بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
نماز کا مسنون طریقہ (۱) (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب ہم نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ ہماری صفیں درست فرماتے پھر اللہ اکبر کہہ کر نماز شروع کرتے“۔ (سنن ابو داؤد)
تکبیر تحریمہ کے ساتھ دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھانے مسنون ہیں :-
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب نماز کیلئے کھڑے ہوتے تو اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاتے حتی کہ کندھوں تک پہنچ جاتے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
اگر قرآن مجید بالکل نہ یاد ہو تو قرأت کی جگہ درج ذیل دُعا پڑھے :-
-
”حضرت ابواوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ”میں (نماز میں) قرآن مجید میں سے کچھ بھی پڑھنے کی طاقت نہیں رکھتا مجھے کوئی ایسی چیز سکھا دیجئے جو قرآن مجید کی جگہ کافی ہو، آپ ﷺ نے فرمایا:۔ (قرأت کی جگہ) سُبْحَانَ اللہِ، اَلْحَمْدُ لِلہِ، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَ اللہُ اَکْبَرُ لَا حَوْلَ وَ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللہِ پڑھ لیا کرو“۔ (سنن نسائی)
قرأت کرتے ہوئے مختلف سورتوں میں سوالیہ آیات کے جواب دینا مسنون ہے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب (نماز میں) سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلَی (اپنے بلند مرتبہ رب کی پاکی بیان کر) پڑھتے تو جواب میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلٰی (میرا بلند مرتبہ رب پاک ہے) فرماتے“۔ (سنن ابو داؤد)
قرأت کے دوران سجدہ تلاوت کی آیت آئے تو تلاوت کرنے اور سننے والے کو سجدہ کرنا چاہئے :-
-
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قرآن پڑھتے ہوئے سجدے کی آیت پر آتے، تو سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدہ کرتے“۔ (صحیح مسلم)
سجدہ تلاوت واجب نہیں ہے :-
-
”حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سورۃ النجم تلاوت کی تو آپ ﷺ نے سجدہ تلاوت نہیں کیا“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
رکوع اور سجود کی متعدد مسنون تسبیحات میں سے دو یہ ہیں :-
-
”حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو رکوع میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْعَظِیْمِ (ترجمہ: میرا عظیم رب پاک ہے) تین مرتبہ کہتے ہوئے سنا اور سجدے میں سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلَی (ترجمہ: میرا بلند رب پاک ہے) تین مرتبہ کہتے سنا“۔ (سنن ابن ماجہ)
رکوع میں دونوں ہاتھ مضبوطی سے گھٹنوں پر رکھنے چاہئے اور بازو پھیلا نے چاہئے :-
-
”حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ رکوع کرتے، تو اپنے ہاتھوں سے گھٹنے مضبوط پکڑ لیتے“۔ (صحیح بخاری)
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رکوع کرتے تو اپنے دونوں ہاتھوں گھٹنوں پر رکھ لیتے اور اپنے بازو پھیلا دیتے“۔ (سنن ابن ماجہ)