بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قیامت کی علامات صغریٰ (۲)
(احادیث کی روشنی میں)
صرف جان پہچان والوں کو سلام کہنا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے :۔
-
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو صرف جان پہچان کی وجہ سے سلام کرے گا ۔“ (مسند احمد)
-
”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ یہ قیامت کی علامت ہے کہ آدمی مسجد سے گزرے گا لیکن دو رکعت ادا نہیں کرے گا اور سلام صرف اسے کہے گا جسے وہ پہچانتا ہے ۔“ (طبرانی)
-
”رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے :۔ بہترین سلام وہ جو آشنا اور نا آشنا دونوں کو کیا جائے ۔“ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
قیامت کے قریب کوئی کسی کو نیکی کا حکم نہیں دے گا نہ برائی سے روکے گا :۔
-
”حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ بہت جلد ایسا وقت آئے گا کہ نیک لوگ اٹھا لئے جائیں گے اور صرف بُرے لوگ ہی باقی رہ جائیں گے وعدہ اور امانت خلط ملط ہو جائیں گے (یعنی کہ ان کی پروا نہیں کی جائیگی) لوگ بالکل بگڑ جائیں گے اچھے اور برے لوگ آپس میں یوں گھل مل جائیں گے اور آپ ﷺ نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر دکھائیں ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ایسا وقت ہم پر آجائے تو ہم کیا کریں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ جسے نیکی سمجھو اس پر عمل کرنا جسے برا سمجھو اسے چھوڑ دینا اور اس وقت اپنے قابل اعتماد لوگوں کے پاس چلے آنا اور دوسروں کو ان کے حال پر چھوڑ دینا ۔“ (سنن ابن ماجہ)
مسلمانوں میں دنیا سے محبت اور موت سے نفرت پیدا ہو جائے گی جس وجہ سے کافر مسلمانوں پر چڑھ دوڑیں گے :۔
-
”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ عنقریب (کافر) امتیں تمہار ے اوپر چڑھ دوڑنے کیلئے ایک دوسرے کو اس طرح بلائیں گی جس طرح کھانے والے ایک دوسرے کو دستر خوان کی طرف بلاتے ہیں ۔ ایک آدمی نے عرض کیا شاید اس وقت ہم تعداد میں کم ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ نہیں ! بلکہ تم کثرت میں ہو گے لیکن تمہاری حیثیت پانی کے اوپر بہنے والی جھاگ کی مانند ہو گی اللہ تعالیٰ تمہارے دشمن کے دلوں سے تمہارا رعب ختم کر دیں گے اور تمہارے دلوں میں وہن پیدا فرما دیں گے ۔ ایک آدمی نے عرض کیا :۔ یا رسول اللہ ﷺ وہن کا کیا مطلب ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :۔ دنیا کی محبت اور موت سے نفرت ۔“ (سنن ابو داؤد)
قیامت سے پہلے دوبارہ بت پرستی شروع ہو جائے گی :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :۔ قیامت قائم نہ ہو گی جب تک دوس قبیلے کی عورتیں ذوالخلصہ کے بت خانہ میں چکر نہ لگائیں ۔“ (صحیح بخاری) نوٹ :۔ یمن میں ذوالخلصہ کے مقام پر قبیلہ دوس کا بت تھا جس کا مشرک زمانہ جاہلیت میں طواف کرتے تھے ۔
دولت مند لوگ صدقہ خیرات دینے کیلئے لوگوں کو بلائیں گے لیکن صدقہ لینے کیلئے کوئی نہ آئے گا :۔
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :۔ قیامت سے پہلے مال اسقدر بڑھ جائے گا کہ دولت مند سوچے گا کہ اس کا صدقہ کون قبول کرے گا وہ کسی آدمی کو صدقہ لینے کیلئے بلائے گا لیکن وہ کہے گا مجھے اسکی ضرورت نہیں ۔“ (صحیح مسلم)