-
”حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ایک شخص نے آپ ﷺ کے پاس چھینک ماری، آپ ﷺ نے اس کیلئے یَرْحَمُکَ اللہ کہا بعد ازاں اس نے دوبارہ چھینک ماری تو آپ ﷺ نے فرمایا :- یہ شخص زکام والا ہے“ ۔ (صحیح مسلم)
-
”حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص جمائی لے تو اپنے ہاتھ سے منہ کو بند کرلے کہ کھلے منہ میں شیطان داخل ہو جائے گا“ ۔ (صحیح مسلم)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، نبی کریم ﷺ جب کبھی چھینک مارتے تو اپنے ہاتھ یا کپڑے کے ساتھ اپنا چہرہ ڈھانپ لیتے تھے اور آواز پست رکھتے تھے“ ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابو دائود)
-
”حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے ہاں چھینک مارتے تو اُمید کرتے کہ آپ ﷺ ان کے حق میں یَرْحَمُکَ اللہ کہیں گے، لیکن آپ ﷺ فرماتے اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے“ ۔ (جامع ترمذی ، سنن ابو دائود)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضور اکرم ﷺ سے انتہائی محبت کرنے والے اور آپ ﷺ کے طریقوں پر عمل کرنے والے تھے۔ اللہ سے دُعا ہے کہ وہ ہمیں بھی آپ ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔