بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
سجدے کی فضیلت (احادیث کی روشنی میں)
سجدہ میں بندہ رب سے زیادہ قریب ہوتا ہے:-
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بندہ اپنے رب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے کی حالت میں ہو پس تم (سجدے کی حالت میں) کثرت کے ساتھ دعا کرو۔" (صحیح مسلم)
سجدے سے شیطان روتا ہے:-
"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب آدم کا بیٹا سجدے کی آیت تلاوت کرتا ہے اور سجدہ کرتا ہے تو شیطان اس سے دور ہو کر رونا شروع کر دیتا ہے اور کہتا ہے: مجھے افسوس ہے کہ آدم کے بیٹے کو سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا اُس نے سجدہ کیا۔ اس کیلئے جنت ہے مجھے سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا میں نے انکار کیا۔ میرے لئے دوزخ ہے۔" (صحیح مسلم)
"ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک رات حضور ﷺ کی خدمت میں تھا تو میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر حاضر خدمت ہوا تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ربیعہ (رضی اللہ عنہ) کچھ مانگو (آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ تمھارے دل میں اگر کسی خاص چیز کی چاہت اور آرزو ہو تو اس وقت مانگ لو، میں اللہ تعالیٰ سے اُسکے لئے دُعا کروں گا اور اُمید ہے کہ وہ تمھاری مُراد پوری کر دے گا) ربیعہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا میری مانگ یہ ہے کہ جنت میں آپ ﷺ کی رفاقت نصیب ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: یہی یا اس کے سوا کچھ اور؟ میں نے عرض کیا میں تو بس یہی مانگتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنے اس معاملے میں سجدوں کی کثرت کے ذریعے میری مدد کرو۔" (صحیح مسلم)
سجدوں سے درجے بلند ہوتے ہیں:-
"معدان بن طلحہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے غلام ثوبانؓ سے ملا۔ میں نے کہا مجھے ایسے عمل کے بارے میں بتائیں کہ میں وہ عمل کروں تو اللہ تعالیٰ مجھے اس عمل کی وجہ سے جنت میں داخل فرمائے۔ وہ خاموش ہو گیا۔ میں اس سے پھر سوال کیا۔ وہ خاموش ہو گیا۔ پھر میں نے اس سے تیسری بار دریافت کیا، اس نے بیان کیا کہ میں نے یہ سوال رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تجھے کثرت کے ساتھ نوافل ادا کرنے چاہئیں بلاشبہ جب تو اللہ کی رضا کیلئے ایک سجدہ کرے گا تو اللہ اس سجدے کی وجہ سے تیرا ایک درجہ بلند فرمائے گا۔ معدان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ بعد ازاں میں ابوالدرداء سے ملا اور ان سے دریافت کیا۔ اُنہوں نے بھی مجھے اسی طرح کا جواب دیا جس طرح مجھے ثوبانؓ نے جواب دیا تھا۔" (صحیح مسلم)
سجدے کی دُعا قبول ہوتی ہے:-
"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ:- مجھے اس کی ممانعت ہے کہ رکوع اور سجدے کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کروں۔ پس رکوع میں تم لوگ اپنے مالک اور پروردگار کی عظمت و کبریائی بیان کیا کرو اور سجدے میں دُعا کی خوب کوشش کیا کرو۔ سجدے کی دُعا (خاص طور سے) اس کی مستحق ہے کہ قبول کی جائے۔" (صحیح مسلم)