بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فتنوں کا ظہور و شدت (احادیث کی روشنی میں)
قیامت سے پہلے فتنے بارش کے قطروں کی طرح پے در پے ظاہر ہوں گے :۔
-
”حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ کے محلات میں سے ایک محل پر چڑھے اور صحابہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا ”جو میں دیکھتا ہوں کیا تم دیکھتے ہو؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”نہیں!“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”میں فتنوں کو تمہارے گھروں میں بارش کے قطروں کی طرح گرتا دیکھ رہا ہوں“۔ (صحیح بخاری)“
قیامت کے قریب ہر طرف فتنے ہی فتنے اور مصیبتیں ہی مصیبتیں ہوں گی :۔
-
”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے (قیامت کے قریب) دنیا میں سوائے مصیبتوں اور فتنوں کے کچھ باقی نہیں رہ جائے گا۔ (سنن ابن ماجہ)“
جیسے جیسے قیامت قریب آئے گی ویسے ویسے فتنے بڑھتے جائیں گے :۔
-
”حضرت زبیر بن عدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور حجاج کی طرف سے مصیبتیں ہمیں پہنچی تھیں ان کا شکوہ کیا تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا صبر کرو تم پر ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں ہر آنے والا دن تمہارے آج سے بدتر ہوگا حتی کہ تم اپنے رب سے جاملوں گے۔ میں نے یہ بات تمہارے نبی اکرم ﷺ سے سنی ہے۔ (صحیح بخاری)“
قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والے فتنے اتنے شدید ہوں گے کہ زندہ لوگ مردوں پر رشک کریں گے :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا ”قیامت قائم نہیں ہوگی حتی کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کی قبر پر گزرے گا تو کہے گا کاش اس کی جگہ میں ہوتا“۔ (صحیح بخاری)“
بعض فتنے ایسے تند و تیز ہوں گے کہ وہ مسلمانوں کی ہر چیز مثلاً دین، ایمان، معاشرت، تہذیب، تمدن کو بہا لے جائیں گے :۔
-
”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فتنے شمار کرتے ہوئے فرمایا ”ان میں سے تین فتنے ایسے ہیں جو قریب قریب کچھ نہ چھوڑیں گے ان میں سے بعض فتنے ایسے بھی ہوں گے جو گرمی کی آندھیوں کی طرح ہوں گے ان میں سے کچھ چھوٹے ہوں گے کچھ بڑے ہوں گے“۔ (صحیح مسلم)“
قیامت سے پہلے ایسے ایسے فتنے ظاہر ہوں گے جن کا انسان تصور تک نہیں کر سکتا :۔
-
”حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ”مجھ سے پہلے تمام انبیاء پر اپنی امتوں کو نیکی کی باتیں بتانا اور بُرائی سے ڈرانا واجب تھا اس امت کی ابتداء میں تو عافیت ہے لیکن آخر وقت میں ایسی ایسی مصیبتیں اور تکلیفیں آئیں گی جن کا تم اندازہ نہیں کر سکتے پھر ایک ایسا فتنہ آئے گا جس کا ایک حصہ دوسروں کو خوشنما بنائے گا (یعنی پہلے فتنے میں اضافہ کر دے گا) مومن کہے گا یہ فتنہ تو مجھے ہلاک کر ڈالے گا لیکن وہ فتنہ گزر جائے گا پھر دوسرا فتنہ آئے گا اور مومن پھر یہی کہے گا کہ یہ فتنہ مجھے ہلاک کر ڈالے گا لیکن وہ بھی گزر جائے گا پس جسے جہنم سے بچنا اور جنت میں داخل ہونا پسند ہو اسے موت اس حال میں آنی چاہئے کہ وہ اللہ اور یوم آخر پر ایمان رکھتا ہو لوگوں کیساتھ وہی سلوک کرے جو اپنے ساتھ پسند کرتا ہو جس امام (یعنی حاکم) کی بیعت کرے اور عہد دے دے تو پھر جہاں تک ہو سکے اس کی اطاعت کرے اور اگر اس کے مقابلے میں کوئی دوسرا امام (بغاوت کر کے) آئے تو دوسرے کی گردن مار دو (تا کہ مزید فتنہ پیدا نہ ہو)“۔ (سنن ابن ماجہ)“
بعض فتنے ایسے شدید ہوں گے کہ انکی طرف دور سے جھانکنے والا بھی فتنوں میں مبتلا ہو جائے گا :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”عنقریب ایسے فتنے پیدا ہوں گے کہ بیٹھا ہوا کھڑے شخص سے بہتر ہوگا۔ کھڑا شخص چلنے والے سے بہتر ہوگا اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۔ جو شخص دور سے بھی ان فتنوں کی طرف جھانکے گا وہ ان میں مبتلا ہو جائے گا اس وقت جو شخص جہاں کہیں پناہ کی جگہ پائے پناہ حاصل کرلے“۔ (صحیح بخاری)“
فتنوں کی شدت کا یہ عالم ہوگا کہ ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام ہوتے ہوتے کافر ہو جائے گا ایک آدمی شام کے وقت مومن ہوگا اور صبح ہوتے ہوتے کافر ہو جائے گا :۔
-
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ”قیامت سے پہلے شب تاریک کے ٹکڑوں کی مانند فتنے ظاہر ہوں گے ایک آدمی صبح کے وقت مومن ہوگا اور شام کو کافر ہوگا شام کے وقت مومن ہوگا اور صبح کے وقت کافر ہوگا لوگ اپنا دین اور ایمان دولت و دنیا کے بدلے بیچ ڈالیں گے“۔ (جامع ترمذی)“
فتنوں کے دوران ایمان پر قائم رہنا اتنا ہی مشکل ہوگا جتنا آگ کا انگارہ ہاتھ میں لینا مشکل ہوتا ہے :۔
-
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”تمہارے بعد صبر کرنے کے دن آئیں گے ان میں صبر کرنا ایسا ہی (مشکل) ہوگا جیسا آگ کا انگارہ مٹھی میں لینا۔ اس وقت صبر کرنے والے کیلئے پچاس آدمیوں کے برابر اجر ہوگا“۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ! کیا پچاس آدمی ان میں سے یا ہم میں سے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”تم میں سے“۔ (بزار ، صحیح)“
قیامت کے فتنے اس قدر شدید ہوں گے کہ لوگ دجال کی تمنا کرنے لگیں گے تا کہ جلدی جلدی قیامت قائم ہو :۔
-
”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ”لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ دجال کے آنے کی تمنا کرنے لگیں گے“۔ میں نے عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ! میرے ماں باپ آپ (ﷺ) پر قربان! ایسا کیوں ہوگا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”اس وقت (فتنوں کی وجہ سے) ایسا ہی ہوگا“۔ (طبرانی ، صحیح)“