بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دجال کا فتنہ، اسکی شدت اور مدت (قیامت کی بڑی نشانیاں)
(احادیث کی روشنی میں)
دجال کا فتنہ :۔
-
”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے دجال کے بارے میں ارشاد فرمایا ’اسکے ساتھ پانی اور آگ ہوگی، درحقیقت اسکی آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کا پانی آگ ہوگی (خبردار!) اپنے آپ کو ہلاک نہ کرلینا‘ (مسلم)“
-
”حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’دجال جب نکلے گا تو اس کے پاس پانی اور آگ ہوں گے جسے لوگ پانی سمجھیں گے وہ درحقیقت جلانے والی آگ ہوگی اور جسے لوگ آگ سمجھیں گے درحقیقت وہ ٹھنڈا شیریں پانی ہوگا لہٰذا تم میں سے جو کوئی وہ موقع پائے تو اسے چاہئے کہ وہ آگ میں کود پڑے کیونکہ وہ میٹھا اور پاکیزہ پانی ہے‘۔ (صحیح مسلم)“
-
”حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک روز رسول اکرم ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا ہم نے عرض کیا ’یا رسول اللہ ﷺ! زمین میں اس کا گھومنا کس تیزی سے ہوگا؟‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’اس بارش کی طرح جسے ہوا پیچھے سے دھکیلتی ہے وہ ایک قوم کے پاس آئے گا اور انہیں اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دے گا وہ ایمان لے آئیں گے اور اسکی بات مان لیں گے چنانچہ وہ آسمان کو حکم دے گا اور وہ بارش برسائے گا، زمین کو حکم دے گا اور وہ نباتات اگائے گی شام کے وقت (لوگوں) جانور چراگاہوں سے واپس آئیں گے تو ان کی کوہانیں پہلے سے بڑی ہوں گی تھن کشادہ ہوں گے اور پسلیاں خوب بھری ہوں گی۔ پھر وہ دوسری قوم کے پاس جائے گا اور انہیں اپنے آپ پر ایمان لانے کی دعوت دے گا لیکن وہ اسکی دعوت کا انکار کر دیں گے چنانچہ دجال وہاں سے چلا جائے گا اور ان پر قحط سالی مسلط ہو جائے گی اور ان کے مالوں میں سے کچھ بھی ان کے پاس نہ رہے گا۔ دجال ویران جگہ کی طرف چلا جائے گا اور زمین کو حکم دے گا اپنے خزانے اگل دے تو زمین اپنے خزانے اس طرح نکال کر جمع کردے گی جس طرح شہد کی مکھیاں بڑی مکھیوں کے گرد ہجوم کرتی ہیں‘۔ (صحیح مسلم)“
فتنہ دجال کی شدت :۔
-
”حضرت ہشام بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ’آدم سے لے کر قیامت تک اللہ کی مخلوق میں سے (فتنہ) دجال سے بڑا اور کوئی (فتنہ) نہیں ہوگا‘۔ (صحیح مسلم)“
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں رسول اکرم ﷺ تشریف لائے اور میں رو رہی تھی آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا ’یا رسول اللہ ﷺ دجال یاد آگیا ہے اس وجہ سے رو رہی ہوں‘۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر دجال میری موجودگی میں نکلا تو تم سب کی طرف سے میں اس کیلئے کافی ہوں گا لیکن اگر وہ میرے بعد نکلا تو یاد رکھنا تمہارا رب کانا نہیں ہے‘۔ (مسند احمد)“
فتنہ دجال سے ڈر کر مسلمان پہاڑوں میں جا چھپیں گے :۔
-
”حضرت اُم شریک رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’لوگ دجال (سے) بھاگ کر پہاڑوں میں چلے جائیں گے‘۔ حضرت ام شریک رضی اللہ عنہا نے عرض کیا ’یا رسول اللہ ﷺ! اس روز عرب (مسلمان) کہاں ہوں گے؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’وہ اس روز تعداد میں کم ہوں گے‘۔ (صحیح مسلم)“
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے علاوہ دُنیا کا کوئی شہر دجال کے فتنہ سے محفوظ نہیں ہوگا :۔
-
”حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’کوئی شہر ایسا نہیں جس میں دجال داخل نہ ہو سوائے مکہ اور مدینہ کے، فرشتے مکہ اور مدینہ کے راستوں پر صف باندھے کھڑے ہوں گے اور ان دونوں شہروں کی حفاظت کریں گے دجال مدینہ منورہ کی سنگلاخ زمین تک پہنچے گا تو تین بار زلزلہ آئے گا اور مدینہ منورہ میں موجود تمام کافر اور منافق دجال کے پاس چلے جائیں گے‘۔ (صحیح مسلم)“
فتنہ دجال کی مدت :۔
-
ہمارے شب وروز کے مطابق فتنہ دجال کی مدت ایک سال دو ماہ اور دو ہفتہ ہوگی :۔
-
”حضرت نواس بن سمعان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں ایک روز رسول اکرم ﷺ نے دجال کا ذکر فرمایا اور نصیحت فرمائی ’اے اللہ کے بندو! ثابت قدم رہنا‘۔ ہم نے عرض کیا ’دجال کتنی مدت تک زمین میں رہے گا؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’چالیس روز، جن میں سے پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا دوسرا دن ایک مہینہ کے برابر ہوگا اور تیسرا روز ہفتہ کے برابر ہوگا اور اسکے بعد ۳۷ روز تمہارے شب وروز کے برابر ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا ’یا رسول اللہ ﷺ پہلا دن جو سال کے برابر ہوگا اس میں ایک دن کی نمازیں ہی کافی ہوگی؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ’نہیں اپنے روز و شب کا اندازہ کر کے نمازیں پڑھنا‘ (صحیح مسلم)“