بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نبی کریم ﷺ کے معجزات (۱) (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے (جنگ) اُحد کے دن رسول اللہ ﷺ کے دائیں اور بائیں جانب دو شخص دیکھے ان دونوں نے سفید لباس پہنا ہوا تھا، وہ زبردست لڑائی کر رہے تھے میں نے ان دونوں کو نہ کبھی پہلے اور نہ ہی کبھی بعد میں دیکھا اور وہ جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام فرشتے تھے“۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
-
”براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ابورافع (یہودی) کے قتل کیلئے بھیجا، چنانچہ عبداللہ رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے گھر میں داخل ہوئے، ابورافع اس وقت سویا ہوا تھا، عبداللہ بن عتیکؓ نے اسے قتل کر دیا۔ عبداللہ بن عتیکؓ کہتے ہیں کہ میں نے اسکے پیٹ میں تلوار گھونپ دی یہاں تک کہ اسکی کمر کے پار ہو گئی، مجھے یقین ہو گیا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے، پھر میں نے دروازے کھولنے شروع کئے یہاں تک کہ میں سیڑھی کے قریب پہنچ گیا، میں نے اپنا پاؤں رکھا تو میں چاندنی رات میں سیڑھی سے گر پڑا جس سے میری پنڈلی (کی ہڈی) ٹوٹ گئی، میں نے اسکو (اپنی) پگڑی کے ساتھ مضبوط باندھا اور میں اپنے رفقاء کی جانب چلا جو قلعے کے نیچے کھڑے تھے، پھر میں اپنے رفقاء کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پہنچا۔ میں نے آپ ﷺ سے تمام واقعہ بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا، اپنا پاؤں پھیلا، میں نے اپنا پاؤں پھیلایا تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ پھیرا تو یوں محسوس ہوا کہ جیسے میری پنڈلی میں کبھی تکلیف ہوئی ہی نہ تھی“۔ (صحیح بخاری)
-
”جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کے دن لوگوں نے پیاس کی شدت کو محسوس کیا جبکہ رسول اللہ ﷺ کے آگے وضو کا برتن تھا، آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا بعد ازاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی جانب آئے انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس (اتنا بھی) پانی نہیں ہے کہ ہم وضو کر سکیں اور پی سکیں صرف وہی ہے جو آپ ﷺ کے برتن میں ہے۔ نبی ﷺ نے اپنا ہاتھ برتن میں رکھا تو آپ ﷺ کی انگلیوں سے پانی چشمے کی مانند جوش مارنے لگا۔ جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے پانی پیا اور اس سے وضو کیا۔ جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آپ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے بتایا کہ ہم پندرہ سو تھے لیکن اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو پانی ہمیں کافی ہوتا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
-
”جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اُم مالک رضی اللہ عنہا نبی ﷺ کی جانب چھوٹا سا مشکیزہ تحفہ بھیجتیں جس میں گھی ہوتا تھا، اُم مالکؓ کے پاس ان کے بچے آتے اور ان سے سالن کا مطالبہ کرتے، ان کے گھر میں سالن نہ ہوتا تو وہ اس مشکیزے کی جانب متوجہ ہوتیں جس میں نبی ﷺ کیلئے ہدیتاً گھی بھیجتی تھیں۔ چنانچہ وہ اس میں گھی موجود پاتیں، مشکیزہ ہمیشہ انکے لئے ان کے گھر کا سالن رہا حتیٰ کہ انہوں نے (ایک دن) مشکیزے کو بالکل نچوڑ دیا۔ وہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ ﷺ نے دریافت کیا، کیا تو نے مشکیزے کو بالکل نچوڑ دیا؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، اگر تو اسے نہ نچوڑتی تو گھی ہمیشہ (اس میں) موجود رہتا“۔ (صحیح مسلم)
-
”انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ مدینہ منورہ کے مکین (دشمن کے آنے سے) خوفزدہ ہوئے تو نبی ﷺ ابوطلحہؓ کے گھوڑے پر سوار ہوئے جو سست رفتار تھا اور اسکا چلنا کمزور تھا، جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو آپ ﷺ نے فرمایا، ہم نے تمہارے اس گھوڑے کو تیز رفتار پایا ہے، اس واقعہ کے بعد اس گھوڑے کیساتھ (دوڑنے میں) کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تھا، اور ایک روایت میں ہے کہ اس دن کے بعد سے کوئی گھوڑا اس سے آگے نہ بڑھ سکا“۔ (صحیح بخاری)