حُب رسول ﷺ، جُزِ ایمان

اشاعت: 15-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Muhabbat e Rasool ﷺ iman ka hissa – Sahih Bukhari hadith about love of Prophet

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

حُب رسول ، جُزِ ایمان (قرآن احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کی مٹھی میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں“۔

  • ”حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے باپ، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں“۔ (صحیح بخاری)

وضاحت :- ان روایات میں آنحضرت پر ایمان کا تقاضا یہ بتایا گیا ہے کہ آدمی کے اندر آپ کیلئے محبت ماں باپ، اولاد، اور تمام مخلوق کے مقابلے میں زیادہ ہو۔ اس سے مراد وہ جذباتی محبت نہیں جو آدمی کو اپنی بیوی یا اولاد سے ہوتی ہے۔ جذبات اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اور ان میں مداخلت نہیں ہوسکتی۔ یہاں مراد عقلی اور اختیاری محبت ہے۔ یہ سب سے زیادہ نبی کیساتھ ہونی چاہئے۔ اس محبت کا معیار قرآن وحدیث دونوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کے سامنے کوئی ایسا موڑ آجائے جہاں اس کو یہ فیصلہ کرنا ہو کہ ماں باپ اور بیوی بچوں کی محبت کا تقاضا تو یہ ہے کہ یہ کام کروں لیکن نبی کا حکم اس کے خلاف ہے۔ اگر آدمی اس موڑ پر اس چیز کو اختیار کر لے جو نبی کا حکم ہے اور بیوی بچوں یا ماں باپ کی خواہش کو نظر انداز کر دے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ تمام خلق سے زیادہ نبی سے محبت کرتا ہے۔ یہ ایمان کا بدیہی اور عقلی تقاضا ہے۔ ماں باپ اور اولاد کے علاوہ اس میں دوسری سب چیزیں شامل ہو جائیں گی۔ جیسے خاندان، برادری، قوم، وطن وغیرہ۔ حقیقی ایمان وہی ہے جو اس کسوٹی پر پورا اترے۔ باقی رہا قانونی ایمان تو وہ یہ ہے کہ جب تک آدمی لا الہ الا اللہ کا انکار نہ کر دے یا کسی ایسی چیز کا اعلان نہ کر دے جو اس کلمے کے منافی ہے تب تک اس پر لفظ مسلمان کا اطلاق ہو گا اور اس پر مسلمانوں کا قانون لاگو رہے گا۔ مردم شماری میں وہ مسلمان ہی شمار ہو گا اگرچہ یہ حقیقی ایمان سے خالی ہو۔

  • ”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی نے فرمایا کہ تین چیزیں جس کے اندر ہیں اس کو ایمان کا مزہ حاصل ہوا۔ ایک یہ کہ اللہ اور رسول اس کو ان کے ماسوا سے زیادہ محبوب ہو جائیں۔ دوسری یہ کہ وہ کسی شخص سے محبت کرے محض اللہ کیلئے۔ اور تیسری یہ کہ وہ کفر کی طرف لوٹنے کو ایسا ناگوار سمجھے جیسے وہ آگ میں پھینکے جانے کو ناگوار سمجھتا ہے“۔ (صحیح بخاری)

وضاحت :- اس حدیث میں نبی نے تین چیزیں ایسی بتائی ہیں جو اگر کسی کو حاصل ہوں تو ایسا مسلمان اپنے ایمان کی چاشنی محسوس کرتا ہے۔ اس میں پہلی چیز اللہ اور اسکے رسول کی محبت کو قرار دیا گیا ہے جس سے ایمانی محبت مراد ہے۔ اللہ کی محبت کا مطلب یہ ہے کہ توحید الوہیت میں اسے وحدہ لا شریک لہ یقین کر کے عبادت کی جملہ اقسام صرف اسکے لئے عمل میں لائی جائیں اور کسی بھی نبی، ولی، فرشتے، دیوی، دیوتا، انسان وغیرہ وغیرہ کو اس کے کاموں میں شریک نہ کیا جائے۔ کیونکہ کلمہ لا الہ الا اللہ کا یہی تقاضا ہے۔ یعنی ”بیشک اللہ شرک کو نہیں بخشے گا اس کے علاوہ جس گناہ کو چاہے گا بخش دے گا“۔ (النساء ۔ ۴۸)

”رسول “ کی محبت سے ان کی اطاعت اور فرمانبرداری مراد ہے اس کے بغیر محبت رسول کا دعویٰ غلط ہے۔ نیز محبت رسول کا تقاضا ہے کہ آپ کا ہر فرمان بلند و بالا تسلیم کیا جائے۔ اور اس کے مقابلہ پر کسی کا کوئی حکم نہ مانا جائے۔

اس حدیث میں دوسری خصلت بھی بہت اہم بیان کی گئی ہے کہ مومن کامل وہ ہے جس کی لوگوں سے محبت خالص اللہ کیلئے ہو اور دشمنی بھی خالص اللہ کیلئے ہو۔ نفسانی اغراض کا شائبہ بھی نہ ہو۔ جیسا کہ حضرت علی مرتضیٰ کی بابت مروی ہے کہ ایک کافر نے جس کی چھاتی پر آپ چڑھے ہوئے تھے آپ کے منہ پر تھوک دیا۔ تو آپ فوراً ہٹ کر اس کے قتل سے رک گئے اور یہ فرمایا کہ اب میرا یہ قتل کرنا اللہ کیلئے نہ ہوتا۔ بلکہ اس کے تھوکنے کی وجہ سے اپنے نفس کیلئے ہوتا اور مومن صادق کا یہ شیوہ نہیں کہ اپنے نفس کیلئے کسی سے عداوت یا محبت رکھے۔

تیسری خصلت میں اسلام و ایمان پر استقامت مراد ہے۔ حالات کتنے بھی ناسازگار ہوں ایک سچا مومن دولت ایمان کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ بلاشک جس میں یہ تینوں خصلتیں جمع ہوں گی اس نے درحقیقت ایمان کی لذت حاصل کی پھر وہ کسی حال میں ایمان سے محرومی پسند نہ کرے گا اور مرتد ہونے کیلئے کبھی بھی تیار نہ ہو سکے گا۔ خواہ وہ شہید کر دیا جائے‘ اسلامی تاریخ کی ماضی و حال میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ بہت سے مخلص بندگان مسلمین نے جام شہادت پی لیا مگر ارتداد کیلئے تیار نہ ہوئے۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان مرد اور عورت کے اندر ایسی ہی استقامت پیدا فرمائے۔ آمین۔

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Love of the Messenger Is Part of Faith (In the Light of Quran and Hadith)

Loving the Prophet More Than Parents and Children

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah said:
“By the One in Whose Hand is my soul, none of you can truly believe until I become more beloved to him than his father and his child.”

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah said:
“None of you truly believes until I become more beloved to him than his father, his child, and all people.”
(Sahih al-Bukhari)

Explanation

These narrations clarify that true faith requires a believer to love the Prophet more than parents, children, and all creation. This does not refer to emotional attachment like the natural affection one has for family, since emotions are inherent and beyond human control. Rather, it refers to conscious, rational, and voluntary love—one that governs a person’s choices and obedience.

Its practical measure is evident when a person faces a situation where the demands of family affection conflict with the command of the Prophet . If one chooses the command of the Prophet over personal or familial inclinations, this reflects a love for him greater than all others. This is a rational and necessary requirement of faith.

This includes everything besides parents and children as well—family ties, tribe, nation, and homeland. True faith is that which passes this criterion. As for legal or outward faith, a person remains within the fold of Islam so long as he does not deny the testimony of faith or declare anything that contradicts it; such a person is treated as a Muslim in worldly matters, even if the depth of true faith is lacking.

Sweetness of Faith

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet said:
“Whoever possesses three qualities will taste the sweetness of faith: that Allah and His Messenger are more beloved to him than anything else; that he loves a person only for the sake of Allah; and that he hates returning to disbelief as much as he would hate being thrown into the Fire.”
(Sahih al-Bukhari)

Explanation

This hadith highlights three qualities through which a believer experiences the sweetness of faith.

1) Love of Allah and His Messenger :
This refers to faith-based love expressed through obedience. Loving Allah means affirming His absolute oneness and dedicating all forms of worship solely to Him, without associating any prophet, saint, angel, deity, or human partner with Him. This is the essence of the testimony of faith. Allah says that He does not forgive associating partners with Him but forgives what is lesser than that for whom He wills (An-Nisa 48).

Loving the Messenger means following and obeying him. A claim of love without obedience is invalid. True love requires accepting his guidance above all other opinions and commands.

2) Loving Others for the Sake of Allah:
A true believer loves and dislikes purely for Allah’s sake, free from personal ego or worldly motives. This sincerity reflects purity of faith and intention.

3) Firmness Upon Faith:
The believer remains steadfast upon Islam regardless of hardship. Even in the face of severe trials, he does not prefer disbelief over faith. One who possesses these three qualities truly experiences the sweetness of faith and would never willingly abandon it, even under the threat of death.

Throughout Islamic history, many sincere believers preferred martyrdom rather than renouncing their faith. May Allah grant such steadfastness to every believing man and woman. Ameen.