بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز میں جائز امور (۱) (احادیث کی روشنی میں)
نماز میں اللہ کے خوف سے رونا درست ہے :-
-
”حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھا نماز میں رونے کی وجہ سے آپ ﷺ کے سینے سے ہانڈی کے جوش کی آواز آ رہی تھی“۔ (سنن ابو داؤد ، سنن نسائی)
نماز میں بیماری یا بڑھاپے کی وجہ سے عصا پر ٹیک لگانا یا کرسی وغیرہ استعمال کرنا جائز ہے :-
-
”حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی عمر مبارک جب زیادہ ہو گئی تو آپ ﷺ نماز کی جگہ پر عصا رکھتے اور دوران نماز اس سے ٹیک لگا لیتے“۔ (سنن ابو داؤد)
بڑھاپے یا بیماری کی وجہ سے نفل نماز کا کچھ حصہ کھڑے ہو کر اور کچھ حصہ بیٹھ کر پڑھنا جائز ہے :-
-
”حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو رات کی نماز کبھی بیٹھ کر پڑھتے نہیں دیکھا۔ البتہ جب آپ ﷺ عمر مبارک زیادہ ہو گئی تو قرات بیٹھ کر فرماتے اور جب تیس چالیس آیتیں باقی رہ جاتیں تو کھڑے ہو جاتے اور باقی قرات پوری کر کے رکوع فرماتے“۔ (صحیح مسلم)
تکلیف دہ اور مضر چیز کو نماز کی حالت میں مارنا جائز ہے :-
-
”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز میں سانپ اور بچھو کو مار دو“۔ (سنن ابو داؤد)
کسی عذر کے باعث سجدے کی جگہ سے مٹی یا کنکر وغیرہ ہٹانے ہوں تو ایک مرتبہ دوران نماز ایسا کیا جا سکتا ہے :-
-
”حضرت معیقیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے سجدہ کی جگہ سے مٹی برابر کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا ”اگر ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کرلے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
سجدے میں کپڑے یا بال سنوارنا منع ہے لیکن سجدے کی جگہ سے ایک مرتبہ صرف مٹی یا کنکر ہٹا سکتے ہیں اور یہ بھی اگر بہت ضروری ہو، بلا ضرورت ایسا کرنا منع ہے۔
نماز میں بچے کو اٹھانے سے نماز باطل نہیں ہوتی :-
-
”حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس حالت میں نماز پڑھاتے دیکھا ہے کہ ابو العاص کی بیٹی امامہ رضی اللہ عنہا (حضور اکرم ﷺ کی نواسی) آپ ﷺ کے کندھوں پر تھی آپ ﷺ رکوع فرماتے تو امامہ رضی اللہ عنہا کو اتار دیتے اور جب سجدے سے فارغ ہوتے تو پھر اسے اٹھا لیتے“۔ (صحیح بخاری ، صحیح مسلم)
دوران نماز کوئی سوچ آنے پر نماز باطل نہیں ہوتی :-
-
”حضرت عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ نماز کے بعد حضور اکرم ﷺ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے پاس چلے گئے پھر واپس تشریف لائے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم کے چہروں پر تعجب کے آثار دیکھے تو آپ ﷺ نے فرمایا ”مجھے نماز کے دوران یاد آیا کہ ہمارے گھر میں سونا ہے اور مجھے ایک دن یا ایک رات کیلئے بھی اپنے گھر میں سونا رکھنا پسند نہیں لہذا میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے“۔ (صحیح بخاری)
بہت سے لوگوں کو نماز کے متعلق بنیادی چیزوں کے بارے میں بھی نہیں پتہ، اگر ہمارے کاروبار نقصان میں جانا شروع ہو جائے، یا ہمارے افسر ہم سے ناراض ہو جائیں تو ہمیں فوراً فکر ہوتی ہے کہ اس نقصان کی وجہ کیا ہے۔ لیکن افسوس ہماری نماز خراب ہو رہی ہو تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہوتی، جو کہ اصل نقصان ہے، اللہ ہمیں اسکی فکر کرنے کی بھی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔