بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قیامت کی علامات (۲)
(احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک کہ مسلمان یہودیوں سے جنگ نہ کریں گے، مسلمان ان کو قتل کر دیں گے یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کی اوٹ میں چھپتا پھرے گا، وہ پتھر یا درخت کہے گا، اے مسلمان ! اے اللہ کے بندے ! یہ یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے تو آکر اسے قتل کر دے لیکن غرقد درخت ایسا نہیں کہے گا کیونکہ وہ یہودیوں کا درخت ہے۔“ (صحیح مسلم)
قیامت کے قریب وقت تیزی سے گزرے گا :-
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، قیامت اس وقت تک قائم نہ ہوگی جب تک کہ وقت قریب نہ ہو جائے گا (یعنی دن رات چھوٹے ہو جائیں گے) سال ماہ کے برابر، ماہ ہفتے کے برابر اور ہفتہ دن کے برابر اور دن گھنٹہ کے برابر اور گھنٹہ آگ کے شعلے کی مانند ہوگا۔“ (جامع ترمذی)
-
”حضرت مستورد بن شداد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں قیامت کے زمانے میں ہی بھیجا گیا ہوں ۔ میں اس سے اتنا آگے بڑھ گیا ہوں ، جتنا یہ انگلی اس انگلی سے بڑھ گئی ہے۔ آپ ﷺ کی مراد انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی سے تھی۔“ (جامع ترمذی)
قیامت کی بڑی نشانیاں :-
-
”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم لوگ قیامت کا ذکر کر رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہماری طرف جھانکا اور فرمایا: قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک دس نشانیوں کو نہ دیکھ لو گے اس کے بعد آپ ﷺ نے ان نشانیوں کا ذکر کیا اور فرمایا : دھواں، دجال، دابتہ الارض، آفتاب کا مغرب کی طرف سے نکلنا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا، یاجوج ماجوج، تین مقامات پر زمین کا دھنس جانا ایک مشرق میں اور ایک مغرب میں اور تیسرے عرب میں۔ وہ آگ جو عدن کے کنارے سے نکلے گی اور لوگوں کو گھیر کر محشر کی طرف لے جائے گی اور ایک روایت میں دسویں نشانی ایک ہوا بیان کی گئی ہے جو لوگوں کو دریا میں پھینک دے گی۔“ (صحیح مسلم)
قیامت کی پہلی بڑی نشانی :-
-
”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا : علامات قیامت میں سے پہلی علامت جو ظاہر ہوگی وہ سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا ہے یا دابتہ الارض کا لوگوں کے سامنے چاشت کے وقت آنا ہے اور ان دونوں میں سے جو بھی علامت پہلے وقوع پذیر ہوگی تو دوسری (علامت) اس کے بعد جلد ہی واقع ہو گی۔“ (صحیح مسلم)
قیامت کی تین نشانیوں کے بعد کسی کا ایمان لانا فائدہ نہ دے گا :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب تین علامات کا ظہور ہو گا تو کسی شخص کو ایمان لانے سے کچھ فائدہ نہ ہوگا جب کہ وہ پہلے ایمان نہیں لایا یا جس نے ایمان (لانے) کے بعد نیک اعمال نہیں کئے: سورج کا مغرب کی جانب سے طلوع ہونا، دجال کا ظاہر ہونا، دابتہ الارض کا ظہور پذیر ہونا“ (صحیح مسلم)