معراج النبی ﷺ

اشاعت: 15-02-2026
شیئر کریں (صدقہ جاریہ):
Meraj un Nabi ﷺ ka waqia – Shab e Meraj Hadith Sahih Muslim aur Sahih Bukhari

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

معراج النبی (احادیث کی روشنی میں)

  • ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کو معراج کرایا گیا تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لے جایا گیا اور سدرۃ المنتہیٰ چھٹے آسمان میں ہے جو چیز زمین سے اوپر لے جائی جاتی ہے تو اسے وہاں روک دیا جاتا ہے اور اس کے اوپر سے جو کچھ بھی نیچے آتا ہے اور اسے بھی وہیں روک لیا جاتا ہے (اس کے بعد) ابن مسعود رضی اللہ عنہ یہ آیت تلاوت کی (جس کا ترجمہ ہے) ’جب سدرۃ المنتہیٰ کو ڈھانپ لیا‘ جس چیز سے ڈھانپ لیا‘، اور کہا اس سے مقصود سونے کے پتنگے ہیں۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (معراج کی رات) نبی کو تین چیزیں عطا کی گئیں :- (۱) آپ کو پانچ نمازیں عطا کی گئیں۔ (۲) سورۃ بقرہ کی آخری آیت عطا کی گئیں۔ (۳) اور آپ کی امت میں سے اس شخص کے کبیرہ گناہ معاف (کرنے کے احکامات صادر) کئے گئے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔“ (صحیح مسلم)

  • ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا ’میں نے اپنے آپ کو اس حال میں ”حِجْر“ یعنی حَطِیم میں دیکھا کہ قریش مجھ سے میرے اسراء کے بارے میں دریافت کر رہے تھے اور بیت المقدس کی ان بہت سی چیزوں کے بارے میں دریافت کر رہے تھے جو مجھے یاد نہیں رہی تھیں۔ چنانچہ میں بہت غمگین ہوا کہ اس سے پہلے میں کبھی اتنا غمگین نہیں ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کر دیا میں اسے دیکھ رہا تھا وہ جس چیز کے بارے میں بھی مجھ سے دریافت کرتے تو میں انہیں اس کے بارے میں بتا دیتا نیز یہ حقیقت ہے کہ میں نے خود انبیاء علیہم اصلوۃ والسلام کی جماعت میں دیکھا کہ موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے‘ وہ ہلکے ہلکے مضبوط جسم والے شخص تھے گویا کہ وہ شنوء قبیلہ کے آدمیوں میں سے ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو کر نماز ادا کر رہے تھے‘ ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود ثقفی ہیں اور ابراہیم علیہ السلام بھی کھڑے نماز ادا کر رہے تھے‘ ان سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا دوست ہے‘ آپ کا اشارہ اپنے آپ کی طرف تھا۔ جب نماز کا وقت ہوا تو میں نے ان سب کی امامت کرائی جب میں نماز سے فارغ ہوا تو مجھے کسی کہنے والے نے کہا کہ اے محمد! () یہ دوزخ کا نگران فرشتہ مالک ہے‘ آپ اسے سلام کہیں (آپ نے فرمایا) میں اس کی جانب متوجہ ہوا لیکن اس نے مجھے سلام کہنے میں پہل کی۔“ (صحیح مسلم)

  • ”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا ’جب قریش نے (معراج کے واقعہ کے بارے میں) مجھے جھٹلایا تو ”حِجْر“ یعنی حَطِیم میں کھڑا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے بیتُ الْمُقَدس کو میرے لئے نمایاں کر دیا تو میں (بیتُ الْمُقَدس) کی طرف دیکھ دیکھ کر اس کی علامات ان لوگوں کو بتاتا رہا۔‘“ (صحیح مسلم ، صحیح بخاری)

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

Al-Miʿraj of the Prophet (In the Light of Hadith)

Sidrat al-Muntaha and the Gifts Granted on the Night of Miʿraj

Abdullah ibn Masʿud رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah was taken on the Night Journey and Ascension until he reached Sidrat al-Muntaha, which is in the sixth heaven. Whatever ascends from the earth is halted there, and whatever descends from above is also halted there. Ibn Masʿud رضي الله عنه then recited the verse (meaning): “When the lote tree was covered with that which covered it,” and said that it was covered with golden moth-like forms.

He further stated that on the night of Miʿraj the Prophet was granted three things:

  1. The five daily prayers were made obligatory.

  2. The concluding verses of Al-Baqarah were given.

  3. Forgiveness was promised for the major sins of those from his Ummah who do not associate partners with Allah.
    (Sahih Muslim)

Questioning of Quraysh and the Vision of Bayt al-Maqdis

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah said:
“I found myself in al-Hijr (al-Hatim), and Quraysh were questioning me about my Night Journey and about many details of Bayt al-Maqdis that I had not retained fully. I became distressed as I had never been before. Then Allah presented Bayt al-Maqdis before me, and I began looking at it and informing them about whatever they asked.”

He also said:
“I saw myself among the company of the Prophets: Musa عليه السلام was standing in prayer—of a strong, lean build, resembling the men of the tribe of Shanu’ah. ʿIsa عليه السلام was standing in prayer—the one most resembling him was ʿUrwah ibn Masʿud al-Thaqafi. Ibrahim عليه السلام was also standing in prayer—the one most resembling him is your companion,” and he pointed to himself.

“When the time for prayer came, I led them in prayer. After finishing, someone said: ‘O Muhammad , this is Malik, the keeper of Hell; greet him.’ I turned toward him, but he greeted me first.”
(Sahih Muslim)

Presentation of Bayt al-Maqdis Before the Prophet

Jabir رضي الله عنه reported that the Prophet said:
“When Quraysh denied me regarding the Miʿraj, I stood in al-Hijr, and Allah displayed Bayt al-Maqdis before me. I began describing its signs to them while looking at it.”
(Sahih Muslim; Sahih al-Bukhari)