بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عید الاضحی (احادیث کی روشنی میں)
-
”حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ عید الفطر کی نماز کیلئے کچھ کھا کے تشریف لے جاتے تھے اور عید الاضحی کے دن نماز پڑھنے تک کچھ نہیں کھاتے تھے “۔ (جامع ترمذی ، سُنن ابن ماجہ)
-
”حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عید کے دن راستہ بدل دیتے تھے “ ۔ (صحیح بخاری)
-
”حضرت صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :۔ ذی الحجہ کی دسویں تاریخ یعنی عید الاضحی کے دن فرزند آدم کا کوئی عمل اللہ کو قربانی سے زیادہ محبوب نہیں، اور قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کیساتھ (زندہ ہو کر) آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی رضا و مقبولیت کے مقام پر پہنچ ہے، پس اے خدا کے بندوں دل کی پوری خوشی سے قربانیاں کیا کرو “ ۔ (جامع ترمذی ، سُنن ابن ماجہ)
-
”حنش بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے دیکھا تو میں نے اُن سے عرض کیا کہ :۔ یہ کیا ہے (یعنی آپ بجائے ایک کے دو مینڈھوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں؟) ۔ انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ کیطرف سے بھی قربانی کیا کروں، تو ایک قربانی میں آپ کی جانب سے کرتا ہوں“۔ (جامع ترمذی)
-
”حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیاہی وسفیدی مائل دو مینڈھوں کی قربانی کی اپنے دست مبارک سے ان کو ذبح کیا اور ذبح کرتے وقت ”بِسمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکبَر“ پڑھا۔ میں نے دیکھا کہ اس وقت آپ ﷺ اپنا پاؤں ان کے پہلو پر رکھے ہوئے تھے اور زبان سے ”بِسمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکبَر“ کہتے جاتے تھے“۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
-
”حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ قربانی میں کیسے جانوروں سے پرہیز کیا جائے (یعنی وہ کیا عیوب اور خرابیاں ہیں جن کی وجہ سے جانور قربانی کی قابل نہیں رہتا) ۔ آپ ﷺ نے ہاتھ سے اشارہ فرمایا اور بتا یا کہ چار (۴) (یعنی چار عیوب اور نقائص ایسے ہیں کہ ان میں سے کوئی عیب نقص اگر جانور میں پایا جائے تو وہ قربانی کے قابل نہیں رہتا)۔ ایک ایسا لنگڑا جانور جس کا لنگڑا پن کھلا ہوا ہو (کہ اس کیوجہ سے اسکو چلنا بھی مشکل ہو)۔ دوسرے وہ جسکی ایک آنکھ خراب ہو گئی ہو، اور وہ خرابی بالکل نمایاں ہو۔ تیسرے وہ جو بہت بیمار ہو۔ چوتھے وہ ایسا کمزور اور لاغر ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا بھی نہ رہا ہو“۔ (جامع ترمذی ، سُنن ابن ماجہ)
-
”حضرت جندب بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ میں عید قرباں کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ ﷺ عید کی نماز سے فارغ ہوئے آپ کی نگاہ قربانیوں کے گوشت پر پڑی، یہ قربانیاں نماز سے فارغ ہونے کے قبل ہی ذبح کی جا چکی تھیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ جن لوگوں نے نماز سے پہلے قربانی کر دی ہے وہ اسکی جگہ دوسری قربانی کریں“ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
-
”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کو عمل صالح جتنا ان دس دنوں میں محبوب ہے اتنا کسی دوسرے دن میں نہیں“۔ (صحیح بخاری)
-
”اُمّ المومنین حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:۔ جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہو جائے (یعنی ذی الحجہ کا چاند دیکھ لیا جائے) اور تم میں سے کسی کا ارادہ قربانی کرنے کا ہو تو اُس کو چاہئے کہ اب قربانی کرنے تک اپنے بال یا ناخن بالکل نہ تراشے “۔ (صحیح مسلم)
English Translation
In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ʿĪd al-Aḍḥā (In the Light of Ḥadīth)
Buraydah (may Allah be pleased with him) narrated that it was the practice of the Messenger of Allah ﷺ that he would eat something before going for the prayer of ʿĪd al-Fiṭr, and on the day of ʿĪd al-Aḍḥā he would not eat anything until after performing the prayer.
(Jāmiʿ al-Tirmidhī, Sunan Ibn Mājah)
Jābir (may Allah be pleased with him) narrated that on the day of ʿĪd, the Messenger of Allah ﷺ would take a different route when returning.
(Ṣaḥīḥ al-Bukhārī)
ʿĀʾishah al-Ṣiddīqah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “On the tenth day of Dhū al-Ḥijjah, the day of ʿĪd al-Aḍḥā, no deed of the son of Ādam is more beloved to Allah than the offering of sacrifice. The sacrificial animal will come on the Day of Resurrection with its horns, hair, and hooves, and the blood of the sacrifice reaches a station of acceptance with Allah before it falls upon the ground. Therefore, O servants of Allah, perform the sacrifice with a contented heart.”
(Jāmiʿ al-Tirmidhī, Sunan Ibn Mājah)
Ḥanash ibn ʿAbdullāh narrated that he saw ʿAlī al-Murtaḍā (may Allah be pleased with him) offering the sacrifice of two rams. He said: I asked him, “What is this (why do you offer two rams instead of one)?” He replied: “The Messenger of Allah ﷺ instructed me to offer a sacrifice on his behalf as well, so I offer one on his behalf.”
(Jāmiʿ al-Tirmidhī)
Anas (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ sacrificed two rams with black and white markings. He slaughtered them with his own blessed hands and recited: “Bismi Allāhi wa-Allāhu akbar.” I saw that he placed his foot upon their sides and continued reciting: “Bismi Allāhi wa-Allāhu akbar.”
(Ṣaḥīḥ al-Bukhārī, Ṣaḥīḥ Muslim)
Al-Barāʾ ibn ʿĀzib (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ was asked about the animals that should be avoided in sacrifice (that is, the defects which render an animal unfit for sacrifice). He gestured with his hand and said: “Four (defects render an animal unsuitable): a clearly lame animal whose lameness is evident; one whose eye is defective and the defect is apparent; one that is seriously ill; and one that is extremely weak and emaciated such that there is no marrow in its bones.”
(Jāmiʿ al-Tirmidhī, Sunan Ibn Mājah)
Jundub ibn ʿAbdullāh (may Allah be pleased with him) narrated: I was present with the Messenger of Allah ﷺ on the day of ʿĪd al-Aḍḥā. When he completed the prayer, he noticed that some sacrifices had already been slaughtered before the prayer. He said: “Whoever slaughtered before the prayer should offer another sacrifice in its place.”
(Ṣaḥīḥ al-Bukhārī, Ṣaḥīḥ Muslim)
Ibn ʿAbbās (may Allah be pleased with him) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “No righteous deeds are more beloved to Allah than those performed during these ten days.”
(Ṣaḥīḥ al-Bukhārī)
Umm al-Muʾminīn Umm Salamah (may Allah be pleased with her) narrated that the Messenger of Allah ﷺ said: “When the first ten days of Dhū al-Ḥijjah begin and one of you intends to offer a sacrifice, he should not cut any of his hair or nails until he performs the sacrifice.”
(Ṣaḥīḥ Muslim)