بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
مدینہ کے فضائل (احادیث کی روشنی میں)
-
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا، ایک ایسے شہر (میں ہجرت) کا حکم ہوا ہے جو دوسرے شہروں کو کھا لے گا۔ (یعنی سب کا سردار بنے گا) منافقین اسے یثرب کہتے ہیں لیکن اس کا نام مدینہ ہے وہ (برے) لوگوں کو اس طرح باہر کر دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے زنگ کو نکال دیتی ہے"۔ (صحیح بخاری)
-
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اگر میں مدینہ میں ہرن چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں کبھی نہ چھیڑوں کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ مدینہ کی زمین دونوں پتھریلے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے"۔ (صحیح بخاری - ح ۱۸۷۳)
-
"سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور اُن کو جو اُن کی بات مان جائیں گے سوار کر کے مدینہ سے (واپس یمن کو) لے جائیں گے، کاش! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کے لئے بہتر تھا، اور عراق فتح ہوگا تو کچھ لوگ اپنی سواریوں کو تیز دوڑاتے ہوئے لائیں گے اور اپنے گھر والوں کو اور جو ان کی بات مانیں گے اپنے ساتھ (عراق واپس) لے جائیں گے، کاش! انہیں معلوم ہوتا کہ مدینہ ہی ان کیلئے بہتر تھا"۔ (صحیح بخاری - ح ۱۸۷۵)
ایمان مدینہ کی طرف سمٹ آئے گا :-
-
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے قریب) ایمان مدینہ میں اسطرح سمٹ آئیگا کہ جیسے سانپ سمٹ کر اپنے بل میں آجایا کرتا ہے"۔ (صحیح بخاری - ح ۱۸۷۶)
جو شخص مدینہ والوں کو ستانا چاہے اس پر کیا وبال پڑے گا :-
-
"حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا تھا، آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ اہل مدینہ کے ساتھ جو شخص بھی فریب کرے گا، وہ اسطرح گھل جائے گا کہ جیسے نمک پانی میں گھل جایا کرتا ہے"۔ (صحیح بخاری)
دجال مدینہ میں نہیں آسکے گا :-
-
"حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، مدینہ پر دجال کا رعب بھی نہیں پڑے گا، اس دور میں مدینہ کے سات دروازے ہوں گے، اور ہر دروازے پر دو فرشتے ہوں گے"۔ (صحیح بخاری - ح ۱۸۷۹)
-
وضاحت :- یہ پیشین گوئی حرف بہ حرف صحیح ہوئی کہ زمانہ نبوی میں نہ مدینہ کی فصیل تھی اور نہ اس میں دروازے۔ اب فصیل بھی بن گئی ہے اور سات دروازے بھی ہیں پیشین گوئی کا باقی حصہ آئندہ بھی صحیح ثابت ہوگا۔
-
-
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہیں، نہ اس میں طاعون آسکتا ہے نہ دجال "۔ (صحیح بخاری - ح ۱۸۸۰)
-
"حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی ایسا شہر نہیں ملے گا جسے دجال پامال نہ کریگا، سوائے مکہ اور مدینہ کے، ان کے ہر راستے پر صف بستہ فرشتے کھڑے ہوں گے، جو ان کی حفاظت کریں گے، پھر مدینہ کی زمین تین مرتبہ کانپے گی، جس سے ایک ایک کافر اور منافق کو اللہ تعالیٰ اس میں سے باہر کر دے گا"۔ (صحیح بخاری . ۱۸۸۱)
-
"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم سے رسول اللہ ﷺ نے دجال سے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کی، آپ ﷺ نے اپنی حدیث میں یہ بھی فرمایا تھا کہ دجال مدینہ کی ایک کھاری شور زمین تک پہنچے گا، اس پر مدینہ میں داخلہ تو حرام ہوگا ۔ (مدینہ سے) اس دن ایک شخص اسکی طرف نکل کر بڑھے گا۔ یہ لوگوں میں ایک بہترین نیک مرد ہوگا یا (یہ فرمایا کہ) بزرگ ترین لوگوں میں سے ہوگا، وہ شخص کہے گا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے متعلق ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اطلاع دی، دجال کہے گا کیا میں اسے قتل کرکے پھر زندہ کر ڈالوں تو تم لوگوں کو میرے معاملہ میں کوئی شبہ رہ جائے گا؟ اسکے حواری کہیں گے نہیں، چنانچہ دجال انہیں قتل کرکے پھر زندہ کر دے گا، جب دجال انہیں زندہ کر دے گا تو وہ بندہ کہے گا، بخدا اب تو مجھ کو پورا حال معلوم ہوگیا کہ تو ہی دجال ہے، دجال کہے گا ۔ لاؤ اسے پھر قتل کر دوں لیکن اس مرتبہ وہ قابو نہ پاسکے گا"۔ (صحیح بخاری)
-
وضاحت :- اللہ پاک ایمان والوں کو آزمانے کیلئے دجال کے ہاتھ پر مار کر زندہ کرنے کی نشانی ظاہر کر دیگا، نادان لوگ دجال کی خدائی کے قائل ہو جائیں گے لیکن جو سچے ایماندار ہیں، وہ اس سے متاثر نہ ہوں گے، بلکہ انکا ایمان اور بڑھ جائیگا۔
-
-
"حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام پر بیعت کی دوسرے دن آیا تو اسے بخار چڑھا ہوا تھا، کہنے لگا کہ میری بیعت کو توڑ دیجئے! تین بار اس نے یہی کہا، آپ ﷺ نے انکار کیا پھر فرمایا کہ مدینہ کی مثال بھٹی کی سی ہے کہ میل کچیل کو دور کرکے خالص جوہر کو نکھار دیتی ہے"۔ (صحیح بخاری . ح ۱۸۸۳)
-
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو سلمہ نے چاہا کہ اپنے دور والے مکانات چھوڑ کر مسجد نبوی سے قریب اقامت اختیار کرلیں لیکن رسول اللہ ﷺ نے یہ پسند نہیں کیا کہ مدینہ کے کسی حصہ سے بھی رہائش ترک کی جائے، آپ ﷺ نے فرمایا، اے بنوسلمہ! تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے، چنانچہ بنوسلمہ نے (اپنی اصل اقامت گاہ ہی میں) رہائش باقی رکھی"۔ (صحیح بخاری . ح ۱۸۸۵)